کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس اور آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کے خلاف گورنر ہائوس پر دھرنا ہفتہ کو 21ویں روز بھی جاری رہا ، دھرنے میں مختلف مارکیٹوں سے آنے والے تاجروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے وفود کی آمد اور اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری رہا ، دھرنے کے طویل ہونے کے باوجود شرکا دھرنے کا جوش وخروش بدستور جاری ہے اور 3ستمبر کی کراچی سمیت ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال کی شاندار کامیابی کے بعد لیوی بھتا ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد کو مہمیز ملی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے دھرنے کے 21ویں دن پریس کانفرنس ، مختلف وفود اور شرکا دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور زرداری کی موجودہ اتحادی حکومت میں عوام ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ مہنگا پیٹرول اور ڈیزل خریدنے پر مجبور ہیں ، اتحادی حکومت نے ڈھائی برس میں فی لیٹر پیٹرول پر 178روپے اور ڈیزل پر 233روپے اضافہ کر کے عوام کی کمر پر مہنگائی کا کوڑا مارا ہے اور لیوی کی مد میں 3137ارب روپے کا بھتا وصول کیا گیا ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی نورا کشتی 40سال سے جاری ہے ، حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے اور عصبیت کا زہر اگلا جا رہا ہے ، تعصب پھیلایا جا رہا ہے ، ان دونوں پارٹیوں کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ، یہ دونوں پارٹیاں کراچی دشمن پارٹیاں ہیں اور پیپلز پارٹی کو تو سندھی بولنے والے غریب عوام سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ، پیپلز پارٹی کو صرف وڈیروں ، جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی فکر رہتی ہے ، اگر پیپلز پارٹی کو سندھ کے عوام کی فکر ہوتی تو سندھ میں آج 78لاکھ بچے تعلیم کے زیور سے ،76فیصد تعلیمی ادارے بجلی ،15ہزار پانی اور 10ہزار اسکول واش روم کی سہولت سے محروم نہیں ہوتے ، شرح خواندگی 58فیصد سے کم ہو کر 57.5فیصد نہ ہوتی ، گزشتہ 16برس میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم پر 4ہزار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود شرح خواندگی بڑھنے کے بجائے کم ہوگئی ہے ،پیپلز پارٹی نااہلی ،بدانتظامی اور کرپشن کا بدترین امتزاج ہے جس نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے عوام کو تباہ و برباد کردیاہے ، یہاں کے بڑے اضلاع دادو ،لاڑکانہ ،سانگھڑ ،خیرپور میں شرح خواندگی صرف 33فیصد ہے ، پیپلز پارٹی والے سندھ کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ہم بے نظیر کو کیا جواب دیں گے،ہم کہتے ہیںکہ آپ نے سندھ کے شہروں ،گوٹھوں ،دیہات کو جس طرح تباہ و برباد کرکے رکھ دیاہے ، سندھ کے عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں ، یہ بتائیں کہ اس کا جواب کون دے گا ؟تعلیم کے ساتھ صحت کا شعبہ بھی تباہ حال ہے ، گزشتہ دنوں ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے باعث 10 بچوں کی اموات ہوئیں ،ان کے والدین کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہے ، سعید غنی بتائیں کہ ولیکا اسپتال اور لانڈھی اسپتال میں ایچ آئی وی کا شکار ہونے والے 200سے زائد بچوں کے والدین کا کون پرسان حال ہے ؟ کراچی میں نلکوں میں پانی دستیاب نہیں لیکن حکومتی سرپرستی میں ٹینکر مافیا کا راج ہے ، ٹینکروں سے اربوں روپے کا پانی فروخت ہو رہا ہے ،5 دن پہلے دہلی اسکول جس میں 2800 بچے پڑھتے ہیں،ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں بند کردیاگیا، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے دہلی اسکول اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ،آج تک وزیر تعلیم ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ جاکر ذرا دیکھیں کہ وہ بچے سڑک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں،منعم ظفر خان نے کہا کہ چاروں صوبوں میں 21دن سے دھرنے جاری ہیں ، 3ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال نے پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے ، کراچی میں تاریخی اور کامیابی ہڑتال سے سندھ حکومت بھی بوکھلا ہٹ کا شکار ہے اور پیپلز پارٹی اپنی فسطائیت پر اتر آئی ہے ، ہم ہڑتال کے دوران پر امن کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کی مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ گرفتاریوں اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات کے باوجود عوامی جدو جہد جاری رہے گی ۔ جماعت اسلامی ان ظالم حکمرانوں کا پیچھا کرتی رہے گی ، پیٹرولیم لیوی بھتا ٹیکس کے خلاف ہماری یہ تحریک دن بدن تیز ہو رہی ہے ، جماعت اسلامی کے مطالبات بالکل واضح ہیںکہ پیٹرولیم لیوی بھتا ٹیکس واپس لیاجائے ،پیٹرول کی قیمتیں کم کریں ، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدے او رمہنگائی کو ختم کریں ۔















