پیٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاج، حکومتی وفد مذاکرات کیلیے منصورہ پہنچے گا

jamaat

لاہور: پٹرولیم لیوی اور بجلی کے بھاری بلوں سمیت مہنگائی کے طوفان کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے دی گئی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے تناظر میں حکومتی ٹیم اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان اہم مذاکرات آج منصورہ میں منعقد ہوں گے۔

حکومت نے اپنے ناراض اتحادیوں اور عوامی حلقوں کے دباؤ کے پیش نظر جماعت اسلامی کے مطالبات پر غور کے لیے خصوصی وفد تشکیل دیا ہے۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزراء احسن اقبال، علی پرویز ملک، سینیٹر رانا ثناء اللہ اور بلال کیانی شامل ہوں گے۔

جماعت اسلامی کی نمائندگی نائب امیر لیاقت بلوچ کریں گے جن کے ساتھ ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا اور ضیاء الدین انصاری جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔ یہ مذاکراتی ٹیم حکومتی وفد کے سامنے عوام کو درپیش مشکلات اور مہنگائی کے بوجھ پر تفصیلی بات چیت کرے گی۔

مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کے ساتھ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود ہوں گے جو پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بجلی کے نرخوں کے حوالے سے تکنیکی بریفنگ دیں گے۔ حکومت کی جانب سے متوقع ریلیف پیکیج پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اگر حکومتی ٹیم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں تو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں گے۔ یہ ملاقات ظہر کے بعد منعقد ہوگی جس میں ہڑتال کے خاتمے پر بات ہوگی۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی کال پر ملک بھر میں جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔ تاجروں اور عوام کی بڑی تعداد حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پٹرولیم لیوی کو فوری طور پر کم کیا جائے۔

حکومتی وفد مذاکرات میں کامیابی کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے تاکہ ملک میں جاری معاشی کشیدگی اور احتجاجی لہر کو ختم کیا جا سکے، تاہم جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات منوانے تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے جس سے مذاکرات کا نتیجہ انتہائی اہم ہو چکا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top