گولارچی (نمائندہ جسارت) ختمِ نبوت کانفرنس اور عوامی حقوق کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے رہنما علامہ راشد محمود سومرو نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ختمِ نبوت کے قانون کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، جبکہ سندھ کی وحدت، میرٹ، تعلیم، روزگار اور بنیادی عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر 21 روز تک اجلاس جاری رہا، جبکہ 11 روز تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجاً بیٹھ کر اپنا مؤقف ریکارڈ کرایا گیا۔ وزیراعظم کے سامنے بھی واضح مؤقف پیش کیا کہ قادیانی کافر ہیں۔راشد محمود سومرو نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ختمِ نبوت کے قانون کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے بعض قوانین اور بلوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دو بیٹے ہیں، جن میں سے ایک صوبوں کے قیام کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسرا مخالفت کرتا ہے۔ ہماری جدوجہد کسی ذاتی یا سیاسی تنازع کے لیے نہیں بلکہ سندھ کے نوجوانوں کے روزگار، اسکولوں کی عمارتوں، معیاری تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کیلیے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے کہا کہ ’’سندھ ایک ہے اور آپ کتنے ہی بل منظور کرلیں، سندھ ایک ہی رہے گا۔‘‘ انہوں نے میرٹ کی پامالی، مبینہ طور پر پیسوں کے عوض ملازمتوں اور کرپشن کے معاملات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو ان معاملات کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔راشد محمود سومرو نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق، میرٹ، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی تک ان کی آواز بلند کی جاتی رہے گی اور عوامی حقوق کی جدوجہد کسی صورت ترک نہیں کی جائے گی۔















