امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کیلیے نئے فریم ورک پر کام شروع

تہران /واشنگٹن /دوحا /لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے نئے فریم ورک پر کام شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے باخبر سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ علاقائی ثالث، خصوصاً عمان اور قطر، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک نئے فریم ورک کا مسودہ تیار کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائل حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا، ایران کی جاری دستاویزات میں ان میزائل حملوں کو تسلیم کیا گیا ہے‘ قطر حالیہ تنازع کا حصہ نہیں، قطر کی سرزمین پر حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس اور کمیونسٹ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی فتح کے بجائے شکست چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ عناصر مجھے امریکا کے لیے جنگ جیتتے ہوئے دیکھنے کے بجائے جنگ ہارتے دیکھنا پسند کریں گے۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ ایران پر حملے کے نتائج کو قبول کرے، اس کی قیمت ادا کرے اور مغربی ایشیا سے نکل جائے۔امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب سے مبینہ تعلقات کے الزام میں ترکیے کے بینک گولڈن گلوبل پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران کو عالمی سطح پر معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ مالیاتی اداروں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا کی آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے حوالے سے سنجیدگی کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکی اسٹریٹجک تیل ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے، پیٹرولیم ذخائر کم ہوکر 286.6 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو نومبر 1982ء کے بعد کم ترین سطح ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران اور چین نے مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون اور باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے چین کی سپریم پیپلز کورٹ کے صدر سے ملاقات میں کہا کہ ایران چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ایرانی فضائیہ کے دفاعی ڈپٹی کوآرڈینٹر بریگیڈیئر جنرل محمد صادقیان نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی فوج نے 370 سے زاید دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا جبکہ متعدد طیاروں اور ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوج نے موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں ٹریکرز بند کردیے ہیں۔ یہ اقدام ایسی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کمرشل طور پر دستیاب لوکیشن ڈیٹا کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایرانی فضائی دفاعی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے ممکنہ تصادم اور جارحیت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے کیونکہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایرانی وزیر پیٹرولیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی اور تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باوجود ایران کی خام تیل کی برآمدات 40 روزہ جنگ کے دوران ایک گھنٹے کے لیے بھی نہیں رکیں۔ 3 روز قبل شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی شہریوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملے میں شہید ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین باضابطہ طور پر ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل ہو گئی ہے‘ اتحادیوں کے ساتھ یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری عزائم، ہتھیاروں کے پروگراموں اور پراکسیز کی مالی معاونت کے لیے عالمی مالیاتی نظام کا استحصال نہ کر سکے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں مزید کمی ہوگئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق جمعرات کو اس اہم سمندری راستے سے صرف 4 کموڈیٹی جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 9 تھی۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 15 سینٹ اضافے کے بعد95.67 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 26 سینٹ اضافے کے بعد 91.56 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران جنگ میں پہلے ہی کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا اور امریکا اس جنگ میں اپنی برتری ثابت کرچکا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top