عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد: یورو بانڈز سے 3 ارب ڈالر فنڈز حاصل

euro-bond

اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی واپسی کو یقینی بناتے ہوئے یوروبانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر کی خطیر رقم حاصل کر لی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ پیش رفت ملکی معیشت پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حکومت نے ساڑھے 5 سال اور 10 سالہ مدت کے یوروبانڈز کے ذریعے یہ فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔ ساڑھے 5 سالہ بانڈ سے 1.75 ارب ڈالر حاصل کیے گئے جس پر کوپن ریٹ 7.50 فیصد رہا، جبکہ 10 سالہ بانڈ سے 1.25 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس کامیابی کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی بانڈ ٹرانزیکشن قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اجرا کے لیے آرڈر بک توقع سے دوگنا رہی، جس میں ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اپریل 2025 سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3 بار بہتری آئی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد نہ صرف موجودہ ملکی حالات بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل پر بھی ان کے پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے جو ایک مثبت اشارہ ہے۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ 3 ارب ڈالر کا یہ اجرا کوئی اچانک فیصلہ نہیں بلکہ تین سالہ طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیرونی فنانسنگ کو مستحکم کرنا، قرضوں کی ری فنانسنگ کو آسان بنانا اور رول اوور رسک جیسے ممکنہ مالیاتی خطرات کو کم کرنا ہے۔

حکومت اب بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مزید متنوع بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس مقصد کے لیے سکوک، ڈالر سیٹلڈ بانڈز اور پانڈا بانڈز کے اجرا پر بھی کام جاری ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کا مالیاتی نیٹ ورک وسیع ہوگا اور بیرونی دباؤ میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

معاشی اصلاحات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک بھر میں ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے، جو ملکی معیشت کو خود کفالت کی جانب لے جانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top