سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے مگر…

arif-bihar-new

ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے دریائے کشن گنگا پر تلے ڈیم کو رکوانے کی درخواست ابتدائی طور پر قبول کرتے ہوئے بھارت کو ڈیم کی تعمیر روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور اسے یک طرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بھارت نے معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کیا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر معطل کرنا بھارت کا پاکستان کے خلاف آخری ہتھیار تھا۔ بھارت نے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت بھی اسی انداز میں یک طرفہ طور پر ختم کی تھی۔ حالانکہ کشمیر کی خصوصی شناخت اور اس مسئلے کی متنازع حیثیت بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ بین الاقوامی فورموں پر مدتوں پر زیر بحث آنے والا معاملہ تھا جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود تھیں اور مسئلے کے حل کے لیے طویل بحث وتمحیص اور کمیشنوں کا قیام اور مباحث کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ بھارت مختلف اوقات میں پاکستان اور عالمی برادری سے اس مسئلے کے حل کے وعدے بھی کر چکا ہے۔ دفعہ 370 اور 35A کو بھارت اور کشمیر کے درمیان واحدآئینی رشتہ اور پْل کہا جاتا تھا مگر بھارت نے ان سب نزاکتوں اور باریکیوں کو نظر انداز کرکے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت ختم کرنے کا فیصلہ کیا اس کے بعد اس روڈ میپ پر عمل کرنا شروع کیا جو ہندو مہا سبھائیوں نے واحد مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی اور تشخص کو بدلنے کے لیے دہائیوں قبل تیار کر رکھا تھا۔

تنازع کشمیر کی سب سے بڑی گارنٹر قوت اقوام متحدہ اپنے کمیشنوں کی رپورٹوں اور قراردادوں کو یوں بے توقیر ہوتا دیکھ کر بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ بھارت جموں وکشمیر کے قوانین اور حیثیت کو موم کی ناک بنائے ہوئے جس طرح چاہتا ہے موڑتا اور استعمال کرتا ہے۔ کشمیر کی خصوصی شناخت کے بعد بھارت کا اگلا قدم سندھ طاس معاہدے کا یک طرفہ تعطل تھا۔ مودی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ ہم پاکستان کا پانی روکیں گے۔ مودی کے اس اعلان کو پاکستان میں سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ یہاں تک کہ ایک روز نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا۔ بھارت پہلے ہی پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ سیلابوں میں پانی چھوڑ کر اور خشک سالی میں پانی روک کر وہ پاکستان کو مجبور اور بے بس بنانے کی کوششیں کرتا رہا۔

یہ سندھ طاس معاہدہ بھی عالمی طاقتوں نے کوئی تحفہ نہیں دیا تھا بلکہ امریکی صدر ہیری ٹرومین نے صدر ایوب خان نے پوچھا تھا کہ بھارت کے ساتھ آپ کی اصل لڑائی کیا ہے اور کشمیر کیوں پاکستان کے لیے ضروری ہے؟ تو ایوب خان نے کہا تھا کہ دفاع اور پانی۔ یعنی کشمیر کے پہاڑ پاکستان کا دفاعی حصار ہیں اور وہاں سے بہہ کر آنے والا پانی اس کی شہ رگ ہے۔ دفاعی مسئلے کا حل امریکا نے اسلحہ کی فراہمی کے وعدے کے ذریعے نکالا اور پانی کے مسئلے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ کرانے اور ڈیموں کی تعمیر میں مدد دینے کا وعدہ تھا۔ یوں کشمیر پر وقت کا دھارا آگے چل پڑا تھا۔ اسی ڈیل کے تحت بھارت نے ورلڈ بینک کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ معاہدہ کرایا جسے انڈس واٹر ٹریٹی کہا جاتا ہے۔ بھارت نے اس معاہدے پر کبھی صدق ِ دل سے عمل درآمد نہیں کیا اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے تحت پانی روکنے کی راہ پر گامزن رہا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جن خطوں میں پانی کے معاملے پر جنگ کے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں پاکستان اور بھارت ان میں شامل ہیں۔

اب بھارت نے کشمیر کی خصوصی شناخت کے خاتمے کے معاملے پر کمزور عالمی ردعمل سے فائدہ اْٹھا کر سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ’’آپ ہمارا پانی روکیں گے تو ہم آپ کی سانس روکیں گے‘‘۔ تاحال پاکستان یہ مقدمہ لڑ رہا ہے کہ بھارت کو یک طرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنے کا اختیار نہیں مگر زمین اور اختیار بھارت کے کنٹرول میں ہے۔ قراردادیں، معاہدے، فیصلے اور مشورے بھارت نے کشمیر کے معاملے میں کب مانے ہیں جو اب وہ انڈس واٹر ٹریٹی کے معاملے میں مانے گا۔ زبانی کلامی اگر ان فیصلوں کو مان بھی لے مگر عملی طور پر وہ کشمیر کی خصوصی شناخت اور تشخص بدلنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی طرح پانی کو روکنے کی تدابیر اختیار کرتا رہے گا۔ یہ بھارت کا ریکارڈ ہے۔ اس وقت بھارت پر کوئی خاص دباؤ بھی نہیں کیونکہ مغربی طاقتیں بھارت کو بدستور چین کے متبادل اور مقابل کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top