حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکراتی ٹیمیں تشکیل، پیٹرولیم لیوی کیخلاف دھرنے جاری رکھنے کا اعلان

Meet

لاہور: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے ختم کروانے کے لیے حکومتی وفد نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی، جس کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

حکومتی وفد نے منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ 19 روز سے ملک کے 30 مقامات پر جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور جماعت اسلامی کو دھرنے دینے کا کوئی شوق نہیں بلکہ عوام کو درپیش مسائل کے باعث احتجاج کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 6 سال کے دوران ملک میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، موٹرسائیکل استعمال کرنے والا شہری ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 35 فیصد ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا گیا، جبکہ جب سے پیٹرولیم لیوی نافذ کی گئی ہے، اس مد میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع ہو چکے ہیں، رواں سال حکومت نے بھی لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے زیادہ رقم جمع کی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطالبات میں پیٹرول کی قیمت اور پیٹرولیم لیوی میں کمی، آئی پی پیز سے متعلق معاملات کا حل اور روٹی کی قیمت کم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے ساتھ پیٹرول کی قیمت بھی کم کی جانی چاہیے، جن لوگوں پر براہِ راست ٹیکس عائد نہیں ہوتا، وہ بھی پیٹرول کے ذریعے بالواسطہ طور پر تقریباً 35 فیصد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا مقصد ریفائنریز کو بہتر بنانا تھا، تاہم جنگی حالات میں بھی عوام سے یہ لیوی وصول کی گئی، ملک کے کئی شہروں میں مکمل ہڑتال بھی ہوئی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے دھرنے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات بیک وقت جاری رہیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ری گیسیفکیشن پلانٹس پر بھی کیپسٹی پیمنٹ وصول کی جا رہی ہے جبکہ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک میں 40 فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں اپنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آئندہ مذاکرات میں پیٹرولیم لیوی، پیٹرول کی قیمتوں اور عوام کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز پر بات چیت متوقع ہے۔

دوسری جانب  احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی دونوں چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف ملے، اسی مقصد کے لیے حکومت نے مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے، جماعت اسلامی سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسی قابلِ عمل تجاویز موجود ہیں جن کے ذریعے پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے تو وہ پیش کی جائیں۔ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ملک میں ایسی صورتحال نہیں چاہتی جس سے دشمن فائدہ اٹھائے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر داخلی امن برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے بتایا ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس ایسی تجاویز موجود ہیں جن سے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے، حکومت جماعت اسلامی کی قابلِ عمل تجاویز پر عمل درآمد کرے گی۔

مزید خبریں

Scroll to Top