تجارتی خسارے میں اضافہ: برآمدات میں جمود اور بڑھتی درآمدات ملکی معیشت کیلیے خطرہ

trade-deficit

اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران 18 فیصد اضافے کے ساتھ 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں 2 گنا ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.1 ارب ڈالر بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خسارہ عالمی مارکیٹ سے حاصل کردہ حالیہ قرضوں سے بھی زیادہ ہے۔

حکومتی سطح پر برآمدات بڑھانے کے لیے مراعات اور خصوصی سہولیات فراہم کرنے کے باوجود برآمدی حجم میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی ہے۔ برآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ مارکیٹ کے حالات ان کی مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے برآمدات جمود کا شکار ہیں۔

دوسری جانب درآمدات کا حجم 12.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی بینک کی ٹیرف پالیسی کے تحت معیشت کو کھولنے کے باوجود توقعات کے برعکس درآمدات کا گراف برآمدات سے کہیں زیادہ تیزی سے اوپر کی جانب بڑھ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ملکی بیرونی شعبے کا استحکام اب مسلسل غیر ملکی قرضوں کی فراہمی پر منحصر ہوتا جا رہا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر کے مہنگے قرض پر بھی اب بھاری شرح سود ادا کرنا ہوگی۔ یہ صورتحال ملکی مالیاتی توازن کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

مستقبل کے حوالے سے یہ رجحان معاشی ٹیم کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے، کیونکہ ٹیرف پالیسی کے ثمرات ابھی تک برآمد کنندگان تک نہیں پہنچ سکے۔ اگر درآمدات میں اضافے کا موجودہ سلسلہ جاری رہا تو ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عوامی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔

مزید خبریں

Scroll to Top