کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے لیے سندھ اسمبلی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی سٹی کونسل میں قرارداد جمع کرادی۔ سندھ اسمبلی میں جماعت اجلاس کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے پیٹرولیم لیوی کیخلاف جمعہ کو سندھ اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی جس میں کہا گیا کہ وطن عزیز پاکستان میں ایک جانب بے قابو مہنگائی نے عام شہریوں کے لیے زندگی کو ایک بوجھ بنا دیا ہے، ایسے حالات میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم کی اصل قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی اور دوسری مدات میں وصولیاں افسوسناک ہیں۔اس وقت پیٹرول کی اصل قیمت مع کسٹم ڈیوٹی 238.70 روپے بنتی ہے مگر حکومت کی جانب سے اس قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی 80 روپے، ماحولیاتی لیوی 5 روپے جبکہ مختلف مارجن کے نام پر 25.3 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں ان اضافی وصولیوں سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہوا ہے بلکہ مہنگائی میں بھی اسی تناسب سے مزید اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کے 95 فیصد مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام پر شدید ظلم کے مترادف ہے۔لہٰذا یہ ایوان اس قرار داد کے ذریعے مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں فوری بند کرکے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔علاوہ ازیں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے لئے سٹی کونسل بلدیہ عظمٰی کراچی سٹی کونسل میں قرارداد جمع کرادی، قرارداد سٹی کونسل میں جماعت اسلامی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد کی جانب سے جمع کرائی گئی۔واضح رہے سٹی کونسل کا اجلاس 11 ستمبر کو بلایا گیا۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت لیوی اور دیگر مدات میں ٹیکس وصولیاں فوری بند کرے، لیوی کی کمی پورا کرنے کے لیے تمام حکومتی اداروں و دفاتر میں 1300 سی سی انجن سے بڑی گاڑیاں ختم کی جائیں اور IPPS کو کیپیسٹی چارجز کی ادائیگیاں بند کی جائیں۔قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک جانب وطن عزیز پاکستان میں بے قابو مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے تو دوسری جانب امریکہ کے ایران پر حملے کی وجہ سے مہنگے پیٹرول نے بھی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے اصل قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی اور دوسری مدات میں ٹیکس وصولیاں افسوسناک ہیں جو حکومت کی عوام کے مسائل سے لا تعلقی و بے حسی کو ظاہر کرتی ہیں جو دراصل عوام سے بھتہ وصول کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت پیٹرول کی اصل قیمت مع کسٹم ڈیوٹی 238.70 روپے بنتی ہے مگر حکومت کی جانب سے اس اصل قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی 80 روپے، ماحولیاتی لیوی 5 روپے جبکہ مختلف مارجن کے نام پر 25.3 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان اضافی وصولیوں سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہوا ہے بلکہ مہنگائی میں بھی اس ہی تناسب سے مزید اضافہ ہوا ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے 95 فیصد عوام پر شدید ظلم کے مترادف ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ کے نام پر لگائی گئی تھی لیکن حکومت اس رقم کو جو کل 8000 ارب بنتی ہے اور صرف ایک سال میں یہ رقم 1500 ارب سے زیادہ بنتی ہے اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔















