لاہور:مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر میاں جاوید لطیف نے اپنی ہی جماعت کی پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی سے منظور کروائے گئے اسپیشل سیکورٹی کیس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی اور شفاف انصاف کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نئے قانون کے تحت وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر یہ تن تنہا فیصلہ کرے گا کہ کون سا کیس خصوصی تحفظ کا مستحق ہے۔
اس افسر کی نامزدگی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے، جہاں نہ انکار کی گنجائش ہوگی اور نہ ہی نظرثانی کا حق ہے، ایک غیر منتخب اور غیر شناخت شدہ بیوروکریٹ کو عدلیہ پر یہ بالادستی دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
میاں جاوید لطیف نے سوال اٹھایا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ءاور 2018ءکا گواہ تحفظ قانون پہلے سے ہی ججوں کو بند کمرہ کارروائی اور جیل ٹرائل کا اختیار دیتے ہیں، پھر آزاد ججوں سے یہ اختیار چھین کر ایگزیکٹو کے تابع افسر کو کیوں دیا جا رہا ہے؟۔
وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ افسر کسی بھی حکم سے انکار کی پوزیشن میں نہیں ہوگا اور یہ قانون مستقبل میں سیاسی مخالفین، صحافیوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف انتقامی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 10 A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق دیتا ہے، مگر گمنام ججز، گمنام گواہ اور سربمہر ریکارڈ اس بنیادی حق کو سخت نقصان پہنچائیں گے۔
ایسے اقدامات سے ناصرف ایف اے ٹی ایف جیسے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی گورننس اور رول آف لاءپر سوالات اٹھیں گے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اور عوام کا تحفظ کا احساس بھی متزلزل ہوگا۔















