پوری دنیا میں جنسی درندگی بڑھتی جارہی ہے۔ عورتیں مردوں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں، پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے مگر صرف نام کا۔ اس اسلامی جمہوریہ میں بھی جنسی درندگی روز افزوں ہے۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی جارہی ہیں، پانچ پانچ، سات سات اور دس دس سال کی معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں۔ ایسے واقعات ملک کے ہر حصے میں ہورہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ہی جنسی درندوں کے نرغے میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا سبب کیا ہے؟
اردو کے ممتاز ادیب رشید احمد صدیقی نے ایک ایسا معرکہ آرا فقرہ لکھا ہے کہ ایسا معرکہ آرا فقرہ کسی امام غزالی یا کسی محی الدین ابن عربی سے ہی سرزد ہوسکتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے لکھا ہے کہ جس شخص کا تصورِ عورت پست ہوتا ہے اس کا تصورِ خدا بھی پست ہوتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے اس فقرے کی وضاحت نہیں کی، چنانچہ وضاحتاً عرض ہے کہ مرد خدا کی ذات اور عورت خدا کی صفت رحمت کی مظہر ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی جواز کے بغیر عورت کی توہین کرتا ہے وہ دراصل خدا کی صفت رحمت کی توہین کرتا ہے۔ چنانچہ اس کا تصورِ خدا از خود پست ہوجاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان جیسے اسلامی ملک میں عورتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی جنسی درندگی دراصل پاکستانی معاشرے کے مردوں کے تصورِ عورت اور اس اعتبار سے ان کے تصورِ خدا کی پستی کا ثبوت ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں کا تصورِ عورت بہت بلند تھا۔ اس لیے کہ عورت کا صرف ایک روپ نہیں تھا۔ وہ ماں تھی اور اس کے قدموں تلے جنت تھی، وہ دادی تھی اور نانی تھی اور ماں باپ کی طرح قابل احترام تھی۔ وہ خالہ تھی، پھوپھی تھی، وہ بہن تھی اور قابل تکریم تھی۔ وہ شریک حیات تھی اور جان نچھاور کیے جانے کے لائق تھی۔ اسلامی تاریخ نے عورتوں کے بہت بڑے بڑے کرداری نمونے بھی مسلمانوں کے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہؓ کا کرداری نمونہ سب سے بڑا تھا۔ اس لیے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ عائشہؓ کو ساری دنیا کی عورتوں پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی کھانے ثُرید کو باقی کھانوں پر۔ سیدہ عائشہؓ کا مرتبہ یہ ہے کہ دشمنوں نے ان کے کردار پر تہمت لگائی تو خدا نے قرآن کی ایک آیت کے ذریعے سیدہ عائشہؓ کے پاک دامن ہونے کی گواہی دی۔ سیدہ عائشہؓ صرف رسول اکرمؐ کی شریک حیات نہیں تھیں۔ وہ عالم اور فقیہ بھی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ آپ سے مسائل کا حل پوچھنے آتے۔ آپ کی فیاضی کا یہ عالم تھا کہ سیدنا عمرؓ کے زمانے میں آپ کی خدمت میں چار لاکھ دینار پیش کیے گئے جو آپ نے شام تک سارے کے سارے مستحقین میں بانٹ دیے اور اپنے لیے ایک دینار بھی بچا کر نہ رکھا۔ ایسے کرداری نمونوں کی وجہ سے اسلامی معاشرے کا تصورِ عورت بہت طویل عرصے تک بلند رہا۔
13 ویں صدی کے برصغیر میں التمش کی دختر نیک اختر رضیہ سلطانہ بھی بہت بلند قامت خاتون تھیں۔ وہ 1236 سے 1240 تک ہندوستان کے وسیع علاقے کی حکمران رہیں۔ رضیہ سلطانہ کا انصاف بے مثال تھا۔ اس کا بھائی ہاتھی پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں سے گزر رہا تھا کہ ایک ہندو کی بیٹی اپنے گھر کے صحن میں پردہ ڈال کر نہا رہی تھی مگر وہ پردہ اتنا بلند نہ تھا کہ ہاتھی پر بیٹھے ہوئے شخص کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکے۔ چنانچہ رضیہ کے بھائی نے اس ہندو لڑکی کو نہاتے ہوئے دیکھا۔ لڑکی کے باپ نے اس کی شکایت رضیہ سے کی۔ رضیہ اپنے بھائی پر اتنی ناراض ہوئی کہ کوڑوں سے اس پر تواضع کی گئی اور اسے ہندو سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
بیگم حضرت محل کا تعلق ہندوستان کے علاقے اودھ سے ہے۔ انگریزوں نے جب 1856ء میں اودھ پر قبضہ کیا تو بیگم حضرت محل نے انگریزوں کے خلاف اعلان جہاد کردیا اور اپنے لشکر کی قیادت کی۔
ہندوستان کے ہندو سماج نے بھی جھانسی کی رانی جیسا قابل احترام کردار پیدا کیا ہے۔ انگریزوں نے جھانسی کی رانی کے لے پالک بیٹے کو جھانسی کا حکمران ماننے سے انکار کردیا تو جھانسی کی رانی نے انگریزوں کی مسلح مزاحمت کی۔ اس نے 1857ء کی جنگ آزادی میں بھی انگریزوں کے خلاف داد شجاعت دی اور وہ 1858ء میں گوالیار میں انگریزوں کے خلاف لڑتی ہوئی ماری گئی۔
یہ تو تاریخ کے بڑے کردار تھے۔ ہماری خالہ سیدہ رئیسہ خاتون بھی ایک عظیم عورت تھیں اور ان کو دیکھ کر یہ شعر زبان پر آجاتا تھا۔
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
ہماری خالہ نے اپنے دو بہنوں کے چار بیٹوں کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے انہوں نے خود شادی نہیں کی۔ ان کا تعلق یوپی کے ضلع مظفر نگر کے ایک قصبے بگھرہ سے تھا۔ ان کا گھرانہ کسان گھرانہ تھا۔ وہ صبح ساڑھے چھے بجے سے رات دس بجے تک انتھک محنت کرتیں۔ وہ محلے میں قرآن کی تعلیم کا مرکز تھیں۔ ان سے درجنوں لڑکیوں نے قرآن پڑھا۔ کوئی مانگنے والا ان کے گھر سے کبھی خالی ہاتھ نہ جاتا۔ ہم نے اپنی 26 کتابوں میں سے دو کتابیں ان کے نام معنوں کی ہیں۔ ہم نے ان کے لیے یہ شعر بھی کہہ رکھا ہے۔
یہ جہاں ایک تماشا ہے سبھی کہتے ہیں
تم نہ ہوتے تو اسے ہم بھی تماشا کہتے
برصغیر کے معاشرے میں عورت کو محبوب کے طور پر بھی بہت چاہا گیا ہے اور اس کی بڑی تکریم کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ فلموں میں بھی عورت سے محبت کی یادگار کہانیاں پیش کی گئی ہیں۔ دلیپ کمار اور سچتراسین کی دیوداس 1955ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ دلیپ کمار نے اس فلم میں دیو داس اور سچترا سین نے پارو کا کردار ادا کیا ہے۔ دیو داس کو پارو سے ایسی محبت تھی کہ اس کی پوری زندگی ’’پارو مرکز‘‘ ہوگئی تھی۔ کہنے کو یہ ایک رومانوی فلم تھی مگر اس وقت تک فلموں میں بھی محبت کی اتنی تقدیس تھی کہ دلیپ کمار نے پاور کو ٹھیک طرح سے دیکھا بھی نہیں۔ دیوداس سرت چندر چٹ اپادھیائے کے ناول سے ماخوز تھی۔ اسی ناول پر 2002ء میں ایک اور دیوداس بنائی گئی۔ جس میں شاہ رخ خان اور ایشوریہ رائے نے دیوداس اور پارو کے کردار ادا کیے ہیں۔ سن 2002ء تک آتے آتے ہندوستان کی فلم انڈسٹری اتنی زوال آمادہ ہوچکی تھی کہ شاہ رخ خان کی دیوداس دلیپ کمار کی دیوداس کے مقابلے پر لچر، بیہودہ اور فحش محسوس ہوتی ہے۔ موضوع ایک ہے مگر 2002ء میں بھارتی فلمی صنعت کا تصورِ عورت پست ہوچکا تھا۔ یہ پستی شاہ رخ کی دیوداس میں جگہ جگہ چھلانگیں مارتی نظر آتی ہے۔
مغل اعظم ہندوستان کی سب سے بڑی فلم مانی جاتی ہے۔ اس فلم میں شہزادہ سلیم کو محل کی ایک کنیز انار کلی سے محبت ہوجاتی ہے۔ یہ بات اکبر بادشاہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ مگر سلیم یعنی جہانگیر کے لیے محبت مقدس ہے اور یہ مقدس محبت بادشاہت اور رعیت کے فرق کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ جہانگیر اکبر کے خلاف اعلان بغاوت کردیتا ہے۔ اس فلم کا تصورِ عورت اور تصورِ محبت بلند ہے۔ اتنا بلند کہ اس میں ایک ’’انقلابی شان‘‘ پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ انقلابی شان مغل اعظم کے لیے لکھے گئے شکیل بدایونی کے اس گیت سے ظاہر ہے۔
وفا کی راہ میں عاشق کی عید ہوتی ہے
خوشی منائو محبت شہید ہوتی ہے
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد، اے محبت زندہ باد
دولت کی زنجیروں سے تو رہتی ہے آزاد
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد
مندر میں مسجد میں تُو اور تُو ہی ہے ایمانوں میں
مُرلی کی تانوں میں تُو اور تُو ہی ہے اَذانوں میں
تیرے دم سے دین دھرم کی دنیا ہے آباد
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد
پیار کی آندھی رُک نہ سکے گی نفرت کی دیواروں سے
خونِ محبت ہو نہ سکے گا خنجر سے تلواروں سے
مرجاتے ہیں عاشق زندہ رہ جاتی ہے یاد
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد
عشق بغاوت کر بیٹھے تو دُنیا کر رُخ موڑ دے
آگ لگا دے محلوں میں اور تخت ِ شاہی چھوڑ دے
سینہ تانے موت سے کھیلے کچھ نہ کرے فریاد
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد
تاج و حکومت جس کا مذہب پھر اس کا اُس کا ایمان کہاں
جس کے دل میں پیار نہ ہو وہ پتھر ہے انسان کہاں
پیار کے دشمن ہوش میں آ ہو جائے گا برباد
زندہ باد، زندہ باد
اے محبت زندہ باد
ہمارے زمانے تک آتے آتے فلمی ’’محبت‘‘ مکمل طور پر ’’ہوس‘‘ میں ڈھل گئی ہے۔ محبت اور ہوس میں کیا فرق ہے۔ آئیے یہ جاننے کے لیے سلیم احمد سے رجوع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہوس کو بھی محبت جسے
نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا
اس شعر کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی فلم انڈسٹری ہو یا پاکستان کی دونوں جگہ فلموں میں محبت کے نام پر ہوس فروخت کی جارہی ہے اور یہ ہوس تصورِ عورت کو پست سے پست تر کرتی جارہی ہے۔ اب عورت صرف جنس کی علامت ہے، صرف Sex Symbol ہے۔ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی سہولت نے جنسی غلاظت کو بچے بچے تک پہنچادیا ہے۔ جب آپ آٹھ دس سال کی عمر سے عورت کو صرف جنسی حیثیت سے دیکھنے لگیں گے تو پھر آپ کو عورت ایک ’’جنسی کھلونے‘‘ یا Sex Toy کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گی اور آپ اس کی کیا تکریم کریں گے اور اس سے کیا محبت کریں گے۔ میر تقی میر نے کہا تھا۔
دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
میر کہہ رہے ہیں میری شخصیت کے جتنے منفی پہلو ہیں عشق نے میر کے محبوب کو ان سب سے بچا لیا ہے۔ عشق کتنی بڑی چیز ہے اس کا اندازہ اقبال کے اس شعر سے کیا جاسکتا ہے۔ اقبال نے کہا ہے۔
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدئہ تصورات
اقبال کہہ رہے ہیں۔ عشق میری عقل و دل او نگاہ کا رہنما ہے اور اگر عشق نہ ہو تو دین اور شریعت بھی تصورات کے بت کدے کے سوا کچھ نہیں۔ بدقسمتی سے ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں اس میں لوگ عورت کیا خدا، رسول اور اسلام سے بھی عشق نہیں کررہے، چنانچہ معاشرے میں خرابیاں کیوں عام نہ ہوں۔















