تہران،واشنگٹن،تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک، خبر ایجنسیاں)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ اب اسرائیل کا مرکزی مقصد بن چکا ہے اور یہ ہدف حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔تل ابیب میں تقریب کے دوران اسرائیلی فوج کے جنرل اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں ایران سے لاحق خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت پر مکمل یقین ہے۔قبل ازیںاسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کی موجودہ حکومت کو گرانے کے لیے کام کر رہا ہے، میری ہدایت پر اسرائیل کے تمام متعلقہ ادارے ایرانی حکومت کو شکست دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ اسرائیلی پائلٹس کسی بھی وقت ایران میں کارروائی کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔غزہ سے متعلق نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے ، ان کے مطابق اسرائیل کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اورغیر عسکری بنانا ہے۔علاوہ ازیںمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دوطرفہ تعاون اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق اماراتی حکام نے بتایا کہ صدر شیخ محمد بن زاید نے امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیلی فون کال وصول کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے لیے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات کی۔گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت اور خطے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جاری کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔تاہم اماراتی سرکاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے کسی مخصوص سفارتی یا فوجی اقدام پر اتفاق کیا ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال ایک بار پھر انتہائی حساس ہوگئی ہے۔امریکی حملوں کے بعد ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ خلیجی ممالک نے اپنی فضائی دفاعی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔قبل ازیںٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ میں صدر ہوں اور میں اسرائیل کا خیال رکھوں گا۔دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر امریکی فوج کے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، سامان کے گوداموں اور جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی دستوں اور ریڈار نظام کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے کویت پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں کویت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہوسکتی ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے جاری مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔قطر نے کہا کہ ان حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی قانونی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔قطری وزارت خارجہ نے کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ کویت کی خودمختاری اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔قطر نے خطے میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے، مزید کشیدگی سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ قطر نے فریقین سے پہلے طے پانے والی سفارتی مفاہمت کی بنیاد پر دوبارہ مذاکرات اور بات چیت کی طرف واپس آنے کی اپیل بھی کی۔قبل ازیں ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 30 اگست سے 2 ستمبر کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 142 زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 44 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جاں بحق افراد میں ایک بچہ اور دو خواتین شامل ہیں۔ایرانی وزارت صحت کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے خبر دی ہے کہ دو رات قبل ایران پر امریکی حملوں میںتین ایرانی فوجی پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والی اس میڈیا ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ پائلٹ کہاں اور کس طرح ہلاک ہوئے۔تسنیم نیوز کے مطابق ان پائلٹس کے نام مجتبیٰ باقری، بحریہ کے حامد اوکاٹی اور فضائیہ کے حسین مہدویان تھے۔تسنیم نے ایک علیحدہ رپورٹ میں ایرانی آرمی فورسز کے چھ دیگر ارکان کے نام بھی شائع کیے اور کہا کہ وہ ملک کے جنوبی حصوں میں حملوں میں ہلاک ہوئے۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے اعلان پر نجی طور پر غور کررہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتیوں کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سینئر معاونین کے ساتھ اس امکان پر بات کی ہے کہ آیا ایران کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اس اقدام کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایران پر مسلسل شدید معاشی دباؤ ڈالنے سے تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے یا معاشی طور پر شدید بحران کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولی جائے گی۔ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران نے امریکا کو یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی رضامندی ضروری ہوگی۔علاوہ ازیںامریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 40 تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کی، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 18 ملین بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ سی این این کے مطابق یہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا حفاظتی آپریشن تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے بحری جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف میں ایرانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں ایرانی فضائی دفاعی مراکز، ریڈار نظام، بحری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی تنصیبات سمیت تقریباً 60 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ادھرامریکی وزیر خارجہ مارکو روبِیو نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں گے انہیں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔برائن کِل میڈ شو کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبِیو نے بھارت اور ایران کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ طے پایا ہے۔روبیو نے کہا کہ دنیا کے ممالک اپنی آزاد خارجہ پالیسیاں رکھتے ہیں اور کئی ممالک ایران سے رابطے میں ہیں۔ تاہم ان کے مطابق کسی ملک کو ایران کے لیے ایسا نظام یا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے جس سے تہران امریکی پابندیوں سے بچ سکے یا آمدنی حاصل کرسکے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ممالک کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔روبیو کے مطابق امریکا کو خدشہ ہے کہ ایران حاصل ہونے والی آمدنی کو دہشت گردی کی حمایت اور جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے، اس لیے ایسے ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔روس نے امریکی وزیر خزانہ ا سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دیگر ممالک کو ایران کی حمایت ختم کرنے اور اس سے دوری اختیار کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ ہمارے شراکت دار اور دوست موجود ہیں اور ہم ان کے ساتھ اپنے دوستانہ اور شراکت داری پر مبنی تعلقات کو برقرار رکھیں گے اور مزید مضبوط بنائیں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اس پوزیشن میں نہیں کہ دوسرے ممالک کے تعلقات پر اجارہ داری قائم کرے۔دریں اثناء مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں اور اسرائیل کی تازہ دھمکیوں کے بعد تیل کی سپلائی میں مزید خلل پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ان خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ڈیڑھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.76 ڈالر اضافے کے ساتھ 97.39 ڈالر فی بیرل پر تھی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی ا?ئی) کام تیل کی قیمت 1.91 ڈالر اضافے کے ساتھ 92.92 ڈالر فی بیرل پر تھی۔ادھرایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا۔بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی افواج پانچ سو میل دور چلی گئی ہیں آبنائے ہرمز نہیں کھول سکنے کے باعث وہ ایسے اقدامات کر رہی ہیں۔ابراہیم عزیزی کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں میں کئی حملے کیے ہیں۔امریکاکا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔















