واشنگٹن: ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے جنگی اسلحے کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات ذرائع ابلاغ تک پہنچنے کے معاملے کی تحقیقات میں تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے جھوٹ پکڑنے کے امتحان کیے گئے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے مشترکہ افسران سے وابستہ اہلکاروں سے اگست کے دوران پوچھ گچھ کی گئی، جس کے ساتھ ان کے جھوٹ پکڑنے کے امتحان بھی لیے گئے۔ یہ کارروائی اس بات کا سراغ لگانے کے لیے کی گئی کہ جنگی ذخائر سے متعلق خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ تک کیسے پہنچیں اور ان کے افشا کا ذمہ دار کون ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کا بنیادی مرکز ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کے اہم جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات کا اخراج ہے۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے علاوہ پیٹریاٹ میزائل شکن نظام میں استعمال ہونے والے میزائل بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کو تشویش ہے کہ جنگی ذخائر سے متعلق ایسی حساس تفصیلات کا منظر عام پر آنا نہ صرف فوجی منصوبہ بندی کو متاثر کرسکتا ہے بلکہ امریکی دفاعی صلاحیتوں اور جنگ کے دوران اسلحے کی دستیابی سے متعلق اہم معلومات بھی مخالف فریق تک پہنچ سکتی ہیں۔
تاہم تقریباً 50 اہلکاروں سے پوچھ گچھ اور جھوٹ پکڑنے کے امتحانات کے باوجود تحقیقات میں اب تک ایسا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر مبینہ معلومات افشا کرنے والے شخص کی حتمی طور پر شناخت کی جاسکے۔
امریکی محکمہ دفاع نے تحقیقات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرنے یا ان اہلکاروں کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے جن کے امتحانات لیے گئے۔ حکام نے تاہم حساس اور خفیہ معلومات کے غیر مجاز افشا کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حساس معلومات کے اخراج کے واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ اور محکمہ دفاع کی جانب سے معاملے کی چھان بین جاری ہے، جبکہ حکام اس کوشش میں ہیں کہ خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ تک پہنچانے والے شخص یا افراد کا سراغ لگایا جاسکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔















