کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) راولپنڈی میںفوج کی تعیناتی سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ‘ مدت پوری کرے گی‘وفاقی حکومت نے فوج کی تعیناتی ضلعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کی ہے ،نام نہاد حکمران کسی نہ کسی طرح اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں‘فوج کی مدد وہی حکومتیں لیتی ہیں جن کا چل چلاؤ قریب ہوتا ہے،کسی بھی وقت دھڑن تختہ ہوسکتا ہے ۔’’کیا راولپنڈی میں آرٹیکل245 کے تحت فوج کی تعیناتی حکومت کے لیے خطرہ کی علامت ہے؟ ‘‘کہ سوال کے جواب میںقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسی حکومت جس کی عوام میں جڑیں نہیں ہیں اس حکومت کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے‘ پارلیمنٹ کے مختلف اجلاسوں میں آئین کے دائرہ کار میں رہنے والی فوج کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے‘ راولپنڈی میں فوج کی طلبی یا تعیناتی کے حوالے سے آئین میں یہ بحث جاری ہے کہ اسے ممکنہ سیاسی احتجاج یا سیکورٹی اقدامات سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم محمود خان اچکزئی کا مجموعی اور اصولی مؤقف یہ رہا ہے کہ آئین کی بالادستی کے تحت فوج سمیت تمام اداروں کو آئین کے دائرے کے اندر رہنا چاہیے‘ پاکستان کی فوج پورے ملک اور تمام اکائیوں کی مشترکہ قومی فوج ہے‘ ملک کے تمام مسائل کا حل آئین کی پاسداری اور جمہوری عمل کی بالادستی میں مضمر ہے‘ ہر وقت فوج کو قیام امن کے لیے شہروں میں مصروف رکھنا درست نہیں ہے‘ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی عسکری خطرات کا سامنا ہے ‘ عوام کا کوئی کام نہیں ہو رہا‘ بس اس بات کی فکر ہے کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کو طول دیا جائے‘ پی ٹی آئی کو راولپنڈی میں آرٹیکل245 کے تحت فوج کی تعیناتی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور حکومت عوام کی خدمت کرتے ہوئے اپنی مدت پوری کر ے گی‘ راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت عمل میں آئی ہے‘ یہ ضلعی حکومت کی ضرورت تھی اور اسی لیے فوج کو بلایا گیا ہے‘ اس میں کہانی صرف یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر راولپنڈی میں سیکورٹی کے لیے پاکستانی فوج کی 3 کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دیدی ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاکستانی فوج کی تین کمپنیوں کو راولپنڈی میں حساس سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ فوج کو ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے شفقت نے کہا کہ راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی حکومت کے لیے کسی خطرے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک دھمکی ہے کہ اب حکومت کا وقت ختم ہو چکا ہے‘ ویسے بھی یہ حکومت نہ ہی کوئی پلان رکھتی اور نہ اس کے پاس قیام امن کے لیے کو ئی پروگرام ہے‘ فوج کی مدد وہی حکومتیں لیتی ہیں جن کا چل چلاؤ قریب ہوتا ہے‘ ن لیگ کی حکومت ایک نازک ٹہنی پر ہے اور ایسا آشیانہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو جاتا ہے یہ ایک امن و امان کو برقرار رکھنے کا ایک آئینی اور انتظامی اقدام ہے۔ امن کا قیام صرف وہی حکومت کر سکتی ہے جس کو عوام کی حمایت حا صل ہو لیکن موجودہ حکومت کو یہ سب کچھ میسر نہیں ہے ۔















