حافظ نعیم الرحمن کا دھرنے جاری رکھنے ، 10روز بعد پہیہ جام کی تاریخ دینے کا اعلان

Hafiz-Naeem

سوات /کراچی/لاہور( نمائندہ جسارت/ صباح نیوز امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر پٹرول لیوی میں کمی، ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ٹیکس استثنیٰ اور دیگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ پرسوں سے نشاط چوک میں دھرنا شروع کیا جائے گا اور دس روز بعد ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا، حکومت پھر بھی نہیں مانی تو اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ بھی کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے لاہور، پشاور اور کراچی میں جاری دھرنے جمعہ کو بیسویں روز میں داخل ہوگئے ہیں۔ حیدرآباد، چترال اور اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی مقامات پر بھی احتجاج جاری ہے۔ دھرنوں کے انیسویں روز جمعہ کو امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر ملگ گیر ہڑتال ہوئی اور اسی روز حکومتی وفد نے منصورہ میں آکر امیرجماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی۔ جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز پیر کو ہوگا ، تاہم امیرجماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ اس دوران دھرنے بھی جاری رہیں گے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا اور قائم کردہ کمیٹیاں مؤثر کردار ادا نہ کر سکیں تو جماعت اسلامی “حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ” مارچ شروع کرنے پر بھی غور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ایک بڑی کال دینے والے ہیں جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی جس کا مقابلہ پھر حکمران نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا ٹیکس استثنیٰ کا مطالبہ جائز ہے اور جب تک خطے میں حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آتے، ٹیکسوں میں ریلیف دیا جانا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کی حقیقی ترجمان رہی ہے، بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے بھی جماعت اسلامی نے مؤثر جدوجہد کی۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ پٹرول کی لیوی کم نہیں کی جا سکتی، حالانکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام فوری ریلیف کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے طویل عرصے تک بدامنی اور مشکلات کا سامنا کیا، اس لیے ان پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے گئے لیکن مالکانہ حقوق نہیں دیے جا رہے جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اور آئندہ شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں بلکہ پہیہ جام ہڑتال ہوگی جس میں پورے ملک کو جام کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اس تحریک میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی غیظ و غضب کو نظر انداز کرنا حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض وزراء بیانات کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عوام اب مزید تاخیری حربے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
کراچی /لاہور/حیدرآباد(صباح نیوز/اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعتِ اسلامی، پٹرول لیوی کے مسئلہ پر حکومتی ٹیم سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کے چیئرمین لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دھرنے اور احتجاج، ملک بھر میں جلسے جلوس بھی جاری رہیں گے،عوام اپنے حقوق کی پْرامن سیاسی، جمہوری، آئینی جدوجہد کا حق استعمال کریں گے۔ ملک گیر ہڑتال سے حکومت عوام کے غصے کا ٹمپریچر محسوس کرے اور پٹرول لیوی بھتہ ختم کرے۔ لیاقت بلوچ نے دھرنا کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ ملک گیر کامیاب ہڑتال نے آواز دے دی کہ تاجر، صنعت کار پیداواری لاگت بڑھنے سے تنگ اورآئی پی پیز، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھتہ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ملک بھر کی تاجر برادری کے جرات مندانہ ایثار پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جب حکمران ناکام، عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے بیحِسّی اور فرعونیت پر مبنی رویہ اختیار کریں تو احتجاج کے علاوہ عوام کے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں رہتی۔ جب پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں نہ ہی عوام کی نمائندہ ہوں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ نہ دیں تو احتجاج تو ہوگا اور قومی سطح پر نقصان کی ذمہ دار حکومتیں ہیں۔ معاشی بحران اْم البحران بن گیا ہے، عوام کاروبار اور مستقبل سے مایوس ہیں، نوجوان قومی ایشوز سے لاتعلق ہیں، قومی سیاسی قیادت اور سیاست بند گلی میں قید ہیں۔ بڑھتی ہوئی غربت غریب اور متوسط طبقہ کے لئے عذاب بن گئی ہے، بجلی بحران، بدترین لوڈشیڈنگ عوام کیلئے ہولناک منظر بنارہی ہے، کرپشن اور سرکاری اداروں میں عوام کی تذلیل اور جیب کترنے کا کلچر پاکستان کو پستی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حکمران بہت محنت سے عالمی محاذ پر ملک کا وقار بڑھا رہے ہیں لیکن ملک کے اندر بحران ہر محنت اور کامیابی پر پانی پھر رہا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا دھرنا احتجاج عوام کے مسائل کے حل کیلئے ہے۔ لیاقت بلوچ نے دھرنا کے شرکاء سے خطاب کیا اور مذاکراتی ٹیم کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات کیلئے جماعت اسلامی کی کمیٹی مقرر کردی ہے، لیاقت بلوچ مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین اور عنایت اللہ خان، فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ ممبر ہونگے۔ دونوں کمیٹیوں کا پہلا باقاعدہ اجلاس 7 ستمبر 2026ء￿ کو اسلام آباد میں ہوگا۔ مذاکرات بھی ہونگے لیکن یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کتنی سنجیدگی دکھاتی اور کتنے وقت میں مسئلہ حل کرتی ہے۔ دھرنے اور احتجاج، ملک بھر میں جلسے جلوس بھی جاری رہیں گے۔ عوام اپنے حقوق کی پْرامن سیاسی، جمہوری، آئینی جدوجہد کا حق استعمال کریں گے۔ ملک گیر ہڑتال سے حکومت عوام کے غصے کا ٹمپریچر محسوس کرے اور پٹرول لیوی بھتہ ختم کرے۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے بدترین لوڈشیڈنگ، خصوصاً رات کے اوقات میں مسلّط لوڈشیڈنگ ختم کرے۔ بجلی مہنگی اور بجلی پیداواری صلاحیت بھی وافر ہے، پھر بھی حکومت بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ادھر پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی،آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف کراچی میں گورنر ہائوس پر دھرنا جمعہ کو20ویں دن بھی جاری رہا ،دھرنا گاہ میں خواتین یوتھ بیٹھک منعقد ہوئی جس میں شہر بھر سے خواتین یوتھ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور احتجاج ریکارڈ کرایا ، امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے خواتین یوتھ بیٹھک کی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر 25 کروڑ عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، عوام کے ٹیکسوں سے آئی پی پیز کو اربوں روپے اس بجلی کے دیے جاتے ہیں جو بنائی ہی نہیں گئی ، فی لیٹر پیٹرول پر 130روپے بھتہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے،خواتین یوتھ بیٹھک سے ناظمہ حلقہ خواتین کراچی جاوداں فہیم نے بھی خطاب کیا ، جے آئی یوتھ ویمن ونگ کراچی کی صدر زمرہ وسیم نے خواتین کا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا، جبکہ پینل ڈسکشن سے اریبہ ثوبان، مدیحہ مسعود، ڈاکٹر فضا شکیل، ڈاکٹر زینب، صبوحہ اعجاز،انائبہ احمد نے بھی خطاب کیا،علاوہ ازیں جمعرات کو رات گئے ہڑتال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیے گئے کارکنان رہائی کے بعد دھرنا گاہ پہنچے جہاں منعم ظفر خان سمیت دیگر رہنمائوں اور شرکاء نے ان کا پر جوش استقبال کیا اور فضاء تیز ہو تیز ہو جدو جہد تیز ہو ، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی ، غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی ، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے ، پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرو، پیٹرول سستا کرو ، جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا ، دھرنا ہوگا ، کے نعروں سے گونج اُٹھی ، واضح رہے کہ کورنگی میں ہڑتال کے دوران امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ سمیت 10کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات لگاکر مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے گرفتار 6کارکنان کوجیل بھیج دیا گیا ہے ، منعم ظفر خان نے دھرنے کے 19ویں روز رات گئے شرکاء اور رہا ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر امن کارکنان کی گرفتار ی اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور واضح کردینا چاہتے ہیں کہ حکومتی جبر و تشدد اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات ہماری عوامی جدو جہد کو ہر گز نہیں روک سکتے ، کراچی کے عوام اور تاجر اور وکلاء کامیاب ہڑتال پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ہم ان سے اظہار تشکر کرتے ہیں ، ہماری جدوجہد مزید تیز ہوگی ، حکمرانوں کوپیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا اور کراچی کے عوام کا حق بھی دینا ہوگا ،منعم ظفر خان نے خواتین بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہکراچی کی خواتین نے ثابت کردیا کہ اس عوامی جدوجہد میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہیں،دھرنے میں اقلیتی برادری، قوت گویائی و سماعت سے محروم افراد ، علماء وکلاء ، تاجر ، محنت کش سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شریک ہو رہے ہیں ، ہم خواتین یوتھ کو بڑی تعداد میں دھرنے میں شرکت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ، پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بجلی، پانی سمیت تمام مسائل کا صبح و شام خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھاری بھرکم فیسوں کے بوجھ تلے عوام مشکل حالات سے گزررہے ہیں اور تعلیم کو بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔صوبہ سندھ میں 5 سے 16 سال تک کے 78 لاکھ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں اور حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور شہریوں کو تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں، نوجوان قوم کا اثاثہ ہیں، پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد حصہ 30 سال کے بچے اور بچیاں پر مشتمل ہے ، نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا ہاتھ تھاما جائے ، نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا یا جائے ، جماعت اسلامی نے بنوقابل کے عنوان سے زبردست تعلیمی تحریک شروع کی ہے ، 75 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے آئی ٹی کورسز مکمل کیے ہیں، جب جماعت اسلامی اپنے بچوں کے لیے آئی ٹی کی تعلیم فراہم کرسکتی ہے تو جن حکمرانوں کے پاس فنڈ ہے وہ کیوں نہیں کرسکتے ، ہم سب کو حکمرانوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ عوام کے غصب کیے گئے حقوق کو واپس کریں، ہم نوجوانوں کو ساتھ ملاکر جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں گے ، جدوجہد کو اپنا استعارہ بنائیں، مزاحمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں، چوروں، لٹیروں سے پاکستان کو آزاد کروائیں گے۔حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم نے خواتین یوتھ بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین یوتھ کا دھرنا گاہ میں بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے پاکستانی عورت بیدار ہے ،آج پاکستان کی بربادی کا سبب وہ حکمران ہیں جنہیں زبردستی ہمارے سروں پر مسلط کیا جاتا ہے ،ملک میں موجود طبقہ بدمعاشیہ اور چوروں و لٹیروں سے جان چھڑوائیں گے ، نوجوان نسل جاگ رہی ہے اور وہ سنجیدہ، باوقار اور تعلیم یافتہ ہے اور اچھی طرح مستقبل کے بارے میں جانتی ہے ، جماعت اسلامی خواتین،خواتین یوتھ کا ہاتھ تھام رہی ہے اور یہی خواتین ملک کے بہترین مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گی۔نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے شرکائے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اور عوامی جدو جہد اسی طرح جاری رہے گی،پیٹرول لیوی عوام پر بہت بڑا ظلم ہے ، امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جس طرح کراچی کے عوام کو بیدار کیا اسی طرح اب پوری قوم بیدار ہورہی ہے ، حافظ نعیم الرحمن کی ہڑتال کی کال پر کراچی کے تمام تاجروں نے اتحاد کا مظاہ کیا اور تاریخ ساز ہڑتال کر کے پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کو مسترد کیا ، کراچی کے تمام وکلاء نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کی ، ہم تاجر اور وکلاء برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے سازشیں کیں لیکن اس کے باوجود ہڑتال بھر پور کامیاب رہی ، شرجیل میمن رعونت کا شکا ر ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں ہمیشہ قابض رہیں گے ، کورنگی سے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ان کے خلاف انسداددہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں ،سندھ اسمبلی میں 4 دن سے تماشا لگا ہوا ہے، پیپلزپارٹی اپنے ظلم و ستم کواور بیڈ گورننس کو چھپانے کے لیے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بحث کر رہی ہے امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور سندھ حکومت سن لے دہشت گردی کی ایف آئی آر ہماری جدوجہد کو نہیں روک سکتی۔ تاریخی ہڑتال کر کے کراچی نے فیصلہ دیا ہے کہ شہر نے ہڑتالیں بہت دیکھی ہیں لیکن تاجروںکی ہڑتال رضاکارانہ ہڑتال ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں ہڑتال کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کراچی کے تمام تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ ہم حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پولیس کا رویہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت رہا ۔ صبح سے پر امن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس اہلکار زبردستی دکانیں کھلوانا شروع ہوگئے۔ کورنگی 2 نمبر پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور تاجران نے مل کر پریس کانفرنس کرنی تھی پولیس نے پریس کانفرنس نہیں کرنے دی او ر گرفتار کرلیا۔ایف آئی آر امیر ضلع، نائب امیر ضلع یوسی چیئرمین کے خلاف کاٹی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی مولانا فضل احد نے کہا کہ سعید غنی کو پریشانی ہے کہ ہڑتال کیوں کامیاب ہوئی، سعید غنی جماعت اسلامی کی مقبولیت سے گھبراگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایم کیو ایم بننے جارہی ہے۔ دھرنا بھی جاری رہے گا، شہر کراچی حافظ کی تحریک کا پشتباں ہے، آج اعلان کریں پورا شہر کراچی اسلام آباد پہنچے گا۔مزید برآں امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کراچی میں حالیہ ہڑتال کے موقع پر جماعت اسلامی کے کارکنان کی گرفتاریوں اور امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی فرحان بیگ سمیت دیگر کارکنان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات کا اندراج پیپلز پارٹی حکومت کی بدترین فسطائیت اور سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت اختلافِ رائے کو دبانے اور عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنے کے بجائے عوام کے بنیادی مسائل حل کرے۔صوبائی امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بھتہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کا مسئلہ بن چکی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اضافی ٹیکسز نے مہنگائی سے پہلے ہی پریشان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پرامن احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے اور ان پر انسداد دہشتگردی کے مقدمات قائم کرکے اپنے خلاف عوامی غصے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں عوام نے ہڑتال کرکے پٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس کے خلاف جس بھرپور انداز میں آواز بلند کی ہے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ تحریک عوام کے دل کی آواز بن چکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار تمام کارکنان کو فوری رہا کیا جائے اور فرحان بیگ سمیت دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف درج دہشتگردی کے مقدمات فی الفور ختم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے ذریعے جماعت اسلامی کو عوام کے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کرایا جاسکتا۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بھتہ ٹیکس کے خاتمے، مہنگائی میں کمی اور عوام کو حقیقی ریلیف ملنے تک جماعت اسلامی کی پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت طاقت کے استعمال کے بجائے عوام کے مطالبات تسلیم کرے اور فوری طور پر ریلیف کا اعلان کرے۔

مزید خبریں

Scroll to Top