سرگودھا (صباح نیوز) جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی، بجلی کے بھاری ٹیکسز، آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس اور حکومتی شاہانہ اخراجات کے خلاف 3 ستمبر کو ہونے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی سرگودھا کے تاجروں نے بھرپور حمایت کا اعلان کردیا، جبکہ ڈسٹرکٹ بار سرگودھا کی جانب سے بھی ہڑتال میں شرکت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔اس سلسلے میں سرگودھا میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام تاجر تنظیموں کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر بھر کی مختلف مارکیٹوں اور تاجر تنظیموں کے صدور، جنرل سیکرٹریز اور عہدیداران نے شرکت کی۔ تاجر رہنماؤں نے 3 ستمبر کو ہونے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر جماعت اسلامی سرگودھا ملک فضل الٰہی اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپنے حق کے لیے عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا، حکومت طالب علم سے لے کر ریڑھی بان اور عام شہری تک ہر سطح پر ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ حکمران، وزراء ، مشیر، بیوروکریسی اور اشرافیہ شاہانہ اخراجات میں مصروف ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرول کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اس کے باوجود نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن متعدد مرتبہ عوامی مسائل اور حکومتی ٹیکس پالیسی کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایک لٹر پٹرول پر لیوی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں تقریباً 125 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرول کی قیمت میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ملک فضل الٰہی اعوان نے کہا کہ عوام پٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے بلوں پر ٹیکس، فکس چارجز، صفائی، پانی اور دیگر مختلف مدات میں ادائیگیاں کر رہے ہیں، اس کے باوجود بجلی کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی عوام کے لیے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئی پی پیز کے معاہدوں اور کیپسٹی پیمنٹس کو بھی موجودہ بجلی بحران کی بڑی وجوہات میں شمار کرتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران آئی پی پیز کو تقریباً 1800 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ ایسی بجلی کی ادائیگی بھی کی گئی جو پیدا نہیں ہوئی۔ ان کے بقول بعض آئی پی پیز کے معاہدے ختم کیے جانے سے قومی خزانے کو مالی فوائد حاصل ہوئے، تاہم اب بھی 75 آئی پی پیز کے معاہدے باقی ہیں جن پر جماعت اسلامی سوالات اٹھا رہی ہے۔ضلعی امیر جماعت اسلامی نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے سالانہ تقریباً 605 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ بڑے جاگیردار اور مراعات یافتہ طبقات نسبتاً کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے کے بجائے مراعات یافتہ طبقات پر منتقل کیا جائے۔















