معاملہ سنگین ہے

Ghazaala-aziz

لیجیے کمیٹی قائم کر دی گئی اب تو کوئی پریشانی نہیں؟؟ ہمارے پاس تو ہر مشکل کا حل یہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کمیٹی قائم کرنے سے عوام کے دکھوں کا درماں ہو جاتا ہے؟ اور بار بار کی انکوائری سے انتظامی مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ پمز میں آگ لگنے سے پہلے ہی فائر سیفٹی کی خامیوں کی نشاندہی ہو چکی تھی مئی 2024 میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے ایمرجنسی اینڈ ڈزاسٹر مینجمنٹ ڈائریکٹریٹ نے پمز انتظامیہ کو خط لکھ کر فائر سیفٹی کے حوالے سے متعدد خامیوں کی نشاندہی کی تھی اور تین ماہ کے اندر اندر ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی یعنی پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق مسائل کی نشاندہی کسی نئی انکوائری کے بعد نہیں بلکہ حالیہ سانحے سے تقریباً دو سال قبل ہو چکی تھی لہٰذا جب مسئلے کا پہلے سے ہی پتا ہو تو انکوائری کمیٹیاں کس بات کر پتا لگائیں گی۔ مسائل کا پہلے سے پتا ہونا اور اس کا تدارک نہ کیا جانا بڑی ناکامی ہے لہٰذا ایسی انکوائریاں دکھاوے تک ہی ہوتی ہیں اور نتائج کے طور پر چند افراد کو معطل کر دیا جاتا ہے جنہیں بعد میں کسی وقت بحال کر دیا جاتا ہے۔ معطل کیے جانے والے افراد کو بھی ممکنہ انجام کا پتا ہوتا ہے لہٰذا انہیں کسی سنجیدہ کارروائی کا خدشہ نہیں ہوتا۔

محسن نقوی پہلے ہی قوم کو نوید دے چکے ہیں کہ ملک کا نظام گل سڑ چکا ہے اوپر سے گرہ کے طور پر مصطفی کمال بھی اپنی تقاریر میں یہی دہرا رہے ہیں۔ جی ہاں نظام گلا سڑا ہوا ہے لیکن کرسی کسی صورت نہیں چھوڑنی؛ چاہے ملک تباہ ہو جائے، کباڑا ہو جائے، عوام جائیں بھاڑ میں۔ سارے مسلط شدہ نمائندے آج کل یہی راگ الاپ رہے ہیں وہ بھی سسٹم میں بیٹھ کر اور سسٹم سے فوائد سمیٹ کر… بات وہی ہے نظام دنیا کا کوئی بھی لے آئیں اگر چلانے والے ایسے ہوں گے تو وہ بھی گل سڑ جائے گا۔

پاکستان کا نظام درست کرنے کے لیے قانون کی بالادستی اداروں کی اصلاح اور شفافیت کا نفاذ لازم ہے امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا قانون ہو تاکہ سب کا احتساب ایک ہی معیار پر ہو یہاں تو عجیب تماشا ہے کہ اس ملک میں قانون سازی کے لیے وہ افراد لائے جاتے ہیں جو خود قانون شکن ہوں، دن دہاڑے سرعام قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوں بلکہ اب تو پاکستان میں یہ بات عام ہو چکی ہے کہ اس ملک میں کوئی جتنا بڑا قانون شکن ہوگا اسی قدر بڑے عہدے پر فائز کیا جائے گا۔ وہ بھی طاقت ور کی اعانت و حمایت سے۔ فارم 47 والے کس کے ذریعے اسمبلیوں میں براجمان ہیں؟؟ ساتھ بیانات بھی دھڑلے سے دے رہے ہیں نظام گل سڑ چکا ہے حکومت کچھ ٹھیک نہیں کر سکتی۔ وزیر صحت سینیٹ کی کمیٹی میں تقریر کرکے کہہ رہے ہیں۔ یہ بیانات دکھاوے کے ہیں اور کمیٹیاں بھی لہٰذا مسئلہ کا حل مزید انکوائری کمیٹیاں قائم کرنا نہیں بلکہ اداروں کو زیادہ خود مختار اور موثر بنانا، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، عوام کی نمائندگی کا احترام کرنا، عدالت کو دباؤ سے آزاد اور فیصلے کرنے میں تیز ہونا تاکہ جواب دہی کا عمل زیادہ موثر انداز میں ممکن ہو سکے حکومت اور طاقت ور حلقوں کو معاملے کی سنگینی و سمجھنا چاہیے۔

اس سے پہلے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو۔۔۔ وہ اس نظام میں تشدد کے ذریعے تبدیلی لانے پر مجبور ہو جائیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کی مہلک اور جان لیوا کمزوریوں کو دور کیا جائے ایسا موثر نمائندگی کا نظام سامنے لایا جائے جو موروثی سیاست کا خاتمہ کرے اور عام آدمی کی شکل میں قابل قیادت سامنے آ سکے۔

مزید خبریں

Scroll to Top