ستمبر 65ء کی جنگ کے وقت دشمن کی فوج نے ہم پر حملہ کیا اور 6 ستمبر ہی کی رات جب سائرن بجنا شروع ہوئے تو بلیک آئوٹ ہونے کے باوجود لوگ گھروں کی چھتوں پر یا کھلے میدان میں آگئے تاکہ حملہ کے لیے آنے والے بھارتی جہازوں کا مشاہدہ کر سکیں اس وقت ریڈیو پاکستان پر قومی ترانوں کے ذریعے عوام کے دل گرمائے جاتے اور ان میں پاکستان کے ساتھ محبت اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ اجاگر کیا جاتا۔ مادام نور جہاں کے ملی نغموں کی دھوم مچ گئی اس وقت کی حکومت نے ’’ٹیڈی پیسہ دو ٹینک‘‘ کے نام سے فنڈ قائم کیا تو اس فنڈ کے لیے مختلف مقامات پر رکھے گئے گلّے پلک جھپکتے میں بھرنے لگے۔ بچے، بوڑھے، نوجوان گلیوں بازاروں میں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر ’’غازیو‘ مجاہدو‘ جاگ اُٹھا ہے سارا وطن‘‘… جیسے ملی نغموں کی بلند آہنگ کے ساتھ لَے جماتے اور تان اُٹھاتے تو فضائوں میں وطن کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو بکھر کر وجدوکیف کا ماحول گرما دیتی۔ قوم کا بچہ بچہ اپنی جری و بہادر سپاہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتا نظر آتا۔ پورے ملک میں مثالی ہم آہنگی کی فضا استوار ہوتی نظر آئی۔ یہ جذبہ ایسا تھا کہ لوگ غلیلوں سے پرندوں کی طرح بھارتی جہاز بھی شکار کرنے کی لگن سے سرشار نظر آتے تھے۔ ایسے جذبے والی قوم کو بھلا کون شکست دے سکتا ہے۔
ستمبر 65 ء کی جنگ قوم کی ایسی ہی تابناکیوں کا شاہکار بنی اور بھارت کو گھٹنے ٹیک کر جنگ بندی کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ قوم میں دفاعِ وطن کے لیے وارفتگی والا یہ جذبہ 60 سال بعد مئی 2025ء کے دوسرے ہفتے اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارت کی جنونی مودی سرکار نے پہلگام ڈراما رچانے کے بعد ستمبر 65ء ہی کی طرح رات کی تاریکی میں پاکستان کی مختلف شہری آبادیوں پر اچانک ڈرون حملوں کا آغاز کیا تو ہماری افواج جدید ترین ہتھیاروں، جنگی جہازوں اور سائبر ٹیکنالوجی سے بھی لیس تھیں ہماری مسلح افواج نے بھارتی ڈرونز اور رافیلز کا بھرکس نکالا سو نکالا، پوری قوم بھی اس مکار دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں اُتر آئی اور دنیا نے دیکھا کہ پیر و جوان اور بچے تک ہاتھوں میں بندوقیں اور عام استعمال کے دوسرے اسلحہ سے لے کر غلیلیں تک ہاتھوں میں تھامے پبلک مقامات اور کھیتوں کھلیانوں میں دشمن کے ڈرونز کی جانب نشانے باندھ رہے تھے۔ دفاع وطن کے اس بے پایاں جذبے نے ہی دشمن کو ستمبر 65ء کی طرح راہِ فرار اختیار کرنے اور جنگ بندی پر آنے پر مجبور کیا۔ اور پھر دس مئی 2025ء کا وہ یادگار دن ہمارے قومی عسکری تفاخر کا باعث بنا جو دشمن پر آپریشن بنیانِ مرصوص میں فتحِ مبین کی نوید لے کر آیا۔
آج پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور بھارت کے سر پر اس وقت بھی جنگ کا بھوت سوار ہے اسے اپنی دس مئی والی ہزیمت سے تو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آج عرصہ دراز تک چلنے والی روایتی جنگ کا زمانہ لد چکا ہے۔ اب تو بس چٹکی بجانے کی دیر ہوگی اور اس دھرتی پر موجود ہر ذی روح سمیت سب کچھ جل کر راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ کیا مودی سرکار کو اس حقیقت کا علم نہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی وار ہیڈز بھارت سے کہیں زیادہ ہیں اور پھر ہمارے ٹیکٹیکل ہتھیار تو محدود رینج میں سب کچھ جلا کر بھسم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا نظارہ بھارت کے بچے بچے نے دس مئی کو کر بھی لیا ہے۔ ہم نے 65ء کی روایتی جنگ میں اس شاطر دشمن کے قدم نہیں جمنے دیے تھے اور ہماری جری و غیور سپاہ بہادری کے ساتھ رواں سال دس مئی کو بھی دشمن کو ڈھیر کرکے دنیا کو حیران کیا ہے تو پھر جنونی مودی سرکار کس کھیت کی مولی ہے۔ وہ ہمارے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کرے گی تو اسے پتا بھی نہیں چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا بیت گئی ہے۔ تو خبردار رہیے، دشمن کے جہاز مار گرانے والا جذبہ بھی قائم و برقرار ہے اور آج ہم ہر قسم کی جنگی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہیں۔
ہم ان ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے وطن پر قربان کردیے۔ ہم ان بیواؤں اور بچوں کے صبر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کے پیارے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ہم ان جوانوں کے ممنون ہیں جو برف پوش پہاڑوں، دشوار گزار وادیوں، تپتے صحراؤں، سمندری حدود اور فضاؤں میں شب و روز بیدار اور چوکس رہ کر ہمارے امن، آزادی اور سکون کی ضمانت بنتے ہیں۔ لیکن دفاعِ پاکستان صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، قومی اتحاد، جدید تعلیم، سائنسی تحقیق، اطلاعاتی سلامتی اور نوجوان نسل کی فکری تربیت بھی قومی دفاع کے بنیادی ستون ہیں۔ افواج دشمن کے حملے کو روک سکتی ہیں، لیکن ایک مضبوط اور ناقابل ِ تسخیر پاکستان کی تعمیر پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ آج 6 ستمبر کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے۔ نفرت اور انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔ اپنے قومی اداروں کو مضبوط کریں گے اور پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور نظریاتی شناخت کی حفاظت کریں گے۔ اپنی خودمختاری، سرحدوں اور قومی وقار کے دفاع سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں۔
آئیے آج اپنے شہداء کے حضور عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے یہ عہد کریں: ہم اپنے وطن کے دفاع، استحکام اور ترقی کے لیے متحد رہیں گے۔ ہم شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر جارحانہ نگاہ کے مقابلے میں پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور اس پاک سرزمین کو امن، اتحاد اور ترقی کا گہوارہ بنائے۔















