شاہ فیصل کالونی میں رینجرز کارروائی کے بعد مبینہ مضر صحت ماوے کا کاروبار دوبارہ شروع

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شاہ فیصل کالونی میں رینجرز کی کارروائی کے بعد کچھ عرصے کے لیے بند ہونے والا مبینہ مضر صحت ماوے کا کاروبار دوبارہ شروع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ماوے کی مبینہ فروخت دوبارہ شروع ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی اور غیرقانونی کاروبار کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً 15 روز قبل رینجرز نے شاہ فیصل کالونی میں کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ماوے کے کاروبار سے وابستہ ڈیلر ریحان عرف بیٹری کو گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران گرفتار شخص کو آئندہ ماوے کی فروخت سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی گئی تھی جس کے بعد علاقے میں مبینہ طور پر ماوے کی فروخت کا سلسلہ رک گیا تھا تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات سے علاقے میں ایک بار پھر مبینہ طور پر ماوے کی فروخت شروع کردی گئی ہے۔ شہریوں کے مطابق کارروائی کے باوجود اگر یہ کاروبار دوبارہ شروع ہوگیا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب مقامی ذرائع کی جانب سے شاہ فیصل تھانے کے ایس ایچ او پر چار لاکھ روپے مبینہ طور پر وصول کرنے کا الزام بھی عائد کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ رقم کی ادائیگی کا معاملہ بلال مکینک نامی شخص کے ذریعے طے کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور پولیس کا مؤقف اس حوالے سے سامنے آنا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق بلال مکینک اس سے قبل بھی مبینہ بھتا خوری کے ایک معاملے میں گرفتار ہوچکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو ماوے کے کاروبار کے ساتھ ساتھ اس کی سرپرستی یا سہولت کاری سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کی بھی شفاف تحقیقات کرنی چاہییں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق رینجرز کی کارروائی کے بعد ماوے کی مبینہ فروخت بند ہونے سے انہوں نے سُکھ کا سانس لیا تھا تاہم دوبارہ کاروبار شروع ہونے کی اطلاعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مضرِ صحت ماوے کی دستیابی بالخصوص نوجوانوں اور کم عمر افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں علاقے کا سماجی ماحول بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام شاہ فیصل کالونی میں ماوے کی مبینہ فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اور بلاامتیاز کارروائی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف وقتی کارروائی کے بجائے ماوے کی تیاری، سپلائی اور فروخت میں ملوث پورے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جائے تاکہ غیرقانونی کاروبار کا مستقل خاتمہ ممکن ہوسکے۔علاقہ مکینوں نے پولیس حکام سے مبینہ رشوت کے الزامات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے کے شواہد ملیں تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Scroll to Top