کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں زیارت واقعے میں شہید سکیورٹی اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے چند روز قبل مستونگ میں باغات کاٹنے کے حوالے سے بیان دیا تھا، وزیراعلیٰ اپنے بیان کے حوالے سے وضاحت دیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ مستونگ کے علاقے میں دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں، سکیورٹی فورسز گرے ایریا میں آپریٹ کرتی ہیں، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کیا گیا۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی رہنما سیاسی ا سکورنگ کے لیے میرے بیان کو استعمال کرتے ہیں، کب کمانڈر 12 کور نے کہا کہ آپ بندوق اٹھا لیں؟ اگر پرائیوٹ پراپرٹی سے کوئی فائرنگ ہو رہی ہے تو اسے میں کیا سمجھوں؟وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ریاست زمیندار سے دہشت گردوں کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، میں کیسے مانوں کہ آپ کے باغات میں دہشت گرد موجود ہوں اور آپ کو معلوم نہ ہو؟ مسلسل پرائیوٹ پراپرٹیز سکیورٹی فورسز اور حکومتی نمائندوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ جب بھی ان کی پرائیویٹ پراپرٹی استعمال ہوگی تو اسے خالی کرنا پڑے گا، بلوچستان کے لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی پراپرٹی دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں















