کراچی: پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے دی گئی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک بھر کے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔
شہر قائد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج بازار اور مارکیٹیں بند ہیں۔ قبل ازیں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاجر تنظیموں نے بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کاروبار بند رکھا۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں فی لیٹر 130 روپے کا ٹیکس سراسر ظلم ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران مراعات یافتہ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ عام آدمی بھاری بجلی کے بلوں اور بے روزگاری تلے دب چکا ہے۔
اُدھر لاہور میں بھی صورتحال کافی کشیدہ رہی جہاں ہڑتال کے دوران پولیس نے ہال روڈ سے ریلی نکالنے والے کارکنان کو گرفتار کیا، جس پر جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر محمد جاوید قصوری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین پر تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی ہڑتال جاری ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے بیشتر تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ راولپنڈی میں بھی کاروباری مقامات بند رہے۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں بھی ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پشاور کے تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کی اور وکلاء نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔















