پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو پورا ملک بند کر دیں گے‘ حافظ نعیم الرحمن

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران جماعتوں اور سیاسی حلقوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ جماعت اسلامی کا دھرنا چند روز میں ختم ہو جائے گا، ہم عوام کے حقوق کی جدوجہد کسی سیاسی مفاد یا انتخابی فائدے کے لیے نہیں کر رہے۔ ابھی نہ انتخابات ہیں اور نہ ہی ہمیں اپنی جماعت کے لیے کچھ حاصل کرنا ہے، ہماری پوری جدوجہد مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں، پیٹرولیم لیوی اور عوامی مسائل کے خاتمے کے لیے ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات ضرور ہوں گے لیکن جماعت اسلامی مذاکرات کے چکروں میں جدوجہد ترک نہیں کرے گی، دھرنے جاری رہیں گے ، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ مرحلے میں ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کرکے پورا ملک بند کر دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے اکیسویں روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی خان ،ڈپٹی سیکرٹریز وقاص انجم جعفری ، شیخ عثمان فاروق، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، امیر وسطی پنجاب جاوید قصوری، مائن امیر ذکر اللہ مجاہد، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کراچی ، پشاور ، اسلام آباد ، حیدر آباد ، چترال اور ملک کے دیگر مقامات پر بھی پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف دھرنے اور احتجاج جاری ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، حالانکہ ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی واضح صلاحیت موجود ہے۔ عوام کو اس کے باوجود گھنٹوں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو حکمرانوں کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جہاں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو، وہاں عوام کو اندھیروں میں رکھنا حکومتی ناکامی اور ناقص پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی سے ملاقات ہوئی ہے اور پیر سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا، تاہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے نام پر عوامی تحریک کو کمزور کرنے یا ختم کرنے کے کسی چکر میں نہیں آئیں گے۔ مذاکرات اپنی جگہ لیکن دھرنے اور عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت نے اگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو جماعت اسلامی اگلے مرحلے میں پہیہ جام ہڑتال کرے گی اور پورا ملک بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی صورت پیٹرولیم لیوی کو قبول نہیں کر سکتے۔ پیٹرولیم لیوی کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں یا دیگر عوامل سے کوئی تعلق نہیں، یہ براہ راست عوام کی جیبوں سے پیسہ نکالنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ حکومت نے جنگ اور عالمی حالات کو بہانہ بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا ہے جبکہ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو نہ محفوظ سفری سہولتیں میسر ہیں اور نہ ہی مہنگائی سے نجات مل رہی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، عوام کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے، لیکن حکمران طبقہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے سندھ کی سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ پر چند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ اور سندھی عوام سے زیادہ اپنے اقتدار اور کرپشن کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قیامت کے دن زرداری سے سوال کریں گی کہ ان کے قاتل کیوں گرفتار نہیں کیے گئے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلزپارٹی برسوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے لیکن لاڑکانہ، نوڈیرو، شہدادکوٹ اور دیگر علاقوں کو بھی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر سکی۔ کراچی کو صرف لوٹنے کے لیے سندھ کا حصہ سمجھا جاتا ہے جبکہ شہر کے مسائل کے حل اور عوام کو بنیادی سہولتیں دینے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھی اور مہاجر کے نام پر سیاست اور ڈرامے بازی بند کی جائے اور عوام کو حقیقی اختیار دیا جائے۔ عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرکے حکمران طبقہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرتا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنی سیاست اور مفادات کی خاطر سندھ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں ظلم، مہنگائی، کرپشن اور استحصالی نظام کے خلاف متحد کرنے کی سیاست کر رہی ہے۔ عوام کے مسائل کا مستقل حل اسی وقت ممکن ہے جب چند خاندانوں، اشرافیہ اور مفاد پرست طبقوں کی اجارہ داری ختم کرکے حقیقی عوامی نظام قائم کیا جائے۔انہوں نے دھرنے کے شرکا سے کہا کہ عوامی جدوجہد جاری رکھی جائے، کیونکہ حقوق کسی حکومت کی مہربانی سے نہیں بلکہ منظم اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور عوام پر مسلط ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف اپنی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرے گی۔
اسلام آباد (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کے مطالبات کی منظوری میں تاخیر سے کام لیا تو تحریک کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی طرف جائیں گے، کئی مقامات پر دھرنے جاری ہیں ، پیر کو حکومت سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکمرانوں اور بیوروکریسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر اس وقت فارم 47 کا غیر آئینی نظام قابض ہے، جس پر عوام کو کوئی اعتماد نہیں اور جن کی نااہلی و عیاشیوں کا بوجھ ٹیکسوں کی صورت میں غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ نائب امیر میاں محمد اسلم اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 21 دن ہو چکے ہیں اور سوات سے لے کر بلوچستان کے 20 مقامات سمیت ملک بھر میں درجنوں دھرنے جاری ہیں۔ سوات میں بڑے جلسے کے بعد دھرنے کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ پیر سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت اور دھرنے ساتھ ساتھ چلیں گے اور جماعت اسلامی معاہدہ کر کے گھر بیٹھنے والی نہیں بلکہ عوامی دباؤ برقرار رکھے گی۔ اگر جماعت اسلامی آواز نہ اٹھاتی تو ملک میں پیٹرول 500 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا جاتا۔ جماعت اسلامی کے دباؤ کے باعث ہی بجلی کے فی یونٹ میں 10 سے 12 روپے کی کمی ممکن ہوئی اور آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 4300 ارب روپے کا فائدہ پہنچا جبکہ حکومت کا پیٹرولیم لیوی کو 80 روپے پر برقرار رکھنا بھی عوامی تحریک کا ہی نتیجہ ہے۔معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان پر 1 لاکھ 10 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھ چکا ہے، جس میں سے 7 ہزار ارب روپے مقامی بینکوں کا قرض ہے اور حکومت صرف بینکوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ حکومت سالانہ 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی مد میں ادا کرتی ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں صرف 1 فیصد اضافے سے قرضے کا بوجھ 594 ارب روپے بڑھ جاتا ہے۔ اگر حکومت پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کر دے تو اسے عوام پر پیٹرولیم لیوی عاید کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ پیٹرولیم لیوی کا مصنوعات کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں اور عوام اب اس لیوی کے بھتے کی حقیقت سے مکمل آگاہ ہو چکے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت کو لیوی ختم کرنی چاہیے اور ریفائنریز و آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بھاری مارجن کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے ایف بی آر اور توانائی کے شعبے کی بدعنوانیاں اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی نااہلی کے باعث 1300 ارب روپے کی سیدھی سیدھی کرپشن ہو رہی ہے اور 24 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم کا عملہ مکمل طور پر نااہل ثابت ہوا ہے۔ ایل این جی کی عدم فراہمی کے باوجود ری گیسفیکیشن پلانٹس کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی، تیل اور گیس سمیت ہر شعبے پر مافیا کا قبضہ ہے اور چینی کے معاملے میں بھی اسی مافیا کو نوازا جا رہا ہے۔ اگر اب بھی آئی پی پیز کے معاہدو ں پر نظرثانی کی جائے تو بجلی مزید سستی ہو سکتی ہے۔تعلیمی اور اجتماعی مسائل پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے پمزاسپتال کے واقعے اور پنجاب کے نویں جماعت کے نتائج کا حوالہ دیا، جہاں 50 فیصد بچے فیل ہو گئے، جو موجودہ حکمرانوں کی تعلیم دشمن پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جماعت نے ہمیشہ ساز باز کر کے جموریت کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ ایم کیو ایم ہر سیٹ اپ میں فٹ ہونے والی جماعت ہے۔ کراچی کے لوگوں کے مسائل حل نہ ہونے کے باعث وہ الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عوامی مطالبات کے حق میں پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے دستخطی مہم چلائے گی۔ جماعت اسلامی پرامن آئینی و جمہوری احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور زبردستی کے بجائے عوامی طاقت سے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے حق کی بھی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مقامی حکومتوں کا نظام بحال کرے اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کر کے عوام کو فوری سانس لینے کا موقع فراہم کرے۔

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن وزیر اعلیٰ ہائوس پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں

 

مزید خبریں

Scroll to Top