جماعت اسلامی کی کا میاب ملک گیر ہڑتال ، حکومتی وفدکی منصورہ آ مد،حافظ نعیم کا مذاکرات کیساتھ دھرنے جاری رکھنے کا اعلان

لاہور؍کراچی؍پشاور؍کوئٹہ؍اسلام آباد(نمائندگان جسارت)پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر جمعرات کو ملک گیر کامیاب شٹرڈائون ہڑتال ہوئی۔ پشاور سے کراچی تک بڑے اور چھوٹے شہروں میں اہم کاروباری مراکز اور بازار بند رہے اور تاجر برادری نے جماعت اسلامی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام جاری دھرنوں کے 19ویں روز ملک گیر ہڑتال کے دوران کئی مقامات پرمظاہرے ہوئے، موٹرسائیکل ریلیاں نکالی گئیں اور پریس کانفرنسز کا انعقاد ہوا۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے تاجروں کے ہمراہ مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا اور ہڑتال کرنے پر تاجر تنظیموں اورعوام کا شکریہ ادا کیا۔ تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر لاہور کی اہم مارکیٹیں بند رہیں۔ پولیس نے بعض مقامات پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ہراساں کیا اور گرفتار کیا۔ لاہور کے علاوہ کراچی اور لاڑکانہ میں بھی جماعت اسلامی ، جے آئی یوتھ کے رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان جماعت اسلامی نے گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں سپرمارکیٹ، آب پارہ، جی ایٹ ، جی نائن میں کاروباری مراکز بند رہے۔ امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر راولپنڈی سید عارف شیرازی اور صدر تنظیم تاجران کاشف چودھری نے مارکیٹوں کے دورے کیے اور عوام کا شکریہ اد کیا۔ ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، منڈی بہائوالدین، جھنگ، سرگودھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خاں، صادق آباد میں بھی اہم مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔ پشاور میں امیرجماعت اسلامی وسطی عبدالواسع نے انجمن تاجران کے بانی صدر محمد افضل کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کی اور خیبر بازار، قصہ خوانی بازار ، اشرف روڑ اور دیگر مقامات پر دکانیں بندرکھنے پر تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی ریلی کی قیادت کی۔ چارسدہ ،باڑہ بازار ضلع خیبر ، صوابی میں بھی مارکیٹیں اور دکانیں بند رہیں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ ہزارہ ڈویژن میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور ، بٹ گرام میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی نے کامیاب اور پرامن ہڑتال پر عوام ، تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا۔کوئٹہ میں ائرپورٹ روڑ سمیت اہم اور مرکزی مارکیٹیں بند رہیں، گوادر، جعفرآباد، اوستہ محمد، ژوب اور صوبے کے دیگر مقامات پر کامیاب ہڑتال ہوئی۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، ٹھل، میرپورخاص، جیکب آباد، گھوٹکی، شکارپور، ٹھٹھہ، تھرپارکر، سکرنڈ، نواب شاہ، بدین، ہالا، شہدادکوٹ سمیت صوبہ کے مختلف شہروں اور علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔ جماعت اسلامی یوتھ کے تحت مختلف شہروں میں موٹرسائیکل ریلیاں نکالی گئیں۔ ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر پولیس کی جانب سے زبردستی دکانیں کھلوانے کی کوشش کی گئی۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنمائوں نے پولیس کے اس رویے کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال پر تاجر برادری، کاروباری انجمنوں، دکانداروں اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔امیر سندھ کاشف سعید شیخ نے شہداد پور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے مختلف شہروں میں کامیاب ہڑتال پر عوام اور تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے لاڑکانہ میں احتجاجی ریلی کی قیادت کی۔ امیر حیدرآباد طاہر مجید نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہر کی تاجربرادری کا ہڑتال کو کامیاب کرنے پر شکریہ اداکیا۔ ٹنڈوآدم میں تمام صنعتی و تجارتی مراکز محمدی چوک، بلدیہ چوک، ایم اے جناح روڈ، لطیف گیٹ ، شاہی بازار، بمبئی بازار ، لوہار گلی ، حیدرآباد روڈ سمیت دیگر علاقے مکمل طور پر بند رہے۔ امیر جماعت اسلامی ٹنڈوآدم سید عریف اللہ سیفی اور امیر تحصیل ٹنڈوآدم عبدالغفور انصاری کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ۔
لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال ، سیاسی امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ اور صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق پر مشتمل حکومتی وفد نے ملاقات کی اور بعدازں دونوں اطراف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے جاری دھرنوں کے انیسویں روز اور ملک گیر کامیاب شٹرڈاؤن کے روز منصورہ میں مذاکرات کے لیے آنے والے حکومتی وفد پر حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف لاہور ، کراچی ، پشاور اور دیگر شہروں میں جاری دھرنے اور مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک عوامی مطالبات تسلیم نہیں ہوتے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کی حکومتی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ پر مشتمل کمیٹی قائم کی ہے جو حکومتی ٹیم سے پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے مسئلہ پر مذاکرات کرے گی۔نائب امیر لیاقت بلوچ ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، ضیاالدین انصاری ، نصراللہ رندھاوا ، امیر جماعت کے معاون خصوصی عمیر ادریس ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ و دیگر قیادت مذاکرات اور پریس کانفرنس کے مواقع پر امیرجماعت اسلامی کے ہمراہ تھی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حبس اور شدید گرمی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کسی سیاسی مفاد یا شوق کی خاطر نہیں ہیں بلکہ ہم مہنگائی ، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور بالخصوص پیٹرول پر عاید لیوی اور دیگر ٹیکسز کا خاتمہ چاہتے ہیں جو ایک لیٹر پر 130 روپے سے زاید ہیں، حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی اور جنگی حالات کے باوجود عوام کو سہولت نہیں دی ، ملک میں 40 فیصد کے قریب عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، مہنگے پیٹرول اور مہنگی بجلی نے 90 فیصد سے زائد آبادی کی کمر توڑ دی ہے ، حکومت آمدن کے حصول کے لیے عام آدمی کو مہنگائی کی چکی میں نہ ڈالے ، حکمران اپنے اخراجات کم کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل ٹیم نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے پر پوری ورکنگ (Working) کی ہے ، مذاکرات کا آغاز ہوگا تو ہم حکومت کو بتائیں گے کہ کس طرح عوام کو سہولت دے کر معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی پرامن جدوجہد کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، حکومت عوام کو ہر صورت سہولیات اور ان کا حق دے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز کو پوری سنجیدگی سے لے گی اور جس حد تک بھی گنجائش ہوئی عوام کو سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی پرامن تحریک کو سراہا اور کہا کہ جمہوری جدوجہد ہر کسی کا حق ہے تاہم احتجاج کی آڑ میں افراتفری نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی مجبوریوں کا بھی تذکرہ کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم سے پیر سے مذاکرات کا آغاز ہوگا اور زیادہ سے زیادہ 2 ہفتوں تک مطالبات پر مثبت پیش رفت ہوگی۔
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کر سکتی تو جماعت اسلامی اپنی جدوجہد ختم نہیں کرے گی، جمعرات کی ملک گیر ہڑتال اس تحریک کی ریہرسل تھی، اگلی اپیل پہیہ جام کی ہوگی، لانگ مارچ کے لیے بھی تیار ہیں۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج ملک بھر میں تاریخی جدوجہد ہوئی، کراچی میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا، وکلا نے ریلیاں نکالیں، ملاکنڈ ڈویژن میں تاریخی ہڑتال اور خیبر پختونخوا کے وسطی اضلاع میں بھی کاروبار بند رہے۔ پنجاب بھر میں پولیس تشدد کے باوجود ہڑتال کامیاب رہی۔نائب امیر لیاقت بلوچ اور امیر لاہور ضیاالدین انصاری نے بھی دھرنا کے شرکا سے خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر وسطی پنجاب جاوید قصوری، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور ، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں کے انیسویں روز عوام کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہوئی۔ حیدرآباد، سکھر ، چترال ، جنوبی پنجاب اور سندھ کے کئی دیگر مقامات پر بھی مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے۔ دھرنوں کے انیسویں روز امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال بھی ہوئی ، بڑے اور چھوٹے شہروں میں اہم کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور میں ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، کراچی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں، جن کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف دہشت گردی کے ناجائز مقدمات درج کیے گئے ہیں، جنہیں فوری واپس لیا جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج حکومتی وفد مذاکرات کے لیے آیا اور جماعت اسلامی نے اپنی اقدار کے مطابق اس سے بات کی۔ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جا سکتی، جس پر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ لیوی ختم کرنے کا طریقہ وہ بتائے گی۔ حکومتی کمیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی کی تجویز پر عمل کرے گی، تاہم جماعت اسلامی صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں کر سکتی۔ حکومت کے مظالم کی مکمل فہرست موجود ہے ، مذاکرات کی میز پر حکومت کو ناک آؤٹ کریں گے۔امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ راولپنڈی کا دھرنا جلد شروع ہوگا جبکہ لاہور کا دھرنا بھی جاری رہے گا۔ حکومت مذاکرات میں جتنی تاخیر کرے گی، دھرنوں کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوتا جائے گا۔ لاہور، کراچی، سکھر، چترال، حیدرآباد سمیت کئی مقامات پر دھرنے جاری ہیں جبکہ پشاور میں بھی 3 مقامات پر احتجاج ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، بجلی اور روٹی سستی کرنے کے مطالبات پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ کل کارکنوں کو مطالبات پر مبنی فارمز دیے جائیں گے اور ملک بھر میں 5 کروڑ افراد کے دستخط حاصل کیے جائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ کسی بھی دن پہیہ جام کی کال دے سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی لانگ مارچ کے لیے بھی تیار ہے اور اس کی تحریک رکنے والی نہیں۔سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پر ایم کیو ایم بننے کا الزام لگانے والے یاد رکھیں کہ جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو ہزاروں گاڑیاں اور املاک جلائی گئیں۔ پیپلز پارٹی جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا مارنے والی جماعت ہے، جمہوریت کے ڈاکو جماعت اسلامی کو ہڑتال کا طریقہ نہ بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام نے عوام کو بہت دھوکے دیے ہیں اور لوگوں کا اعتماد سیاسی جماعتوں سے اٹھ چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سنجیدہ قائدین نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کی جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ کارکن بھی اس تحریک سے جڑ رہے ہیں۔
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر کراچی نے بھی جمعرات کو مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کر کے پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس اور آئی پی پیز کے ظالمانہ و عوام دشمن معاہدوں کو مسترد کر دیا ، شہر کے تمام تجاری و کاروباری مراکز ، چھوٹی بڑی مارکیٹیں و شاپنگ مالز اور عام دکانیں و بازار مکمل طور پر بند رہے جبکہ پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن نے پمپس اور آل کراچی پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن نے بھی اسکولوں کو بند کر نے کا اعلان کیا تھا ، ہڑتال کے باعث نجی و سرکاری تعلیمی اداروں اور دفتروں میں حاضری کم رہی اور عام شہریوں نے بھی مہنگے پیٹرول و بجلی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کی ، علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ اور ہڑتال کی اور ریلی کی صورت میں گورنر ہائوس دھرنا گاہ پہنچے ، جہاں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ہائی کورٹ بار کے صدر حسیب جمالی ، کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ ، جنرل سیکرٹری ارشد شر، دونوں بارز کے عہدیداران ، اسلامک لائرز موومنٹ کے صدر فرخ عثمان ، ول فورم کی خواتین وکلا سمیت بڑی تعداد میں پہنچنے والے وکلا کا استقبال کیا،منعم ظفر خان ے ریگل چوک پر تاجر تنظیموں کے رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس اور گورنر ہائوس پر وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کی پوری تاجر برادری سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ جمعرات کو کراچی کی 300سے زائد چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں مکمل شٹر ڈائون اس بات کا اعلان ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی نے پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس کی ظالمانہ وصولی اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے باعث عوام پر مہنگے پیٹرول اور بجلی کے ذریعے اربوں روپے کے مالی بوجھ ڈالنے کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے ، حکومت کو پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس واپس لینا ہوگا ، پیٹرول اور بجلی سستی کرنی پڑے گی ، جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد اور تحریک جاری رہے گی ، احتجاج ہوگا ۔ دھرنے بھی جاری رہیں گے ، حکومت سے عوام کے حق کے لیے مذاکرات بھی ہوں گے اور حکومت نہ مانی تو لانگ مارچ کا آپشن بھی کھلا ہوا ہے ۔منعم ظفر خان نے لانڈھی و کورنگی، اورنگی ، بلدیہ ٹائون میں پولیس کی سرپرستی میں بند دکانیں کھلوانے کی کوششوں اور لیاری و کورنگی میں جماعت اسلامی کے پر امن کارکنوں کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ زور زبردستی و جلائو گھیرائو ہمارا کام نہیں ، جماعت اسلامی پر امن آئینی و جمہوری جدو جہد پر یقین رکھتی ہے ، 19دنوں سے جماعت اسلامی کا دھرنا جاری ہے اور شہر کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج ہو رہا ہے ، کوئی ایک پتھر پھینکا گیا نہ شیشہ توڑا گیا ، ہڑتال کی اپیل پر پوری تاجر برادری نے کھل کر حمایت کی اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا ، اس لیے ہماری پر امن اور کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے ، شر جیل میمن بھی بیان بازیا ںکر رہے ہیں ، پولیس اور انتظامیہ بھی سن لے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے کا کوئی فائدہ نہیں ، منعم ظفر خان نے کامیاب ہڑتال پر کراچی کی پوری تاجر برادری ، وکلا برادری ، پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن اور آل کراچی پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سمیت تمام طبقات اور اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے پاس شہر کی سیکڑوں مارکیٹوں کی فہرست موجود ہے جومکمل طورپر بند رہیں، جن میں کراچی الیکٹرونکس ،بولٹن ،کھوڑی گارڈن ،کچی گلی، لیاقت آباد کریانہ ،طارق روڈ ،بہادر آباد ،گلشن اقبال کی مارکیٹیں،مسکن چوک ،اقبال کپڑا مارکیٹ ،سہراب گوٹھ ،گلشن امین ،واٹر پمپ اناج اورسائیکل مارکیٹ،اکبر روڈ موٹرسائیکل مارکیٹ ، منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ ،اردو بازار ،آرام باغ فرنیچر مارکیٹ، صدر ،ناظم آباد ،ریگل، ملیر جناح مارکیٹ، ڈینسو ہال ،الیکٹرونکس مارکیٹ ،لائٹ ہائوس سمیت 300سے زائد چھوٹی بڑی مارکیٹیں پوری طرح بند ہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ جس ملک کے اندر کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہوں اور جہاں حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہوں وہاں ہر فرد ایک لیٹر پیٹرول پر 130روپے پیٹرولیم لیوی اورد یگر ٹیکسز حکومت کو ادا کررہا ہے، لوگ پریشان ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں ، گھر کے دیگر اخراجات پورے کریں یا حکومت کو یہ بھاری بھرکم لیوی بھتا ٹیکس اداکریں ، ہمیں کسی طور یہ لیوی بھتا ٹیکس قبول نہیں ہے ،اسے فی الفور ختم کیا جائے ،ملک کے تمام طبقات اور پاکستان کے 25کروڑ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں ختم کریں ، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم اور مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے ،اسی طرح آئی پی پیز اور کراچی میں کے الیکٹرک عوام پر ظلم وستم کررہے ہیں ان کو لگام دی جائے ، لوگ 14،14گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنے پر مجبور ہیں، کاروبار اور صنعتیں تباہ حال ہیں، لوگ بیروزگار ہورہے ہیں، کے الیکٹر ک اپنا قبلہ درست کرے ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے گورنر ہائوس پر وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران اتنے بے حس ہیں کہ عوام کی مشکلات کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ لیوی کے نام پر اربوں روپے بھتا لے رہے ہیں ۔سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر حسیب جمالی،کراچی بار کے صدر عامر وڑائچ، سمیت دیگر وکلا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جماعت اسلامی کے موقف کی تائید ، ہڑتال کی حمایت اور دھرنے میں ایک بار پھر تشریف لا کر اظہار یکجہتی کیا ۔جماعت اسلامی بھی وکلا برادری کے ساتھ ہے ۔ جماعت اسلامی مظالم کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے جائز مطالبات اور حق کے لیے جدو جہد کر رہی ہے ، پیٹرول لیوی کا مسئلہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں ، پوری قوم اور ہر طبقے کا ہے ، ہم اس جدو جہد میں جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں اور حافظ نعیم الرحمن کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جو عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ، حکمرا ن عوام کے مسائل سمجھیں اور مہنگائی سے نجات دلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک روز قبل بھی گورنر ہائوس آئے تھے اور اظہار یکجہتی کیا تھا آج ہم نے عدالتوں کا بائیکاٹ کر کے علامتی ہڑتال بھی کی اور ریلی کی صورت میں یہاں آئے اور ایک بار پھر اظہار یکجہتی کیا ۔ عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں وکلا برادری کی طر ف سے جماعت اسلامی کی جدو جہد سے یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور وکلا برادری کے ساتھ بھی کھڑی ہوئی ہے ، ہم بھی جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد میں ساتھ ہیں ، حکومت کو پیٹرول لیوی واپس لینا ہو گی ۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرولیم لیوی بھتا ٹیکس کے خلاف جمعرات کو کراچی میں مکمل ہڑتال کے دوران شہر کے اہم تجارتی مراکز و مارکیٹیں بند ہیں

مزید خبریں

Scroll to Top