امریکا کی ایران پر بمباری ‘12 افراد شہید‘ 70 سے زاید زخمی، بحرین‘اردن‘عراق‘ امارات اور کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے

لاہور/کراچی(نمائندہ جسارت/اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور عوام پر عائد معاشی بوجھ کے خلاف آج جمعرات کو ملک گیر تاریخی ہڑتال ہوگی، جس کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ کیا جائے گا، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت گراؤ تحریک شروع کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے اٹھارویں روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت پر یقین رکھتی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور تاجروں پر ہڑتال سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے کہا کہ بھلے رات کو گرفتاریاں اور جتنے ظلم کر سکتے ہو کرلو، ہڑتال ضرور ہوگی۔دھرنا سے نائب امیر لیاقت بلوچ اور امیر لاہور ضیا الدین انصاری نے بھی خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر وسطی پنجاب جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور ، کراچی، پشاور ، کوئٹہ ، سکھر ، حیدرآباد، چترال ، جنوبی پنجاب اور سندھ کے کئی دیگر مقامات پر جاری دھرنوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہے، مظاہرین کا جوش و خروش دیدنی ہے اور وہ حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کراچی میں بدھ کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کیا، قبل ازیں انہوں نے کراچی، پشاور، راولپنڈی ، فیصل آباد اور حیدرآباد میں جلسوں سے خطاب کیا اور تاجر تنظیموں سے تین ستمبر کی ہڑتال کی حمایت کی اپیل کی۔ تمام بڑے شہروں اور ملک بھر میں تاجروں کی نمائندوں تنظیموں نے امیر جماعت اسلامی کو کل کی ہڑتال پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ملک کے چاروں اطراف سے لاکھوں افراد پیدل اسلام آباد پہنچیں گے اور جماعت اسلامی کی پوری قیادت کارکنوں کے ساتھ لانگ مارچ میں شریک ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی کی مارکیٹیں ہڑتال کی حمایت کر رہی ہیں اور لاہور کی تمام مارکیٹیں جمعرات کو بند ہوں گی۔ کراچی کی تمام مارکیٹوں کی تنظیموں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ گوجرانوالہ میں امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری کی قیادت میں کامیاب ریلی کا انعقاد ہوا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ ملک بھر میں جاری دھرنوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، پشاور میں چار مقامات پر احتجاج جاری ہے ، کے پی ، سندھ کے مختلف علاقوں اور جنوبی پنجاب میں بھی احتجاجی کیمپ قائم ہیں۔ جماعت اسلامی کی تحریک کی ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی حمایت بڑھ رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو پٹرولیم لیوی پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران ہر مسئلے کا ذمہ دار آئی ایم ایف کو قرار دیتے ہیں، لیکن ہر حکومت ملک کو مزید قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ پاکستان کے قرضے 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ، حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں 1500 ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ پٹرولیم لیوی جاگیرداروں، وڈیروں اور حکمران طبقے سے کیوں نہیں لی جاتی اور اس کا بوجھ غریب کسان، مزدور اور طلبہ کیوں اٹھائیں؟ جنگی حالات کے دوران بھی حکومت نے عوام پر لیوی کا بوجھ بڑھایا، مگر حکمران طبقے کی عیاشیاں کم نہیں ہوئیں، مریم نواز نے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا، ملک میں تخت شاہی چل رہی ہے، عوام کو بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، لاہور میں زیرزمین سفری نظام کیوں نہیں بنایا گیا، اگر تہران میں زیرزمین ٹرین چل سکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ خواتین کو بہتر سفری سہولیات میسر نہیں، پنجاب حکومت کی ترقی صرف اشتہارات تک محدود ہے۔ حکومت تعلیمی ادارے اور ہسپتال فروخت کرکے پورا نظام تباہ کر رہی ہے۔ بجلی کے فکسڈ چارجز (Fixed Charged) پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جو بجلی بنتی ہی نہیں اس کے فکسڈ چارجز عوام سے کیوں وصول کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بینکنگ نظام اور آئی پی پیز پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی قرضوں کے سود کی مد میں تقریباً 9 ہزار ارب روپے ادا کیے جارہے ہیں اور ساڑھے 11 فیصد شرح سود کی لعنت ملک پر مسلط ہے۔ شرح سود میں صرف ایک فیصد کمی سے قومی خزانے میں 597 ارب روپے آسکتے ہیں، مگر غریب مزید غریب اور بینک مافیا مزید طاقتور ہورہا ہے۔ بینکنگ مافیا چینی، آٹا اور آئی پی پیز مافیا کے ساتھ ملا ہوا ہے، آئی پی پیز کے قرضوں کا سود بھی عوام ادا کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک طرف حکومت جماعت اسلامی سے مذاکرات کرتی ہے اور دوسری جانب تاجروں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ہڑتال کے بعد جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور راولپنڈی سمیت ان اضلاع میں بھی دھرنے شروع کیے جائیں گے جہاں ابھی احتجاج نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ ہم حق کے ساتھ ہیں، حق کو ہی فتح ہوگی۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امیر کراچی منعم ظفر خان کے ہمراہ بدھ کو ادارہ نورحق میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس ، آئی پی پیز مافیا ور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد اور تحریک جاری رہے گی ، حکومت کو پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس ختم اور آئی پی پیز سے عوام دشمن معاہدے منسوخ کرنے ہوں گے ، 3ستمبر کی مکمل اور ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال تاریخ ساز ہڑتال ہوگی اور ہڑتال کے بعد ہم اپنا آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ، اسلام آباد لانگ مارچ کی کال ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنے، ملک بھر میں دھرنے پھیلانے کے آپشن موجود ہیں ، آج (بدھ کو) اٹھارویں دن بھی چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے جاری ہیں ، پشاور کا دھرنا 5ددھرنوں میں تبدیل ہو گیا ہے ، حیدر آباد دھرنا 10دن سے جاری ہے ،اندرون سندھ شہروں سمیت چترال جیسے علاقے میں بھی دھرنا جاری ہے ، دھرنوں اور احتجاج میں عوام کی شرکت مسلسل بڑھتی جارہی ہے ، تاجر برادری نے کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول لیوی بھتا اور آئی پی پیز کے خلاف ہماری تحریک اور 3ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کا غیر معمولی اور متفقہ طور پر حمایت کا اعلان کیا ہے ، جس طرح آئی پی پیز کو نوازا جا رہا ہے اور لیوی بھتا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے یہ عوام پر بہت بڑا ظلم ہے اور اس پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے ، اس لیے ہماری تمام پارٹیوں کے سیاسی کارکنوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ، ان سے اپیل ہے کہ ہماری عوامی جدو جہد کا حصہ بنیں کیونکہ یہ جدو جہد 25کروڑ عوام کے دل کی آواز ہے ، مہنگے پیٹرول اور بجلی سے ملک کا ہر شہری سخت پریشان اور بدحال ہے لیکن افسوس کہ حکومت ، وزراء اور حکمران پارٹیوں کو عوام کے مسائل اور مہنگائی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم نے عوام کو شعور دیا کہ حکمران کس طرح ہماری جیبوں میں ڈاکہ ڈال رہے ہیں، یہ شعور اب ملک کے بچے بچے کو ہوگیا ہے ، پاکستان میں ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں اور تقریباََ 5ملین فور وہیکل گاڑیاں ہیں ،موٹر سائیکل غریب اور عام لوگوں کی سواری ہے ، حکمرانوں کے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام نہ بنانے کی وجہ سے خاندان کے کئی افراد ایک بائیک پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، اس غریب طبقے سے حکمران ایک لیٹر پیٹرول پر130روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں وصول کررہے ہیں ، جو سراسر ظلم ہے ، حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں، ان کے پروٹوکولز اور پیٹرول وغیرہ کا سارا بوجھ یہ غریب طبقہ اٹھاتا ہے ،چند آئی پی پیز کو 17سو ارب روپے سے زیاد ہ کی رقم دی اس بجلی کی جوانہوں نے بنائی ہی نہیں ہے، یہ پیسے غریب عوام کی جیبوں سے نکال کر دیے گئے ہیں، ملک میں موجود آئی پی پیز میں بے شمار ایسے لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنی کمپنی کو پاکستان سے باہر رجسٹر ڈ کرایا ہوا ہے ، یہ لوگ اپنی آمدنی کا انکم ٹیکس بھی پاکستان میں ادا نہیں کرتے ، یہ پاکستانی عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے ،حکمران غریب آدمی کو ٹیکس فری نہیں کرسکتے لیکن بڑی بڑی چینی مافیا زجو اربوں روپے کی چینی امپورٹ کرتی ہیں ، ان کو ٹیکس فری کردیا جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں ملک میں شدید مہنگائی ہوگئی ہے ، جماعت اسلامی کی آئی پی پیز کے خلاف جدوجہد سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عالمی عدالت میں چلے جائیں گے لیکن ہماری جدوجہد کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کافائدہ پہنچا، ہمارے دھرنوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں کمی ہوئی ہے ۔حکمران آئے دن یہ راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ ہم مہنگائی میں کمی کردیں گے لیکن ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں 11.2فیصدمہنگائی میں اضافہ ہوچکا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انتظامی یونٹس بنانے اور صوبوں کی تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے ،میں بلاول زرداری سے سوال کرتا ہوں کہ وہ کراچی سے پیپلز پارٹی کی 7نشستوں کے فارم پینتالیس دکھائیں اور ایم کیو ایم نے بھی کراچی کے ساڑھے 5ہزار پولنگ اسٹیشن اور20ہزار سے زائد بوتھ میں سے ایک بھی نہیں جیتی ، لیکن ان کو درجنوں سیٹیں دے دی گئیں ، فارم سینتالیس والے حکمران انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے اتنے بڑے فیصلے نہیں کرسکتے ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اپنی نور اکشتی بند کریں اورسندھی مہاجر دوریاں اور نفرتیں پیدا نہ کریں ،پریس کانفرنس میں نائب امراء کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ، راجہ عارف سلطان ، مسلم پرویز، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ، رکن سندھ اسمبلی محمد فارو ق، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔

مزید خبریں

Scroll to Top