اسلام آباد میں جاری کشمکش

Idaria

پاکستان میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ بہت سے سیاسی پنڈت یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پس ِ پردہ جو کھیل چل رہا ہے، اس میں اصل نکتہ تبدیلی ہے۔ جب سے وزیر ِ داخلہ محسن نقوی نے نظام کی ناکامی کا اعتراف کیا تھا، اس کے بعد سے حکومتی نظام غیر مستحکم نظر آتا ہے اور اس پر کئی حوالوں سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں نئے صوبوں کی بحث نے قومی سیاست کو ایک نئی بحث میں الجھا دیا ہے۔ بہت سے سیاسی اور غیر سیاسی ماہرین نئے صوبوں کے حق میں یا مخالفت میں اپنی اپنی منطق اور دلیلیں دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں بہت زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہے اور وہ اس نکتے پر کوئی سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک تناؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، کیونکہ بظاہر پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں سندھ میں نئے صوبوں کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ وہ خود کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے علٰیحدہ کرے اور صوبہ مخالف تحریک کو آگے بڑھائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟ کیونکہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے خود کو دستبردار کرتی ہے تو اسے آنے والے دنوں میں سخت دباؤ اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بھی ان حالات میں تناؤ کا شکار ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جو موجودہ چیلنجز ہیں، ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اس کا متبادل منصوبہ بھی پس ِ پردہ قوتوں کے پاس موجود ہے اور ایک قومی حکومت کی تشکیل پر زور دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اس کھیل میں کیا پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا؟ عمران خان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں ان کے ساتھ پس ِ پردہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور کچھ معاملات میں ان کے ساتھ مفاحمت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ عدالتوں کی جانب سے عمران خان کو ملنے والے ریلیف کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اصل بحث 28 ویں ترمیم کے تناظر میں ہو رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس پر بہت کمٹڈ ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ انہیں 28 ویں ترمیم میں ساتھ دینا ہے۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز سے انفرادی سطح پر بھی رابطے کیے جا رہے ہیں اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ ہر صورت میں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس ایجنڈے کی حمایت کریں۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ریفرنڈم کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں بھی ایک آئینی ترمیم سامنے لائی جا رہی ہے جس کا مقصد مقامی حکومتوں کے نظام کو صوبوں سے لے کر وفاق کی طرف منتقل کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت تو سمجھوتے کی سیاست کا پہلے ہی حصہ ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی مل کر چلنا ہے اور اسی میں اس کی بقا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس بھی مزاحمت کے آپشن محدود ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کھیل میں محسن نقوی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور وہ اس وقت اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا قومی حکومت سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی یا یہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی، یا سیاسی نمائندوں سمیت ٹیکنوکریٹس بھی اس کا حصہ ہوں گے؟ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے اس فارمولے کی حمایت کریں گے؟ پیپلز پارٹی فی الحال یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سندھ کے معاملے میں نئے صوبوں کی تشکیل پر کوئی بڑا اسٹینڈ نہ لے اور اس معاملے کو کچھ عرصے تک مؤخر کر دے۔ لیکن جب نئے صوبوں کی تشکیل کا سیاسی پنڈورا کھلے گا تو اس میں سندھ کا بھی مقدمہ زیر ِ بحث آئے گا، اور خاص طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک صوبے میں تو نئے صوبوں کی تشکیل ہو اور دوسرے صوبے میں نہ ہو۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ 28 ویں ترمیم کے تحت صوبائی اسمبلی سے نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے جو دو تہائی اکثریت کی شرط موجود ہے، اسے ختم کیا جائے۔ لیکن یہ سب کام آسان نہیں ہے اور سیاسی جماعتیں ان معاملات پر آسانی سے سمجھوتا نہیں کریں گی، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ سمجھوتوں میں بہت آگے تک چلی گئیں تو ان کی سیاسی پوزیشن قومی منظرنامے میں اور زیادہ کمزور ہو جائے گی۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ تینوں بڑی جماعتوں کو ساتھ ملا کر 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے معاملات کو حتمی شکل دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ بھی پس ِ پردہ بات چیت چل رہی ہے اور کچھ لو اور دو کی بنیاد پر معاملات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اصل میں موجودہ حکومت، اپنی کارکردگی کے تناظر میں کچھ نہیں پیش کر سکی ہے۔ یہ حکومت اسٹیبلشمنٹ پر بوجھ بن چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ سیاسی، معاشی اور سیکورٹی مسائل کے حل میں کوئی کلیدی کردار ادا کر سکے۔ مسلم لیگ (ن) میں یہ پریشانی بھی پائی جاتی ہے کہ اس کھیل میں وہ کافی حد تک تنہا ہو چکی ہے اور اس کی سیاست پر بھی بے شمار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر اسلام آباد میں کوئی بڑی تبدیلی لائی جا رہی ہے تو کیا یہ تبدیلی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کر سکے گی اور سیکورٹی سے جڑے مسائل حل کرنے میں مدد دے سکے گی؟اصولی طور پر تو ہمیں نئے انتخابات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اور وہ بھی ایسے انتخابات جو منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر ہوں، تاکہ لوگوں کو یہ حق مل سکے کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ کیونکہ پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کا حل ایک مضبوط سیاسی اور جمہوری نظامِ حکومت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم اس میں کمزوری دکھاتے ہیں تو پھر ہمارے داخلی معاملات اور زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز ایسی مہم جوئی سے گریز کریں جو پاکستان کی داخلی سیاست کو مزید بگاڑ دے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تحمل اور اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ سیاسی دشمنی کے مقابلے میں ایک دوسرے کی سیاسی قبولیت پر زور دیں اور سب کو سیاست کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی جماعت کو دیوار سے لگا کر نہ تو قومی سیاست کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی یہ بحران کا حل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے ایک یا دو ماہ میں اسلام آباد میں جو اسٹیج سجانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے کردار کون ہوں گے اور کس کو کیا کردار دیا جائے گا، اور یہ تمام عمل اسکرپٹ کے مطابق ہو سکے گا یا اسکرپٹ میں کچھ بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اسے ہمیشہ مہم جوئی کی سیاست نے نقصان پہنچایا ہے اور ہم اب بھی ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کے بجائے پرانی غلطیوں کو دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ہمیں مستقبل کی سیاست کی طرف لے جانے کے بجائے ماضی کی سیاست کی طرف دھکیلتی ہے، جس سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔

مزید خبریں

Scroll to Top