سیّد علی گیلانیؒ – تحریکِ آزادی کشمیر کا استعارہ

The plan to make India the policeman

گزشتہ سے پیوستہ
کشمیر کے معاملے میں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ بھی ان کے تعلق کی نسبت جرأت اور مقصدیت پر مبنی تھی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ مل کر استصواب رائے (Plebiscite) کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول سے ہٹ کر اپنے ایک منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس کو روکنے کے لیے سب سے جان دار آواز سیّد علی گیلانیؒ نے بلند کی۔ مقامِ شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنرل پرویز مشرف سے جلد نجات دلا دی اور وہ نامراد منصوبہ خاک میں مل گیا، لیکن سیّد علی گیلانیؒ نے محض اس لیے کہ وہ پاکستانی حکومت کے سربرا ہ تھے، ان کے رْوبرو کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی، بلکہ جس طرح انہوں نے بھارتی حکومت و قیادت کو چیلنج کیا، اسی طرح پاکستان کی قیادت کی کشمیر کے دیرینہ اْصولی قومی مؤقف سے ہٹنے پر اْسے بھی برملا چیلنج کیا اور کشمیری و پاکستانی عوام کی اْمنگوں کی جرأت مندانہ ترجمانی کی۔

اْن کی اِس جرأت و استقامت کا نتیجہ ہے کہ آج سیّد علی گیلانیؒ محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ مظلوم کشمیری عوام کی پون صدی سے زائد پر محیط تاریخی جدوجہد کا عنوان اور سنہری علامت ہیں۔ انہوں نے ایک سرفروش قوم کی رہنمائی، اپنی آزادی کے حصول اور اپنے دین و ایمان اور روحانی و تہذیبی شناخت کے تحفظ و ترقی کے لیے ایک ایسی وحشی۔ قابض۔ غاصب اور ظالم قوت کے خلاف برس ہا برس تک پوری استقامت کے ساتھ جدوجہد کی جس نے عسکری یلغار اور سیاسی عیاری کے بل پر اہل جموں و کشمیر کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور دْنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، خود اپنے ہی عہدو پیماں کو تار تار کرکے ان پر اپنا ظالمانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اس استبداد کے نتیجے میں کشمیری عوام صرف اپنی آزادی اور حق خودارادیت ہی سے محروم نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے جان، مال، آبرو، تہذیبی و ثقافتی اقدار۔ نظریاتی تشخص غرض ہر شے کو تہس نہس اور برباد کیا جارہا ہے۔ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی اور بستیوں۔ کھیتوں و کھلیانوں کی تباہی روزمرہ کا معمول بن گئی ہے۔ جموں و کشمیر کی سرزمین پر مسلمانوں کے خون کی اس ارزانی کی کیفیت کو نسل کشی (Genocide) کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایک طرف ظلم کی نہ ختم ہونے والی خوں چکاں داستان ہے تو الحمدللہ، دوسری طرف ظلم کے اس نظام کو چیلنج کرنے اور تاریکیوں کا سینہ چاک کرکے آزادی کا پرچم بلند کرکے لہرانے اور سرفروشی کے چراغوں کو روشن کرنے کی تابناک اور روزافزوں جدوجہد سے وابستہ سیّد علی گیلانیؒ جیسی عظیم المرتب ہستیاں بھی ہیں، جو تحریکِ آزادی کی شمع کو صبحِ آزادی تک اپنے خون سے جلائے رکھنے کے عزم، حوصلہ اور ہمت کے ساتھ امر ہوجاتے ہیں۔

سیّد علی گیلانی 33 کتابوں کے مصنف ہیں، لیکن ان کی خود نوشت’’ولّر کنارے‘‘ اْن کی ایک منفرد علمی و ادبی کاوش ہے۔ اپنی اِس سوانحِ حیات میں سیّد علی گیلانیؒ نے اپنی مقصدیت سے بھرپور مگر ہنگامہ خیز زندگی کی داستان رقم کی ہے۔ اس آئینے میں پوری کشمیری قوم کی روح پرور اور ایمان افروز مگر نشیب و فراز سے بھرپور زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اِس خودنوِشت کے ذریعے گیلانی صاحب نے ہمیں اپنی زندگی سے روشناس کراتے ہوئے درس دیا ہے کہ جو غم ہمیں ملا۔ غمِ دوراں بنا دیا۔

امر واقعہ ہے کہ خود نوشت ایک سب سے زیادہ نازک۔ حساس اور مشکل صنف ہے کہ اس میں کہیں پوری داستان ’در مَدح خود می گوید‘ کی گردان بن جاتی ہے اور کہیں کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں سب کچھ ہوتا ہے، مگر شخصیت کی اصل تصویر گم ہی رہتی ہے۔ لیکن سیّد علی گیلانیؒ کی خودنوشت میں ان کی اصل شخصیت اپنی تمام تر تابانی کے ساتھ چلتی پھرتی دیکھی جاسکتی ہے۔ صرف ان کا ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن بھی کسی تصنع اور پردہ داری کے بغیر دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی داستان کا اصل محور ان کی اپنی ذات نہیں بلکہ وہ مقصد ِ حیات ہے جس نے ان کی زندگی کو معنویت دی ہے۔ اس داستان کی بے ساختگی، ان کی زندگی کی سادگی، ظاہر اور باطن کی یکسانی، مصائب اور مشکلات پر صبرو استقامت، ورق ورق پر ثبت ہے۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد ِ حیات کی خدمت اور زمانے کے تمام نشیب و فراز کا حکمت، دیانت، حلم اور توازن کے ساتھ سامنا ان کی شخصیت اور جدوجہد کو ایسا حْسن عطا کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام کہا جا سکتا ہے۔ خودپسندی، نفس کی پرستش، انتقام اور حْب ِ دْنیا کا کوئی شائبہ اس زندگی میں نظر نہیں آتا۔

سیّد علی گیلانی جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے دلوں پہ راج کرنے والے رہنما تھے۔ سب سے اہم وصف آپ کے اندر یہ تھا کہ آپ اپنے مخالفین کو بھی اپنے ساتھ چلانا جانتے تھے۔گیلانی صاحب مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ سے خاصے متاثر تھے۔ انہوں نے مولانامودودیؒ کی لکھی تفسیر تفہیم القرآن کو پڑھنے اور نوجوانوں تک اْن کی فکر کو منتقل کرنے کے لیے مرکزی کردار ادا کیا۔ قرآن سے گہرا تعلق اور زندگی کے ہر مرحلے اور ہر موقعے پر قرآن کریم سے استشہاد کا نقش گیلانی صاحب کی تحریر اور تقریر میں بڑا نمایاں ہے۔

بھارت کے سابق را چیف اے ایس دولت نے اپنی کتاب میں گیلانی صاحب کو اپنے عزم پر ڈٹا پختہ لیڈر لکھا ہے۔ اس کے بقول: ’’جب کوئی حْریت کے متعلق کہتا یا سوچتا ہے تو اْس کے سامنے گیلانی ہوتا ہے اور وہ ہمارے لیے اچھی خبر نہیں ہوتی۔ اسی لیے تو سابقہ نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی، گیلانی کے ساتھ بات چیت کے خلاف تھے۔ اس کتاب میں اے ایس دولت نے بتایا ہے کہ ہم نے دیگر حْریت پسند رہنماؤں تک رسائی حاصل کی اور کسی حد تک اْن کو انگیج کرنے میں کامیابی ملی۔ لیکن ایک واحد سید علی گیلانی ہے جس کو ہم انگیج نہیں کر پائے‘‘۔

اللہ تعالیٰ سے دْعا ہے کہ وہ اپنے اِس عظیم بندے سیّد علی گیلانیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، اْن کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اْس کے پْر ہونے کا کوئی سامان پیدا کرے اور جس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کرکے قربان کردی، یعنی تحریکِ آزادی کشمیر کو کامیابی سے ہم کنار کردے۔ 1980ء کے بعد سے بالخصوص تحریکِ آزادیِ کشمیر جس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، وہ دِن دور نہیں کہ اِن شاء اللہ یہ عظیم تحریک ضرور کامیاب و کامران ہوگی، اور ہمارے کشمیری بہن بھائی بالآخر ناجائز بھارتی تسلط سے نجات پائیں گے اور پاکستان اور کشمیر یک جان ہوں گے۔ بقول اقبال:

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

مزید خبریں

Scroll to Top