مکہ پیکٹ، دیگر ممالک کی شمولیت: اثرات اور امکانات

Muzaffar-Aijaz

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال روز بروز بدل رہی ہے اور اس کا اثر جنوبی ایشیا اور برصغیر پر بھی بہت گہرا ہے۔ اس لیے تمام ممالک کو اپنے مفادات اور دفاع کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔ امریکا کے ایران پر حملے اور ایران کے ردعمل کے بعد پوری دنیا کی صورتحال بدل رہی ہے۔ ہر خطے میں پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان، بنگلا دیش، بھارت اور دیگر ممالک بھی اپنے ممالک کے لیے مناسب اقدامات کر رہے ہیں۔ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ میں ایک معاہدہ کیا جسے ’’مکہ پیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ناٹو کی طرز پر ہے: ’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘‘۔ اعلان کے مطابق یہ معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔ ابتدا میں بنگلا دیش نے اس میں شمولیت میں دلچسپی لی تھی۔ دنیا کا ہر آزاد ملک اپنے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت یہ ممالک ایسی پالیسیاں اپناتے ہیں جو ان کے لیے بہتر ہوں۔ جس طرح امریکا، یورپی یونین، پاکستان، بھارت یا کوئی اور ملک، سب نے ’’ہمارا ملک پہلے‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔ امریکا اپنے تمام معاملات امریکا کے نام پر کرتا ہے۔ یہی پالیسی برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کا دور یاد کریں، ان کے تمام اقدامات ’’پاکستان فرسٹ‘‘ کی پالیسی کے تحت تھے۔ اور یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے لیے موزوں پالیسی اپنائے۔ بنگلا دیش بھی ’’بنگلا دیش فرسٹ‘‘ کے تحت ایک متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا مرکز قومی مفاد ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلا دیش نے بھی اس مکہ پیکٹ میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

بنگلا دیش کے وزیراعظم کے امورِ خارجہ کے مشیر ہمایوں کبیر نے ایک بیان میں کہا کہ بنگلا دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ کسی معاشی یا دفاعی ڈھانچے میں شمولیت کے امکان کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔ یہ فیصلہ بنگلا دیش کے اپنے مفادات اور عالمی معیشت و تجارت کی بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ ان حالات میں اگر بنگلا دیش اس مکہ پیکٹ میں شامل ہوتا ہے تو اسے دفاع، سیکورٹی اور معاشی مواقع مل سکتے ہیں، لیکن بھارت سے تعلقات اور خارجہ پالیسی میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ بنگلا دیش اس پر غور کر رہا ہے اور مائل بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے اثرات کیا ہوں گے؟ پہلے بنگلا دیش کا جائزہ لیں۔

1۔ دفاعی و سیکورٹی اثرات:- بنگلا دیش کو پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس، ترکی کی ناٹو کی دوسری بڑی فوج، اور سعودی عرب کے دفاعی وسائل تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ مشترکہ تربیت و اسلحہ: ترکی کی دفاعی صنعت، پاکستان کے تجربے اور سعودی فنڈنگ تک رسائی سے بنگلا دیش کی فوجی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے۔ علاقائی توازن: یہ ایک طرح کا ’’اسلامک ناٹو‘‘ بن سکتا ہے۔

2۔ سفارتی و علاقائی اثرات:- بھارت سے تعلقات؛ یہ سب سے اہم سوال ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمولیت سے بنگلا دیش- بھارت تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت پہلے ہی بارڈر کے مسائل اور شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے پر بنگلا دیش سے ناراض ہے۔ وہ پاکستان پر مشتمل بلاک کو پسند نہیں کرے گا۔ یہ بنگلا دیش کے لیے مثبت نکتہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ’’بنگلا دیش فرسٹ‘‘ اور متوازن خارجہ پالیسی کا امتحان ہوگا۔ 90 فی صد سے زائد سنی آبادی کے ساتھ مسلم ممالک کے سیکورٹی فریم ورک میں شمولیت بنگلا دیش کے لیے ’’غیر معمولی‘‘ بات نہیں ہے۔

3۔ معاشی اثرات: حکومت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ ’’قومی مفاد اور بدلتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال‘‘ کی بنیاد پر ہوگا۔ معاہدے میں شرکت سے دیگر فوائد بھی ہوسکتے ہیں یعنی سعودی سرمایہ کاری، ترکی کی دفاعی ٹیکنالوجی، اور پاکستان کے ساتھ تجارت اور عوامی رابطوں میں اضافہ۔ ترسیلاتِ زر، توانائی اور سرمایہ کاری اہم عوامل ہیں۔ وزیراعظم طارق رحمان کا جلد ریاض کا دورہ بھی متوقع ہے۔

4۔ چیلنجز: بنگلا دیش کو اس میں کچھ چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں: ان میں سب سے اہم سیکولر شناخت ہے، بنگلا دیش اور ترکی دونوں سیکولر ریاستیں ہیں۔ انہیں مذہبی اتحاد اور سیکولر شناخت میں توازن رکھنا ہوگا۔ ایران اور دیگر طاقتیں؛ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران ہوا ہے۔ اس سے علاقائی تقسیم بڑھ سکتی ہے۔ بنگلا دیش کے علاوہ ایک ہلکی سی آواز کسی کونے سے آئی تھی کہ ایران کو بھی معاہدے میں شامل کیا جاسکتا ہے، لیکن بعد میں اس کی ایران کی جانب سے تردید ہوگئی۔ اور یہی نکتہ اہم ہے، اس معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ کی خوشی سے بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنا آسان ہے، اس کے علاوہ ایران کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اصل دشمن کو پہچانیں، ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، اس سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ امریکی صدر کیوں خوش ہیں، بنگلا دیش کی شمولیت امریکی مفاد میں رہے گی، اس طرح بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر روک لگانا آسان ہوگا، لیکن ایران کی شمولیت کا مطلب بالکل الٹ ہوگا، فی الوقت یہ معاہدہ ایران کے خلاف پاکستان اور ترکی کے دباؤ میں اضافہ کرکے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو تحفظ دینا لگتا ہے۔ ایران کے شامل ہوتے ہی مشترکہ دشمن بدل جائے گا، ابھی تو ایران ہوسکتا ہے لیکن اس معاہدے میں اس کی شمولیت سے اسرائیل مشترکہ دشمن قرار پائے گا اور امریکا واسرائیل ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

امریکی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکا اس معاہدے کا حامی اسی لیے ہے کہ اس سے مسلم ممالک آپس میں اُلجھے رہیں گے، تاہم یہ بات بھی قریباً یقینی ہے کہ مسلم ممالک اب ماضی کی ایران، عراق، جنگ یا عراق کویت جنگ کی طرح مکمل جنگ میں نہیں الجھیں گے البتہ حملے، احتجاج، جوابی حملے وغیرہ چلتے رہیں گے، گویا کشیدگی کا میدان اسرائیل سے دور لے جاکر مسلم ممالک میں سجا دیا گیا ہے۔ یادش بخیر ستمبر 2025 میں بھی پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ ہوا تھا، اس کا کیا بنا؟؟ اس معاہدے کے بعد تو ایران نے سعودی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا، اس معاہدے کو اسٹرٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کہتے ہیں، یہ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں طے پایا تھا۔ معاہدے کی بنیادی شق: کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا تھی۔ لیکن ایک سال بعد توسیع کرکے ترکی کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اسی طرح 1964 میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان RCD معاہدہ ہوا تھا۔ بعد میں 1985 میں اس کا نام بدل کر ECO رکھ دیا گیا اور مزید ممالک شامل ہوئے۔ جبکہ ناٹو کا معاہدہ مکمل طور پر دفاعی اور فوجی نوعیت کا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کی توسیع روکنا اور کمیونزم کو کمزور کرنا تھا۔ لیکن مکہ معاہدہ صرف دفاعی اور فوجی نہیں ہے۔ اس میں معاشی تعاون بھی شامل ہے۔ اگر اسلامی ممالک کی معاشی طاقت متحد ہو جائے اور وہ عسکری طور پر بھی مضبوط ہوں تو یہ دنیا کے لیے ایک نیا چیلنج بن جائیں گے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ کیا عالمی کھلاڑی مسلم ممالک کو ایک ہونے دیں گے؟؟

مزید خبریں

Scroll to Top