کون سا آٹا صحت کیلئے زیادہ مفید ہے؟ ماہرین نے بتادیا

flour

روزمرہ خوراک میں روٹی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور بیشتر افراد کے کھانے میں دن کے دونوں اوقات میں روٹی ضرور شامل ہوتی ہے، تاہم صحت کے ماہرین کے مطابق روٹی کا فائدہ یا نقصان صرف اس کی مقدار پر منحصر نہیں بلکہ اس کے لیے استعمال ہونے والے آٹے کا انتخاب بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مختلف اناج سے تیار کیے جانے والے آٹوں میں غذائی اجزا، ریشہ، لحمیات، کیلشیم اور نشاستہ کی مقدار ایک جیسی نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے آٹے سے تیار ہونے والی روٹی جسم پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرتی۔ مناسب آٹے کا انتخاب وزن کو قابو میں رکھنے، خون میں شکر کی سطح متوازن رکھنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

راگی کا آٹا غذائیت کے اعتبار سے نمایاں

ماہرین صحت کے مطابق راگی کا آٹا غذائیت کے لحاظ سے بہترین انتخابوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں کیلشیم کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ اس کے نشاستے ایسے ہوتے ہیں جو جسم میں نسبتاً آہستہ جذب ہوتے ہیں۔

راگی کا استعمال ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے اور خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسے موسم کی قید کے بغیر خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم کسی بھی غذائی چیز کی طرح اس کا استعمال بھی متوازن مقدار میں ہونا چاہیے۔

باجرہ اور جوار بھی مفید انتخاب

صحت کے ماہرین باجرے اور جوار کے آٹے کو بھی عام گندم کے آٹے کے مقابلے میں بہتر متبادل قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں اناج میں غذائی ریشہ موجود ہوتا ہے جبکہ یہ قدرتی طور پر گلوٹین سے پاک ہوتے ہیں۔

غذائی ریشہ نظام ہاضمہ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے اور کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح میں اچانک اضافے کو کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرد موسم میں باجرے کی روٹی جبکہ گرم موسم میں جوار کا استعمال خوراک میں مناسب تبدیلی لانے کا ایک اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔

چنے کا آٹا پیٹ دیر تک بھرے رکھنے میں مددگار

چنے سے تیار ہونے والا بیسن بھی غذائیت کے اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں لحمیات کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے، جبکہ اس کے استعمال سے خون میں شکر کی سطح نسبتاً آہستہ بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیسن سے تیار کی جانے والی روٹی یا دیگر غذائیں دیر تک پیٹ بھرا رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار کھانے کی خواہش کم ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے یا اسے قابو میں رکھنے والے افراد کے لیے چنے کا آٹا مناسب غذائی انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔

عام گندم کا آٹا میدے سے بہتر، مگر انتخاب میں احتیاط ضروری

گندم کا آٹا عام طور پر گھروں میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ میدے کے مقابلے میں بہتر غذائی انتخاب ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آٹے کی تیاری کا طریقہ اس کی غذائیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

صاف کیے گئے یا بہت زیادہ چھنے ہوئے آٹے میں گندم کا چوکر بڑی حد تک الگ ہوجاتا ہے، جس سے غذائی ریشہ کم ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسی روٹی پیٹ کو بھرنے کے باوجود وہ غذائی فائدہ نہیں دے پاتی جو نسبتاً کم چھنے ہوئے یا مکمل اناج سے حاصل ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وزن بڑھنے یا خون میں شکر کی خرابی کا شکار افراد کے لیے آٹے کے انتخاب پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

میدہ صحت کے لیے کم موزوں قرار

ماہرین صحت کے مطابق میدے سے تیار ہونے والی روٹی اور دیگر غذائیں روزمرہ خوراک میں کم سے کم شامل کی جانی چاہئیں۔ میدہ تیار کرتے وقت اناج کے ان حصوں کو بڑی حد تک الگ کردیا جاتا ہے جن میں غذائی ریشہ اور دیگر اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔

میدے سے بنی غذائیں جسم میں تیزی سے ہضم ہوسکتی ہیں جس کے باعث خون میں شکر کی سطح تیزی سے بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال وزن میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین اسی لیے میدے سے بنی اشیا کو معمول کی خوراک کا مستقل حصہ بنانے کے بجائے ان کا استعمال محدود رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صحت مند خوراک کے لیے صرف روٹی کی مقدار کم کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے استعمال ہونے والے آٹے کی غذائی خصوصیات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ راگی، باجرہ، جوار اور چنے جیسے نسبتاً زیادہ غذائیت رکھنے والے آٹوں کو مناسب مقدار میں خوراک کا حصہ بنانا متوازن غذا کے لیے بہتر انتخاب ہوسکتا ہے، جبکہ میدے اور حد سے زیادہ چھنے ہوئے آٹے کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

مزید خبریں

Scroll to Top