یادداشت کی کمزوری عمر بڑھنے سے پہلے ہی شروع ہوسکتی ہے: تحقیق

Untitled_design_(10) (1)

واشنگٹن: یادداشت کی کمزوری کو عموماً بڑھتی عمر کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دماغ میں یادداشت سے متعلق تبدیلیاں بڑھاپے سے کئی برس پہلے، درمیانی عمر ہی میں نمایاں ہونا شروع ہوسکتی ہیں۔

امریکا کی بنگہیمٹن یونیورسٹی کے محققین نے 18 سے 74 سال کی عمر کے تقریباً 60 افراد کو تحقیق میں شامل کیا، جن کی یادداشت اور دماغی سرگرمی کا جائزہ لے کر عمر کے مختلف مراحل میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔

تحقیق کے دوران شرکا کو مختلف چہروں کے ساتھ اشیا اور مناظر دکھائے گئے، جس کے بعد یہ جانچنے کے لیے یادداشت کے ٹیسٹ لیے گئے کہ وہ دکھائی جانے والی معلومات کو کس حد تک یاد رکھ پاتے ہیں۔ اس دوران مقناطیسی گونج تصویربرداری کے ذریعے دماغ کے ہِپو کیمپس کی سرگرمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق ہِپو کیمپس دماغ کا ایک اہم حصہ ہے جو نئی یادداشتیں تشکیل دینے اور انہیں مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس حصے کی سرگرمی کا جائزہ لے کر محققین نے عمر کے ساتھ یادداشت میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ یادداشت سے متعلق دماغی تبدیلیاں صرف بڑھاپے میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ درمیانی عمر میں ہی ان کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوسکتے ہیں۔ اس دریافت سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ یادداشت میں کمی کا عمل ممکنہ طور پر اس عمر سے پہلے شروع ہوجاتا ہے جسے عام طور پر بڑھاپے کا دور سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف آئن میک ڈونو کے مطابق درمیانی عمر یادداشت کے حوالے سے ایک نہایت اہم مرحلہ ہے، تاہم ماضی میں ہونے والی بیشتر تحقیقات میں اس عمر کے دوران دماغ اور یادداشت میں آنے والی تبدیلیوں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ درمیانی عمر کو سمجھنا اس لیے بھی اہم ہے کہ یادداشت میں نمایاں کمزوری ظاہر ہونے سے قبل ہی دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا سراغ لگایا جاسکے۔ اس طرح مستقبل میں یادداشت سے متعلق مسائل کے ابتدائی مراحل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top