کراچی کسٹمز کی نیلامی میں 16.5 ملین روپے کا فراڈ، محکمہ کا اپنا اہلکار بھی گرفتار

Customs-Enforcement-Karachi

کراچی: کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے 16.5 ملین روپے کے مبینہ نیلامی فراڈ کا سراغ لگاتے ہوئے اپنے ہی ایک اہلکار، بولی دہندہ اور ایک سہولت کار کو گرفتار کرلیا، جبکہ فراڈ کا مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کلرک تاحال مفرور ہے۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق فروری 2026 میں جعلی دستاویزات کے ذریعے تقریباً 15 ملین روپے مالیت کا نیلامی سامان بغیر ادائیگی حاصل کیا گیا۔ فراڈ کے لیے جعلی پی ایس آئی ڈی، ڈیلیوری آرڈر، این او سی اور انکم ٹیکس کی جعلی سی پی آر استعمال کی گئی۔

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ نیلامی فراڈ میں آکشن برانچ کے ایک اہلکار سمیت 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ جعلی دستاویزات تیار کرنے والے کلرک کو فراڈ کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے، مرکزی ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے تاحال مفرور ہے، اس کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق گرفتار تینوں ملزمان نے دوران تفتیش فراڈ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ عدالت نے گرفتار ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرلیا ہے، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے، 16.5 ملین روپے کے فراڈ کی رقم کی ریکوری، جعلی دستاویزات کے ذریعے نیلامی سامان حاصل کرنے کے طریقہ کار کا تعین اور اس معاملے میں ملوث دیگر ممکنہ ملزمان کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستان کسٹمز کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) بدعنوانی اور بدعنوان طرز عمل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور محکمہ جاتی اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے اہلکاروں سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

کسٹمز حکام نے واضح کیا کہ سرکاری نیلامی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی روک تھام کے لیے نگرانی مزید سخت کی جارہی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top