ضرورت ہے اصل کی طرف پلٹنے کی

Jour

سیاست ہو یا معاشرت، معیشت ہو یا عدالت، تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا قانون سازی کرنے والے۔ ہر شعبۂ زندگی اپنی اصل سے دوری کے نتیجے میں آج پوری قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا نوحہ پڑھتا نظر آتا ہے۔ ثمرات دینے کے بجائے تمام ادارے عذاب بن گئے ہیں۔ وجہ وہی ہے اپنی اصل سے دوری۔ مڈل کلاس طبقہ بنیادی ضروریات زندگی کی عدم فراہمی اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور ہے جبکہ بے حس حکمران طبقہ سکھ چین کی بنسری بجا رہا ہے۔ باوجود اس کے کہ حکومت کے قلب اسلام آباد کے ایک معروف اسپتال میں چودہ نوزائیدہ بچے نرسری میں جل کر راکھ ہوگئے، باوجود اس کے کہ شہر کراچی میں ایک نوجوان تاجر دردناک طریقہ سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا اور ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کے غمزدہ والدین اور ہمدرد انصاف کے لیے سراپہ احتجاج ہیں، باوجود اس کے کہ یکے بعد دیگرے آئزل، آیت نور اور اس جیسے کتنے بچے درندگی سے دوچار ہوکر دنیا سے جا چکے۔ مگر حکمرانوں کی جبینوں پر پریشانی کی ایک لکیر تک نہیں آئی۔ آج جبکہ پوری قوم ان گنت مسائل کے ساتھ بد حالی کے دہانے پر ہے اسی عالم میں میلاد النبی شایان شان طریقے سے منانے کے لیے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ جبکہ فی الحقیقت حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ نبی پاکؐ کے دیے گئے اس نظام اور اپنی اس بنیاد کی طرف لوٹا جائے جس میں اس وقت کے درپیش تمام مسائل کا حل پنہاں ہے مگر افسوس کہ ہم وقتی خوشیوں کو پائیدار امن و امان پر ترجیح دینے والی قوم ہیں یا شاید ہم شارٹ کٹ کے عادی، لانگ ٹرم پلاننگ کی طرف جانا ہی نہیں چاہتے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ آج ہر جانب سراپا احتجاج لوگ اس نظام کے نفاذ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں جس میں حاکم وقت کو اپنی عوام کا اتنا خیال ہوتا کہ راتوں کو اُٹھ کر ان کی خبر گیری کے لیے نکل جاتے، اپنے کاندھوں پر اناج کی بوری لاد کر لوگوں کی ضرورت پوری کرتے، جو یہ سمجھتے کہ دریائے فرات پر اگر بکری کا بچہ بھی مر جائے تو جواب دہی ان سے ہو گی۔ ایسا نظام جس میں انسانی جان کی قدرو قیمت یہ تھی کہ ایک جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا۔ مسلم تو مسلم غیر مسلموں کی جانوں کی حفاظت بھی مقدم تھی۔ پیارے آقا جب کسی لشکر کو مہم پر بھیجتے تو خصوصی تاکید فرماتے کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو نہیں مارنا۔ امن وامان پر مبنی، سب کے حقوق فراہم کرتا ہوا یہ آفاقی نظام جب پھیلا تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک عورت تن تنہا مدینہ سے حضر موت تک سونا لے کر گئی مگر اسے کسی کا خوف نہ تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ زکوٰۃ دینے والے تھے مگر لینے والا کوئی نہ رہا۔ لوگوں نے حاکم وقت کی سواری رکوا کر ایک بوڑھی خاتون کو احتساب کرتے دیکھا۔ تاریخ نے یہ بھی ثبت کیا کہ آپؐ فاتح ہو کر شہر میں داخل ہوئے مگر نہ خون بہایا نہ مار دھاڑ ہوئی آپ نے اپنے ازلی دشمنوں کو معافی کا اذن عام دے دیا۔ تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ آدھی دنیا کو زیر نگین کرنے والا حاکم فاتح شہر میں داخل ہوا تو اس حال میں کہ اس نے اونٹنی کی مہار تھام رکھی تھی اور غلام اونٹنی پر سوار تھا۔

یہ محض کتابی باتیں نہیں دنیا نے یہ سب رونما ہوتے دیکھا۔ تاریخ کے صفحات پر یہ سب رقم ہے۔ یہ شورش زدہ اور تباہ حال ادارے درست ہو سکتے ہیں انصاف کی دہائیاں دینے والے انصاف پا سکتے ہیں معیشت خوشحال ہو سکتی ہے تعلیمی ادارے تربیت کے سفر پر گامزن ہو سکتے ہیں ضرورت ہے اپنی اصل کی طرف پلٹنے کی۔ تمام موجودہ بیماریوں کا علاج یہی ہے کہ امت اپنے ربّ کے عطا کردہ نظام کی طرف واپس لوٹے، اسلام کی اقدار زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرے۔ اس نظام کی طرف دوبارہ لوٹے جس کے بعد ہر سمت اُجالا ہی ہونا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ دکھوں کے مارے عوام یہ جان لیں کہ جشن ولادت رسول کے موقع پر چراغاں کر کے خوشیاں منانے سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کے نور سے اپنے ہر ادارے اور ہر شعبے کو منور کریں جس کی بدولت تاریخ کے صفحات جگمگا رہے ہیں اور نور کشید کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top