تمہارے پاس موسیؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے۔ پھر ذرا اْس میثاق کو یاد کرو، جو طْور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا کہو: اگر تم مومن ہو، تو عجیب ایمان ہے، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے۔ (سورۃ البقرۃ:92تا93)
’’سیدنا ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول کریم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نہ تو تمہیں عطا کرتا ہوں اور نہ تمہیں محروم رکھتا ہوں، میں تو صرف باٹنے والا ہوں کہ جس جگہ مجھے رکھنے کا حکم دیا گیا میں وہاں رکھ دیتا ہوں‘‘۔ (مشکوٰۃ)
تشریح:اس سے معلوم ہوا کہ حاکم وقت، قومی خزانے اور اجتماعی ملکیت کا محض محافظ، نگران اور دیکھ بھال کا ذمے دار ہوتا ہے، وہ سرکاری خزانے میں مالکانہ اختیارات و تصرفات کا ہرگز مجاز نہیں ہوتا۔ اگر امین امانت میں خیانت کرے تو وہ مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں رہتا۔















