جماعت اسلامی کی کامیاب ہڑتال اور مذاکرات

Idaria

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مہنگائی بے روز گاری، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے خاتمہ اور سستی بجلی کی فراہمی جیسے عوامی مسائل کی خاطر سات اگست کو پانچ سو دس شہروں میں سڑکیں بند کر کے جس احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا، اس کے دوسرے مرحلے کے طور پر سولہ اگست سے مسلسل صوبائی دارالحکومتوں کراچی اور پشاور میں گورنر ہائوس اور لاہور میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ و پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک میں بیس روز گزرنے کے باوجود کامیابی اور تسلسل سے جاری ہے، مگر حیران کن امر یہ ہے کہ اس تین ہفتے طویل احتجاج کے باوجود حکومت کے کان پر کوئی جوں تک نہ رینگی اور اس نے خالصتاً عوامی مطالبات کو لے کر آگے بڑھنے والے اس عوامی احتجاج کا قطعی کوئی اثر لینے سے انکار کر دیا بلکہ الٹا ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عرصہ میں کم و بیش ہر روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا، حکومت کے اس طرز عمل کے باعث بعض غیر سنجیدہ عناصر اور ذرائع ابلاغ کے مبصرین کی جانب سے یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ احتجاج کے بعد سے چونکہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے، اس لیے جماعت اسلامی کو احتجاجی دھرنے ختم کر دینا چاہئیں تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ حکومتی سلسلہ رک سکے۔ بہرحال امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور دیگر قائدین نے ایسی مضحکہ خیز تجاویز کو پذیرائی بخشنے کے بجائے اپنے احتجاج کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کا اعلان کیا اور تیسرے مرحلے کے طور پر تین ستمبر، جمعرات کے روز ملک بھر میں عام شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کر دیا جو جماعت اسلامی کے کارکنوں اور قیادت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ تاہم یہ امر جماعت کے کارکنوں کی تنظیم اور اطاعت امیر کے جذبہ کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہوں نے اس چیلنج کو خوش دلی سے قبول کیا اور اپنے امیر کی ہدایات کی روشنی میں ان تھک محنت کی۔ دوسری جانب حکومت نے بھی اس ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے اپنا پورا زور لگایا اور انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے بازاروں اور مارکیٹ کمیٹیوں کے عہدیداروں پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ تین ستمبر کو کسی صورت ہڑتال کا حصہ نہ بنیں۔ ہڑتال کے روز بھی مارکیٹوں اور بازاروں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی۔ تاجروں اور دکانداروں سے زبردستی دکانیں اور کاروباری مراکز کھلوانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے گئے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور گرفتاریوں وغیرہ کے روایتی ہتھیار بھی آزمائے گئے تاہم جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان اس بات پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کی محنت نتیجہ خیز اور بار آور ہوئی اور ملک کے طول و عرض میں بھر پور ہڑتال ہوئی۔ یہ جماعت اسلامی کے کسی ترجمان کا بیان نہیں، ملک کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے روزنامہ جنگ کی خبر ہے، جس کی سرخیاں کچھ یوں ہیں کہ:۔ ’’ملک گیر ہڑتال، حکومت اور جماعت اسلامی ریلیف کے لیے کمیٹیاں بنانے پر متفق۔ دھرنے جاری رہیں گے، حافظ نعیم الرحمن۔ لاہور کراچی، راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے، نجی اور کمرشل ٹریفک بھی معمول سے کم رہی، پشاور میں ہڑتال کے اعلان پر جزوی عمل ہوا۔ احسن اقبال کی سربراہی میں رانا ثناء اللہ اور سلمان رفیق پر مشتمل حکومتی وفد کی امیر جماعت اسلامی سے ملاقات، ایسی صورت حال نہیں چاہتے جس سے دشمن فائدہ اٹھائے‘‘ یہ جنگ کی ہڑتال اور متعلقہ امور سے متعلق خبر کی محض سرخیاں ہیں، جن کی تفصیل خبر کے متن میں موجود ہے، سرخیوں ہی سے یہ بات نمایاں ہے کہ امیر جماعت اسلامی کی ہڑتال کی اپیل کی ملک بھر میں زبردست پذیرائی کی گئی ہے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ ہڑتال کا دائرہ کار اگرچہ کاروباری مراکز اور تاجر برادری تک محیط تھا مگر معاشرہ کے دیگر طبقات مثلاً محنت کشوں، طلبہ اور اساتذہ اور سب سے بڑھ کر ملک کی قانون دان برادری نے ہڑتال سے بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور جیسے بڑے شہروں کی وکلا برادری کی نمائندہ تنظیموں نے باقاعدہ اعلان اور قرار دادوں کے ذریعے ہڑتال کی تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ کراچی میں تو وکلا کے ایک بڑے وفد نے جلوس کی شکل میں جماعت اسلامی کے دھرنے میں پہنچ کر اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے بھی ان سے اظہار تشکر کیا۔ اس قدر کامیاب ہڑتال اس امر کا ثبوت ہے کہ جماعت نے نظام کی تبدیلی کی تحریک کے اولین مرحلے کے طور پر عوام میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا شعور بیدار کرنے کی جس کاوش کا آغاز کیا تھا وہ اگرچہ بہت تیزی سے نہ سہی مگر لوگوں کے ذہنوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے توقع رکھنا چاہیے کہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے غریب اور حقوق سے محروم طبقات جماعت اسلامی اور اس کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں اپنے بنیادی حقوق اور معاشرے میں معاشی انصاف کی خاطر متحد ہو کر آگے بڑھیں گے اور نا انصافی، بد اخلاقی، بدعنوانی اور طبقاتی ناہمواری میں لتھڑا ہوا موجودہ نظام جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور عدل و انصاف اور امانت و دیانت پر استوار اسلامی دستور حیات اس مملکت خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقدر بنے گا! حکومت جو کم و بیش ایک ماہ سے جاری پر امن احتجاج اور دھرنوں سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی، شٹر ڈائون ہڑتال کے اعلان کے بعد حرکت میں آئی ہے چنانچہ عین ہڑتال کے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی قیادت میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ پہنچے اور مذاکرات کی بساط بچھائی۔ وفد سے خیر سگالی ملاقات کے بعد امیر جماعت اسلامی نے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں ڈپٹی سیکرٹری فراست شاہ، لاہور کے امیر ضیاء الدین انصاری، اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی جو حکومتی کمیٹی سے پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے مسئلہ پر مذاکرات کرے گی۔ کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ نے مذاکرات کے پہلے دور میں حکومتی کمیٹی کے سامنے تین مطالبات پیش کیے جن میں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس اور آئی پی پیز سے معاہدوں کا خاتمہ اور بجلی و روٹی کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔ فریقین کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ حکومتی کمیٹی نے دھرنے موخر کرنے کی استدعا کی ہے مگر ہم نے کہا ہے کہ دھرنے بھی جاری رہیں گے اور مذاکرات بھی … ہماری مذاکراتی ٹیم نے لیوی کے خاتمہ کے لیے پوری تیاری کر رکھی ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم پٹرولیم لیوی میں کمی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز سنی ہیں اور جس قدر بھی گنجائش ہوئی عوام کو سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے جماعت کی پر امن تحریک کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ احتجاج کی آڑ میں افراتفری نہیں ہونی چاہیے۔ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مذاکرات کا آغاز پیر سے ہو گا اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں مطالبات پر مثبت پیش رفت ہو گی۔ حکومت جماعت کی قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کرے گی۔ بہتر ہوتا حکومت مذاکرات کا یہ سلسلہ آج سے دو تین ہفتے قبل شروع کر دیتی تاکہ اب تک ان کا رانا ثناء اللہ کے بقول مثبت نتیجہ سامنے آ چکا ہوتا تاہم اب بھی ’’دیر آید درست آید‘‘ دعا ہے کہ جلد از جلد یہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں۔ جماعت اسلامی کی اس طویل جدوجہد کے باعث عوام کو کچھ سہولت میسر آئے اور وہ معاشرتی و معاشی گھٹن کی اس فضا میں قدرے سکھ کا سانس لے سکیں۔ (آمین)

مزید خبریں

Scroll to Top