دہلی اسکول، اسلامیہ کالج: کراچی کی تعلیمی شناخت پرحملہ

Syed-Moeen-Abbas-Madani

کراچی محض ایک تجارتی شہر نہیں، یہ علم، تعلیم اور تہذیب کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ اس شہر کی شناخت میں ان تاریخی تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار ہے جنہوں نے کئی نسلوں کو تعلیم دی، کردار سازی کی اور ایسے افراد تیار کیے جنہوں نے ملک و قوم کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لیکن آج کراچی کے دو تاریخی تعلیمی ادارے— دہلی گورنمنٹ اسکول، کریم آباد اور اسلامیہ کالج کمپلیکس جس نوعیت کے قانونی، انتظامی اور ملکیتی مسائل سے دوچار ہیں، وہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتے ہیں: کیا کراچی کے تاریخی تعلیمی اداروں کا تحفظ ہماری ترجیحات میں شامل ہے؟ دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو سیل کیے جانے کے بعد یہ سوال مزید شدت سے سامنے آیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس ادارے میں 2,800 سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم کا تسلسل متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ یہ صرف ایک اسکول کے دروازے بند ہونے کا معاملہ نہیں۔ یہ ہزاروں بچوں کے مستقبل، والدین کی امیدوں اور کراچی کی ایک طویل تعلیمی روایت کا معاملہ ہے۔ دہلی اسکول کی عمارت سے متعلق قانونی یا ملکیتی تنازع اپنی جگہ، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہ معاملہ برسوں سے حکومتی اداروں کے علم میں تھا تو اسے اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے حل کیوں نہیں کیا گیا؟ حکومت اور مالکان کا تنازع اپنی جگہ، لیکن اس تنازع کی قیمت بچوں کی تعلیم کی صورت میں کیوں ادا کی جائے؟

دہلی اسکول: ایک تاریخی تعلیمی روایت؛ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق دہلی گورنمنٹ اسکول کی بنیاد 1964ء میں دہلی اینگلو عربک کالج اینڈ اسکول اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے رکھی تھی۔ تقریباً چھے ایکڑ پر مشتمل اس تعلیمی کمپلیکس میں اسکولوں اور کالج کا نظام قائم ہوا، جبکہ 1972ء میں قومیانے کی پالیسی کے تحت یہ ادارے حکومت کے انتظام میں آئے۔ بعد کے برسوں میں ملکیتی اور انتظامی معاملات کے باعث یہ ادارہ قانونی تنازعات کا شکار رہا۔ 2013ء میں بھی طلبہ، والدین اور اساتذہ نے ادارے کی ممکنہ ڈی نیشنلائزیشن کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ یعنی یہ مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ پھر سوال یہ ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط اس مسئلے کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جاسکا؟ سرکاری اسکول کی وہ کامیابی جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی اسکول کی اہمیت صرف اس کی تاریخ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی تعلیمی کارکردگی کی وجہ سے بھی ہے۔ 1996ء میں دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول کے طالب علم نے کراچی کے میٹرک امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ تقریباً 28 سال بعد 2024ء ایک مرتبہ پھر اس ادارے نے کراچی کے سرکاری تعلیمی نظام کے لیے قابلِ فخر مثال قائم کی۔ 2024ء کے میٹرک سائنس امتحانات میں دہلی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کریم آباد کے طالب علم حافظ عبد الرفیع طارق نے 1,100 میں سے 1,040 نمبر یعنی 94.55 فی صد حاصل کرکے کراچی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی اس لیے غیر معمولی تھی کہ تقریباً 28 سال بعد کراچی کے کسی سرکاری اسکول کے طالب علم نے میٹرک سائنس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہاں حکومت اور معاشرے دونوں کو خود سے سوال کرنا چاہیے: جو ادارہ سرکاری شعبۂ تعلیم کی صلاحیت کا ثبوت بن سکتا ہے، کیا اسے بند ہونا چاہیے یا مزید مضبوط کیا جانا چاہیے؟

اسلامیہ کالج: کراچی کی علمی تاریخ کا ایک اور باب؛ دہلی اسکول کی صورتحال ہمیں اسلامیہ کالج کراچی کے تجربے کو بھی یاد دلاتی ہے۔ اسلامیہ کالج محض ایک تعلیمی عمارت نہیں بلکہ کراچی کی علمی تاریخ کا اہم باب ہے۔ اس ادارے کے مختلف شعبوں سے ہزاروں طلبہ نے تعلیم حاصل کی اور متعدد معروف شخصیات اس ادارے کے علمی ماحول سے وابستہ رہیں۔ 2017ء میں بھی اسلامیہ کالج کمپلیکس کے حوالے سے عدالت میں زیرِ سماعت ملکیتی و بے دخلی کے معاملات کے باعث طلبہ کے مستقبل پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ اس وقت دستیاب رپورٹ کے مطابق کالج کمپلیکس تقریباً پانچ ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا، جس میں 192 کمرے، 15 شعبے اور 60 ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل لائبریری کا ذکر کیا گیا۔ اس سے بھی پہلے 2008ء میں اسلامیہ کالج کمپلیکس سے وابستہ 18 ہزار سے زائد طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر قانونی تنازعات کے باعث تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس وقت طلبہ اور والدین کا مطالبہ تھا کہ حکومت اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ یہ اعداد ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ اسلامیہ کالج کا مسئلہ کبھی محض ایک عمارت کا مسئلہ نہیں رہا۔ اس کے پیچھے ہزاروں طلبہ، اساتذہ، خاندان اور کئی نسلوں کا تعلیمی مستقبل وابستہ رہا ہے۔

اسلامیہ کالج کمپلیکس کی اہمیت صرف اس کے کلاس رومز، لیبارٹریوں اور لائبریری تک محدود نہیں۔ اس تاریخی کمپلیکس میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، زاہد حسین اور بیرسٹر احمد اشرف جیسی اہم شخصیات کی قبریں بھی موجود ہیں۔ معتبر اخباری ریکارڈ میں ان قبور کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ پہلو اسلامیہ کالج کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے تعلیم، تاریخ، علمی روایت اور قومی ورثے کا ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ یہاں ہمیں انتہائی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ایسے مقام کی حفاظت صرف ایک عمارت کی حفاظت نہیں بلکہ علمی اور تاریخی امانت کی حفاظت ہے۔ جن شخصیات نے اپنی زندگی علم، دین، قوم اور ملک کی خدمت میں گزاری، ان کی قبور کی حرمت اور حفاظت بھی ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔ اگر کسی تاریخی تعلیمی کمپلیکس میں موجود ایسی قبور کے تحفظ، احاطے کی دیکھ بھال یا تقدس کے بارے میں سوالات پیدا ہوں تو متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ انہیں فوری طور پر دور کریں۔ علمی شخصیات کی قبور کو محض زمین کا ایک ٹکڑا سمجھنا ہماری تہذیبی اور اخلاقی ذمے داریوں سے غفلت ہوگی۔

کیا یہ محض اتفاق ہے؟ ایک طرف کراچی کا تاریخی اسلامیہ کالج طویل عرصے سے ملکیتی اور انتظامی تنازعات کا شکار رہا، دوسری طرف آج دہلی گورنمنٹ اسکول کے ہزاروں بچے اسی نوعیت کے ایک بحران سے دوچار ہیں۔ ایک ادارے کے طلبہ کا مستقبل طویل قانونی کشمکش سے متاثر ہوا، دوسرے ادارے کے طلبہ آج اسکول کے دروازے بند ہونے کے باعث بے یقینی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کو محض دو الگ الگ واقعات کہہ کر نظرانداز کرنا شاید مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے سے گریز ہوگا۔ جب ایک شہر کے تاریخی تعلیمی ادارے بار بار ملکیت، لیز، کرایے، انتظامی غفلت اور قانونی تنازعات کی زد میں آئیں تو یہ ایک بڑے نظامی مسئلے کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ کہنا شاید سخت محسوس ہو، مگر اگر ریاست اپنے تاریخی تعلیمی اداروں کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو تو اس کا نتیجہ بہرحال تعلیم دشمن ماحول کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

کراچی میں ایسے ادارے صرف عمارتیں نہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر بند کیا جاسکے یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیا جائے۔ ان اداروں کے ساتھ نسلوں کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہاں اساتذہ نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

یہاں طلبہ نے اپنے خواب دیکھے۔ یہاں سے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، صحافی، کھلاڑی، ادیب، دانشور، سیاست دان اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نکلیں۔ اسلامیہ کالج کے فارغ التحصیل افراد میں ظہیر عباس، شاہد آفریدی، حسن عسکری رضوی، مصطفیٰ کمال، منور الزماں، آصف مجتبیٰ اور دیگر معروف شخصیات کے نام رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہی کسی تعلیمی ادارے کی اصل دولت ہوتی ہے۔ اس دولت کو صرف اس لیے ضائع نہیں کیا جاسکتا کہ عمارت کی ملکیت یا انتظامی معاملات بروقت حل نہیں کیے جاسکے۔

حکومتِ سندھ کو اب ایک جامع پالیسی بنانا ہوگی۔ دہلی اسکول کو فوری طور پر کھولنے کے لیے قانونی اور انتظامی راستے اختیار کیے جائیں۔ اسلامیہ کالج سمیت کراچی کے تمام تاریخی تعلیمی اداروں کی ملکیت، لیز، کرایے اور زیرِ سماعت مقدمات کا جامع آڈٹ کیا جائے۔جہاں قانونی تنازعات موجود ہیں، وہاں حکومت کو انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔ ایسے اداروں کے لیے Heritage Educational Institutions Protection Policy تشکیل دی جانی چاہیے تاکہ تاریخی حیثیت رکھنے والے اسکول اور کالج مستقبل میں کسی انتظامی یا ملکیتی بحران کی وجہ سے اپنی تعلیمی شناخت نہ کھو بیٹھیں۔ اسلامیہ کالج کمپلیکس میں موجود تاریخی قبور اور دیگر علمی و تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی واضح اور مستقل انتظام کیا جانا چاہیے۔ اور سب سے اہم: کسی بھی قانونی یا انتظامی تنازع میں طلبہ کی تعلیم کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے

دہلی اسکول کے 2,800 سے زائد طلبہ آج ہم سے سوال کر رہے ہیں۔ اسلامیہ کالج کی کئی نسلوں کے طلبہ اور اساتذہ کی تاریخ ہم سے سوال کر رہی ہے۔ ان تاریخی اداروں کی عمارتیں ہم سے سوال کر رہی ہیں۔ اور اسلامیہ کالج کے احاطے میں آسودۂ خاک علمی شخصیات کی قبور بھی خاموش زبان میں یہی پیغام دیتی محسوس ہوتی ہیں کہ علم کی ان امانتوں کی حفاظت کرو جنہوں نے اس شہر اور ملک کو علم دیا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کراچی میں تاریخی تعلیمی اداروں کا مستقبل تنازعات، مقدمات، بے یقینی اور بندش ہوگا یا تحفظ، ترقی، تعلیم اور نئی نسل کی تعمیر؟ اسلامیہ کالج اور دہلی اسکول کے واقعات ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم وقتی ردِعمل کے بجائے ایک مستقل پالیسی بنائیں۔ ہمیں اسکول اور کالج کی عمارتیں نہیں بچانی؛ ہمیں کراچی کی تعلیمی روح بچانی ہے۔ ہمیں صرف کلاس روم نہیں بچانے؛ ہمیں ہزاروں بچوں کے خواب بچانے ہیں۔ ہمیں صرف تاریخی عمارتیں نہیں بچانی؛ ہمیں اپنی علمی تاریخ اور قومی ورثہ محفوظ کرنا ہے۔ لہٰذا حکومتِ سندھ سے واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے: دہلی گورنمنٹ اسکول فوری طور پر کھولا جائے۔ اسلامیہ کالج کے قانونی و انتظامی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اسلامیہ کالج کمپلیکس میں موجود علمی و تاریخی شخصیات کی قبور کے تقدس اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ اور کراچی کے تمام تاریخی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے۔ کیونکہ کسی شہر کی ترقی صرف نئی سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ شہر اس وقت ترقی کرتا ہے جب وہ اپنی علمی میراث کو محفوظ رکھتا ہے اور اپنی نئی نسل کے لیے تعلیم کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ کراچی کے تاریخی تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہونا محض ایک انتظامی واقعہ نہیں؛ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ کراچی کی تعلیمی شناخت کے زوال کی علامت بن جائے گا۔ اور ہمیں یہ ہونے نہیں دینا چاہیے۔ دہلی اسکول کھولو — اسلامیہ کالج بچاؤ — کراچی کی تعلیمی میراث محفوظ کرو۔ تعلیمی ادارے بند نہیں، نسلوں کے مستقبل کھولتے ہیں۔

 

مزید خبریں

Scroll to Top