بااختیار مقامی حکومت ہی مؤثر شہری نظام کی بنیاد

Idaria

خواجہ سعد رفیق کا یہ کہنا کہ بڑے شہروں سے میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کے میئر کا عہدہ ختم کرنا مقامی حکومت کے نظام کو کمزور اور بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا، یہ پاکستان کے شہری نظم و نسق کے ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہے۔ ہمارے شہروں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اختیارات کی کئی تہیں موجود ہیں، مگر جواب دہی کی واضح لکیر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ شہری پانی، صفائی، سڑک، ٹریفک، نکاسیٔ آب یا پارک کے مسئلے کے ساتھ ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا چکر لگاتا ہے، لیکن آخر میں اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ذمے دار کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے شہر کو چلانے کے لیے آخر کتنے ادارے درکار ہیں؟ اگر ایک ہی نوعیت کے کام کے لیے متعدد اتھارٹیاں، محکمے اور ادارے قائم ہوں، تو اختیار تقسیم ہونے کے بجائے انتشار پیدا ہوتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے بجا طور پر سوال اُٹھایا ہے کہ ’’ایک شہر میں چھے چھے اتھارٹیاں ایک ہی کام کریں گی تو کام کیسے چلے گا؟‘‘ یہ سوال دراصل پورے بلدیاتی نظام کے سامنے کھڑا ہے۔ مقامی حکومت کسی بھی جدید جمہوری ریاست کا محض انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیادی اکائی ہے۔ قومی اور صوبائی حکومتیں پالیسی، قانون سازی اور بڑے منصوبوں کی ذمے دار ہوسکتی ہیں، لیکن شہری کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست متعلق بیش تر معاملات مقامی حکومت ہی بہتر طور پر چلا سکتی ہے۔ گلی کی صفائی، کچرا اٹھانا، مقامی سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسیٔ آب، پارکس، کھیل کے میدان، بنیادی شہری سہولتیں اور مقامی ترقیاتی منصوبے ایسے معاملات ہیں جنہیں دارالحکومت یا صوبائی سیکرٹریٹ سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہے۔ دنیا کے کامیاب شہروں کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ شہری حکومت کو واضح اختیار، مناسب مالی وسائل اور عوامی مینڈیٹ حاصل ہو تو شہری انتظام بہتر ہوسکتا ہے۔ میئر کا براہِ راست انتخاب اس اعتبار سے اہم ہوسکتا ہے کہ شہر کے شہری براہِ راست ایک ایسی قیادت منتخب کریں جس سے وہ اپنے شہر کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرسکیں۔ اگر میئر کے پاس اختیار نہیں ہوگا تو عوامی مینڈیٹ بھی بے معنی ہوجائے گا اور اگر اختیار ہوگا مگر جواب دہی نہیں ہوگی تو نظام بدعنوانی اور نااہلی کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لیے اصل بحث صرف میئر کے عہدے کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کی نہیں، بلکہ اختیار اور جواب دہی کے متوازن نظام کی ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی نظام کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ اختیارات کی صوبائی سطح پر مرکزیت بھی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمے داریاں اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ مگر عملی طور پر مقامی حکومتیں اکثر صوبائی حکومتوں کی محتاج رہتی ہیں۔ انتخابات ہوجاتے ہیں، نمائندے منتخب ہوجاتے ہیں، لیکن اختیارات، وسائل اور ادارہ جاتی کنٹرول دوسرے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ یہ صورت حال جمہوریت کے بنیادی تصور سے متصادم ہے۔ اگر ایک شہری اپنے علاقے کے مسائل کے لیے منتخب نمائندے کو ووٹ دیتا ہے لیکن وہ نمائندہ نہ بجٹ پر مؤثر اختیار رکھتا ہے، نہ اداروں پر، نہ ترقیاتی ترجیحات طے کرسکتا ہے، تو پھر عوامی نمائندگی محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک مؤثر نظام میں میئر اور منتخب کونسل سمت اور ترجیحات طے کریں، جبکہ پیشہ ور انتظامیہ ان فیصلوں کو قانون اور قواعد کے مطابق نافذ کرے۔ دنیا کے کامیاب شہری نظاموں میں سیاسی قیادت اور پیشہ ور انتظامیہ کے درمیان یہی توازن بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے مسائل نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انتظامی ٹکڑوں میں تقسیم شہری حکومت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ بالخصوص کراچی میں مختلف وفاقی، صوبائی، بلدیاتی، ترقیاتی اور دیگر اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم نے کئی معاملات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ شہری کو یہ جاننے میں دشواری ہوتی ہے کہ سڑک کس کی ذمے داری ہے، پانی کون فراہم کرے گا، کچرا کون اٹھائے گا، نالہ کون صاف کرے گا اور ٹریفک کا مسئلہ کون حل کرے گا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ادارے موجود ہیں، بجٹ موجود ہیں، اختیارات بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں، مگر شہری سہولتیں پھر بھی ناکافی ہیں۔ اسی لیے ’’چھے چھے اتھارٹیوں‘‘ کا سوال محض انتظامی مسئلہ نہیں، گورننس کا بنیادی سوال ہے۔ ایک شہر کے لیے واضح کمانڈ، واضح ذمے داری اور واضح جواب دہی ضروری ہے۔ اگر کئی ادارے ایک ہی شعبے میں کام کررہے ہوں تو ان کے اختیارات اور دائرۂ کار متعین کیے جائیں، غیر ضروری اداروں کو ختم یا ضم کیا جائے اور شہری حکومت کو بنیادی شہری خدمات کا حقیقی ذمے دار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری بھی ناگزیر ہے۔ اختیار بغیر وسائل کے محض کاغذی اختیار ہوتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اگر بلدیاتی اداروں کو ذمے داریاں منتقل کرتی ہیں تو انہیں وسائل بھی منتقل کرنا ہوں گے۔ پرونشل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبائی وسائل میں مقامی حکومتوں کا منصفانہ حصہ متعین کیا جانا چاہیے تاکہ ہر بلدیاتی ادارہ اپنے علاقے کی ضروریات کے مطابق بجٹ بنا اور خرچ کرسکے۔ وسائل کی تقسیم آبادی، پسماندگی، شہری ضروریات اور کارکردگی جیسے واضح اصولوں پر ہونی چاہیے۔ تاہم مالی خودمختاری کا مطلب بے لگام خرچ بھی نہیں۔ مضبوط مقامی حکومت کے ساتھ مضبوط آڈٹ، شفاف بجٹ، عوامی نگرانی، اوپن ڈیٹا اور احتساب کا نظام بھی ضروری ہے۔ منتخب میئر کو اختیار ملے تو اسے اپنے فیصلوں کا حساب بھی دینا ہوگا۔ یہی جمہوری گورننس کا اصول ہے۔ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے کی بحث بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر ہر چند سال بعد صوبائی حکومتیں بلدیاتی ڈھانچے کو تبدیل یا معطل کرسکتی ہوں، منتخب اداروں کو اختیارات سے محروم کرسکتی ہوں یا ان کے وسائل محدود کرسکتی ہوں تو مقامی جمہوریت کبھی مستحکم نہیں ہوسکتی۔ بلدیاتی اداروں کو ایسا آئینی اور قانونی تحفظ درکار ہے جس سے ان کا تسلسل یقینی ہو اور انہیں سیاسی مصلحتوں کے تابع نہ بنایا جاسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں مقامی حکومت کے نظام پر وقتی سیاسی ضرورت کے بجائے مستقل قومی پالیسی کے طور پر غور کیا جائے۔ میئر براہِ راست منتخب ہو یا کسی دوسرے طریقے سے، اصل شرط یہ ہے کہ وہ بااختیار، جواب دہ اور مالی طور پر قابلِ عمل شہری حکومت کی قیادت کرے۔ اگر میئر کے پاس اختیار نہیں تو عہدہ علامتی ہے، اور اگر متعدد اداروں کے درمیان اختیار تقسیم ہے تو شہری مسائل کا ذمے دار بھی واضح نہیں رہتا۔ پاکستان کو ایسے شہروں کی ضرورت ہے جہاں شہری کو اپنے مسئلے کے لیے درجنوں دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔ اسے معلوم ہو کہ شہر کا ذمے دار کون ہے، کس سے سوال کرنا ہے اور کس کارکردگی پر اسے دوبارہ منتخب یا مسترد کرنا ہے۔ اس لیے بحث ’’میئر کا عہدہ رہے یا ختم ہو‘‘ سے آگے بڑھنی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ شہر کا اختیار آخر کس کے پاس ہوگا؟ اگر جواب غیر واضح رہا تو اتھارٹیاں بڑھتی رہیں گی، محکمے بنتے رہیں گے اور شہری مسائل بھی بڑھتے رہیں گے۔ لیکن اگر اختیار منتخب مقامی حکومت کو، وسائل اس کے ساتھ اور جواب دہی عوام کے سامنے کردی جائے تو یہی شہر پاکستان کی ترقی کے سب سے بڑے مراکز بن سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top