غزہ جلتا رہا، مائیں اپنے بچوں کو کھوتی رہیں، باپ اپنے لخت ِ جگر کو ملبے کے ڈھیروں میں تلاش کرتے رہے، بچے اپنے گھروں کے بجائے خیموں اور کھنڈرات میں بڑے ہونے پر مجبور ہوتے رہے، اسپتال زخمیوں سے بھرے رہے اور بھوک، خوف اور بے بسی نے لاکھوں زندگیوں کو گھیرے رکھا۔ دوسری طرف دنیا کی ایک بڑی تعداد کچھ دیر کے لیے افسوس کرتی، چند الفاظ لکھتی، سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کرتی اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں واپس لوٹ جاتی۔ سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ غزہ میں ظلم ہوتا رہا؛ المیہ یہ ہے کہ ہمیں ظلم کی خبر سننے کی عادت ہوتی گئی۔ وہ مناظر جنہیں دیکھ کر کبھی دل دہل جاتا تھا، رفتہ رفتہ معمول کی خبر بن گئے۔ شہادت کی خبر آئی، چند پوسٹیں ہوئیں، مذمتی بیانات جاری ہوئے، کچھ دیر بحث ہوئی اور پھر اگلی خبر نے اس خبر کو ڈھانپ لیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے آپ سے ایک تلخ سوال کرنا چاہیے: کیا غزہ کے مسلسل المیے نے ہمارے دلوں کو بھی تھکا دیا ہے؟ فلسطین آج صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں۔ غزہ صرف نقشے پر موجود ایک چھوٹا سا خطہ نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی غیرت، انسانی ضمیر اور ایمانی احساس کا امتحان ہے۔ یہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ جب ایک مظلوم قوم پر قیامت ٹوٹ رہی تھی تو تم نے کیا کیا؟ سوال یہ نہیں کہ غزہ پر کیا گزری۔ دنیا اس کی گواہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ کے درد نے ہمارے اندر کیا بدلا؟ کیا ہماری ترجیحات تبدیل ہوئیں؟ کیا ہم نے فلسطین کے بارے میں اپنی نئی نسل کو زیادہ بتایا؟ کیا ہم نے مسجدِ اقصیٰ کی اہمیت کو سمجھا اور سمجھایا؟ کیا ہماری گفتگو میں فلسطین زندہ رہا؟ کیا ہماری آواز مسلسل رہی یا چند دنوں کے جذبات کے بعد خاموش ہوگئی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ آج غزہ کا ذکر عالمی میڈیا میں پہلے جیسی شدت کے ساتھ دکھائی نہیں دیتا۔ دنیا میں ہر روز نئے واقعات جنم لیتے ہیں، نئی جنگیں، نئی سیاسی کشمکش، نئی معاشی خبریں اور نئے عالمی بحران سرخیاں بن جاتے ہیں۔ یوں غزہ، جس کا المیہ ابھی ختم نہیں ہوا، خبروں کی ترجیحات میں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں غزہ کو میڈیا کی خاموشی میں دفن نہیں ہونے دینا۔ اگر دنیا غزہ کو بھولنے لگے تو ہمیں اسے یاد دلانا ہوگا۔ اگر میڈیا کی توجہ کم ہوجائے تو ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی مصلحتوں میں الجھ جائیں تو ہمیں کم از کم اپنے ضمیر کو زندہ رکھنا ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ فلسطین کے ذکر کو دوبارہ تازہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا نے آج ہر عام انسان کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے دیا ہے جو پہلے صرف بڑے میڈیا اداروں کے پاس تھا۔ ایک شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ پھر ہم اس طاقت کو غزہ کے مظلوموں کی آواز بنانے کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ہمیں فلسطین کے بارے میں مسلسل لکھنا چاہیے۔ مستند معلومات شیئر کرنی چاہئیں۔ غزہ کے انسانی المیے کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔ وہاں کے بچوں، ماؤں، زخمیوں، بے گھر خاندانوں اور تباہ شدہ بستیوں کی داستان دنیا کو یاد دلانی چاہیے۔ ہمیں صرف جذباتی پوسٹیں نہیں بلکہ تحقیق، دلیل، اعداد و شمار اور انسانی کہانیوں کے ذریعے فلسطین کو دوبارہ گفتگو کا موضوع بنانا ہوگا۔ کیونکہ یاد رکھیے، ظلم صرف بموں سے نہیں جیتتا، کبھی کبھی خاموشی سے بھی جیت جاتا ہے۔
جب مظلوم کی آواز دب جائے، جب اس کی داستان سنانے والا کوئی نہ رہے، جب لوگ کہنا شروع کردیں کہ ’’اب تو یہ پرانی خبر ہے‘‘، تب ظالم کے لیے سب سے خطرناک رکاوٹ کمزور پڑ جاتی ہے۔ ہمیں یہ رکاوٹ بننا ہے۔ قرآن مجید ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو‘‘۔ یہ حکم کسی مخصوص زمانے یا مخصوص قوم تک محدود نہیں۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مظلوم جہاں بھی ہو، اس کے حق کو تسلیم کیا جائے۔اور رسول اللہؐ نے اہل ایمان کو ایک جسم قرار دیا۔ جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔ پھر اگر غزہ کے بچے بھوک سے تڑپیں، مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائیں اور خاندان ملبے تلے دب جائیں تو کیا امت کا دل بے چین نہیں ہونا چاہیے؟ یہ سوال ہمارے لیے ہے۔ یقینا ہر شخص کے پاس جنگ روکنے کی طاقت نہیں۔ ہر انسان حکومت نہیں، سفارت کار نہیں، فوجی نہیں۔ لیکن ہر انسان کے پاس زبان ہے، قلم ہے، شعور ہے اور آواز ہے۔ ایک قلمکار لکھ سکتا ہے۔ ایک صحافی خبر کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ ایک استاد طلبہ کو فلسطین کی تاریخ اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت بتا سکتا ہے۔ ایک خطیب جمعہ کے منبر سے امت کا شعور بیدار کرسکتا ہے۔ ایک نوجوان سوشل میڈیا پر مستند مواد پھیلا سکتا ہے۔ ایک صاحبِ استطاعت انسان مستند امدادی ذرائع کے ذریعے ضرورت مندوں تک مدد پہنچا سکتا ہے۔ اور ایک عام مسلمان کم از کم اتنا تو کرسکتا ہے کہ غزہ کو بھولنے سے انکار کردے۔ یہ کام بظاہر چھوٹے ہیں، مگر تاریخ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں آتیں۔ کبھی ایک آواز دوسری آواز سے ملتی ہے، پھر ہزاروں آوازیں بن جاتی ہیں اور آخرکار وہ ایک ایسی اجتماعی طاقت بن جاتی ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔
غزہ کے مظلوم ہمیں صرف اپنے زخم نہیں دکھا رہے، وہ ہمیں استقامت بھی دکھا رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے گھر کھو دیے، اپنے عزیز کھو دیے، اپنی آسائشیں کھو دیں، مگر اپنے حق اور اپنی شناخت سے دستبردار نہیں ہوئے۔ نبی کریمؐ کے امتی آج اپنے خون اور قربانی سے تاریخ کے صفحات لکھ رہے ہیں۔ اور ہم سے کم از کم یہ مطالبہ تو ہے کہ ہم ان صفحات کو پڑھیں، یاد رکھیں اور دنیا کو پڑھائیں۔ فلسطین کو صرف ایک سیاسی نعرہ بنا دینا کافی نہیں۔ فلسطین کو ایک زندہ شعور بنانا ہوگا۔ ہماری نسلوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخ کیا ہے، فلسطینی عوام کا مسئلہ کیا ہے، قبضے اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کیا ہے اور عالمی سیاست نے اس مسئلے کو کس طرح پیچیدہ بنایا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ فلسطین سے محبت کا مطلب کسی قوم سے نفرت نہیں، بلکہ مظلوم کے حق میں کھڑا ہونا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا انسانیت ہے، عدل ہے اور ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔ آج شاید کوئی بچہ ہم سے نہ پوچھے کہ غزہ کے وقت تم کہاں تھے، مگر تاریخ ضرور پوچھے گی۔ آنے والی نسلیں شاید ہم سے سوال کریں: جب غزہ کے بچے ملبے تلے دب رہے تھے تو تم کیا کر رہے تھے؟ جب مائیں اپنے بچوں کو دفن کر رہی تھیں تو تمہاری آواز کہاں تھی؟ جب دنیا غزہ کو بھول رہی تھی تو کیا تم نے اسے یاد رکھا؟ ہمیں ان سوالات کے جواب آج سے تیار کرنے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں میں فلسطین کا ذکر زندہ رکھنا ہے۔ اپنی تحریروں میں فلسطین کو جگہ دینی ہے۔ اپنی گفتگو میں فلسطین کو موضوع بنانا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پر مستند فلسطینی آوازوں کو جگہ دینی ہے۔ اور جہاں ممکن ہو، مظلوموں کی مدد کرنی ہے۔ کیونکہ غزہ کا مسئلہ ختم نہیں ہوا صرف اس لیے کہ دنیا کی توجہ کم ہوگئی ہے۔
خبر خاموش ہوسکتی ہے، المیہ خاموش نہیں ہوتا۔ سرخیاں بدل سکتی ہیں، مگر ملبے تلے دبے بچوں کی چیخیں تاریخ سے نہیں مٹتیں۔ دنیا اپنی مصروفیات میں واپس جاسکتی ہے، مگر ہمارا ضمیر ہمیں واپس نہیں جانے دینا چاہیے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم ایک بار پھر غزہ کو اپنی گفتگو کا مرکز بنائیں۔ فلسطین کے لیے آواز بلند کریں۔ دنیا کو یاد دلائیں کہ وہاں انسان بستے ہیں، بچے بستے ہیں، مائیں ہیں، باپ ہیں، خاندان ہیں، خواب ہیں اور ایک پوری قوم ہے جو اپنے حق کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ غزہ کو میڈیا سے غائب نہ ہونے دیں۔ غزہ کو اپنی یادداشت سے غائب نہ ہونے دیں۔ غزہ کو اپنی دعاؤں سے غائب نہ ہونے دیں۔ اور فلسطین کو اپنی نسلوں کے شعور سے غائب نہ ہونے دیں۔ یہ محض ایک سیاسی مہم نہیں۔ یہ محض سوشل میڈیا کا ٹرینڈ نہیں۔ یہ محض چند جذباتی پوسٹوں کا معاملہ نہیں۔ یہ انسانیت کا تقاضا ہے، یہ ضمیر کی پکار ہے، یہ ایمانی ذمے داری ہے اور یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو شاید سب سے اہم سوال یہ نہ ہو کہ غزہ میں کیا ہوا؛ بلکہ یہ ہوگا کہ غزہ کے جلتے ہوئے ملبے کے سامنے دنیا کا ضمیر کہاں کھڑا تھا؟ ہمیں کوشش کرنی ہے کہ ہمارا جواب شرمندگی نہیں بلکہ گواہی ہو۔ گواہی کہ ہم نے مظلوم کو بھلایا نہیں۔ گواہی کہ ہم نے ظلم کو معمول بننے نہیں دیا۔ گواہی کہ جب دنیا کی نظریں دوسری طرف مڑ رہی تھیں، ہم نے فلسطین کی طرف دیکھنا جاری رکھا۔ اور گواہی کہ غزہ جلتا رہا، مگر ہمارے دلوں کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔















