عوامی مطالبات کے حل تک دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، لیاقت بلوچ

raw-its-agents-active-again-says-liaquat-baloch-1466692606-2443

لاہور: وزیراعظم اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بجلی، پیٹرول اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر اہم مذاکرات آج اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔

اس اجلاس میں جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے مطالبات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کی 6 رکنی ٹیم مذاکرات میں حصہ لے رہی ہے جس میں عنایت اللہ خان، فراست علی شاہ، ضیاء الدین انصاری، نصر اللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔ ٹیم کے ارکان اپنے مطالبات کے حق میں ٹھوس شواہد اور تجاویز پیش کریں گے۔

دریں اثنا لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ مسائل کا حل حکومت کی سنجیدگی پر منحصر ہے اور یہ طے کرے گی کہ حکومتی حلقے کتنے وقت میں عوام کو ریلیف دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی وفد نے لاہور میں منصورہ کا دورہ کیا تھا جہاں دونوں فریقین کے درمیان ابتدائی بات چیت ہوئی۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام پر بوجھ کم کیا جائے۔

حکومتی کمیٹی نے جماعت اسلامی کے مطالبات کو جائز تسلیم کیا تاہم ان کا موقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے تناظر میں کرنا ناگزیر ہے۔ حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ ان کی اولین ترجیح عوام کو مہنگائی کے اس طوفان سے نکال کر ریلیف فراہم کرنا ہے۔

جماعت اسلامی کی قیادت کا کہنا ہے کہ عوامی احتجاج کا بنیادی مقصد ملک میں جاری معاشی بحران اور مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کے ساتھ ہونے والا آج کا یہ اجلاس آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔

دونوں اطراف سے جاری پریس کانفرنسوں میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی کمیٹی اور جماعت اسلامی کے نمائندے آج کی بیٹھک میں عوامی ریلیف کے حوالے سے کیا حتمی لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں اور معاہدہ طے پاتا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top