کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی سے خیبر اور گوادر سے چترال تک عوام نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے ذریعے پیٹرولیم لیوی مسترد کردی ہے، حکمرانوں کو عوامی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے 19ویں روز وکلا رہنماؤں کی قیادت میں ریلی کی دھرنا گاہ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے وکلا برادری کا جماعت اسلامی کا ساتھ دینے اور ہڑتال کو کامیاب بنانے پر شکریہ ادا کیا۔
منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں وکلا کا جدوجہد میں شامل ہونا خوش آئند ہے، اگر عوام کے تمام طبقات اسی طرح متحد ہوکر اس تحریک کا حصہ بن جائیں تو حکومت کو پیٹرولیم لیوی سمیت بھتہ ٹیکس ختم کرنا پڑے گا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے، حکمران طبقے کو اپنی شاہ خرچیوں کا سلسلہ بھی ختم کرنا ہوگا۔ عوام پر مسلسل اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو اپنے اخراجات اور مراعات میں کمی لانا ہوگی۔
منعم ظفر خان نے الزام عائد کیا کہ حکمران طبقہ آئی پی پیز کے نام پر قوم سے 1700 ارب روپے وصول کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں آئی پی پیز کے ساتھ بعض معاہدے ختم کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا اور بجلی کے بلوں میں بھی کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کے دوران نہ لاٹھی چارج کیا گیا اور نہ ہی پتھراؤ ہوا، اس کے باوجود کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
منعم ظفر خان نے کارکنوں کی رہائی کے لیے 2 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر گرفتار کارکنان کو رہا نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی کے پاس آئندہ کے لیے مختلف راستے موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کا دفتر بھی موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر پولیس تھانوں کا بھی گھیراؤ کیا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے دعویٰ کیا کہ بلدیہ ٹاؤن اور لانڈھی میں پولیس کی سرپرستی میں دکانداروں سے دکانیں کھولنے کے لیے کہا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسے اقدامات کے بجائے عوامی مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، مذاکرات بھی ہوں گے تاہم دھرنا اپنی جگہ جاری رہے گا۔ حکمرانوں کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
منعم ظفر خان نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن آج آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، جس کے بعد تحریک کے اگلے مرحلے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔















