کراچی: شہر قائد کے پوش علاقے ڈیفنس میں خاتون کی جانب سے بہن بھائی پر مبینہ تشدد کے معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی، جس میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کو بھی معاملے میں انتظامی غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمہ بی کلاس قرار دے کر خارج کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ضلع کورنگی کے 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران اور پولیس موبائل افسر آفتاب کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انکوائری کمیٹی نے متاثرہ خاندان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں ویڈیو میں تشدد کرتے نظر آنے والی 2 خواتین اور ایک مرد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کی جانب سے معاملے میں انتظامی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، لہٰذا ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے واقعے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں تشدد کرنے والے تمام افراد ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کے قریبی رشتہ دار ہیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ مزید کارروائی کے لیے ایڈیشنل آئی جی کو بھجوا دی گئی ہے،واقعے میں کسی بھی ذمہ دار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور انکوائری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔















