حوثیوں کی یمنی فوج کے ٹھکانوں پر یلغار، تعز میں شدید لڑائی، 100 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ

US Attack4

صنعا: یمن میں حوثی ملیشیا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی سکیورٹی فورسز کے درمیان طویل عرصے بعد ایک بار پھر شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں، تعز کے مغربی علاقوں اور حدیدہ کے جنوب میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے جاری لڑائی میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تعز اور حدیدہ کے درمیان مختلف محاذوں پر ہونے والی جھڑپوں میں حوثی جنگجوؤں اور یمنی حکومتی فورسز کے 100 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کی صبح مغربی تعز کے متعدد محاذوں پر حکومتی فورسز کے خلاف اچانک حملے کیے۔ حملوں میں میزائل اور ڈرونز کے استعمال کے بعد زمینی لڑائی شروع ہوئی، جسے مقامی ذرائع نے 2022 کے بعد علاقے میں ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیا ہے۔

حوثی جنگجوؤں نے مقبانہ، موزعہ اور جبل حبشی کے علاقوں میں مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی، جس کے باعث مقامی آبادی کے ایک بار پھر نقل مکانی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب یمنی حکومت کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حوثیوں کو بعض علاقوں سے پسپا کردیا اور کئی مقامات کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

یمنی فوج کے میڈیا سینٹر کے مطابق جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 18 حوثی جنگجو ہلاک جبکہ متعدد زخمی یا گرفتار ہوئے۔ دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ لڑائی میں 13 حکومتی اہلکار بھی مارے گئے۔

یمنی فوج کے مطابق حوثیوں نے تعز اور حدیدہ کے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے 14 بیلسٹک میزائل داغے جبکہ متعدد ڈرونز بھی استعمال کیے، حوثیوں نے مغربی تعز کے مقبانہ کے پہاڑی علاقے میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا اور الاحطوب، التویر، الکدحہ اور جبل غباری کے علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

حکومتی فورسز کے مطابق حوثیوں کی کارروائی کا ایک اہم مقصد تعز شہر کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے اور المخا بندرگاہ سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو کاٹنا تھا۔ المخا بندرگاہ بحیرہ احمر کے جنوبی ساحل پر واقع اہم بندرگاہ ہے اور تعز سے اس تک جانے والی سڑک حکومتی فورسز کے لیے رسد کی فراہمی کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

حالیہ عرصے میں المخا بندرگاہ بھی حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

شدید لڑائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں عام شہری بھی محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں، جبل حبشی کے قریب ایک کیمپ میں مقیم تقریباً 300 خاندان دوبارہ نقل مکانی کرگئے۔ ان میں بعض خاندان ایسے بھی ہیں جو 2022 میں ہونے والی لڑائی کے باعث پہلے ہی بے گھر ہوچکے تھے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے یمن کو دنیا کے بڑے انسانی بحرانوں میں شمار کرتے رہے ہیں۔ طویل خانہ جنگی کے باعث ملک کا بنیادی ڈھانچہ، صحت کا نظام اور خوراک کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے جبکہ لاکھوں افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔

صنعا میں موجود ایک حوثی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حالیہ کارروائی ان کے بقول ’’یمنیوں کا محاصرہ توڑنے‘‘ کی کوشش کا حصہ ہے۔ ذریعے کے مطابق حوثی بالخصوص سمندری محاذ پر دباؤ کم کرنا چاہتے ہیں، حوثی میڈیا نے حالیہ لڑائی اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کیں۔

یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان جنگ 2014 میں شدت اختیار کرگئی تھی، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کرلیا،سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔

اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں جنگ بندی کے بعد یمن کے کئی محاذ نسبتاً پُرسکون رہے، تاہم تنازع کا مستقل سیاسی حل نہیں ہوسکا اور مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً جھڑپیں اور حملے جاری رہے۔

حالیہ مہینوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، ان دعوؤں اور مجموعی جانی نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔

مزید خبریں

Scroll to Top