تہران/واشنگٹن/بشکیک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے ایران پر ایک بار پھر حملہ کر دیا، ایران کے مختلف شہروں چابہار،اہواز، قشم اور بندر عباس کے علاقوں پر حملے میں 12 افراد شہید جب کہ 70 سے زاید زخمی ہوگئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق صوبے خورستان میں 7، ایرانی جزیرے سیرک کے قریب شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں 5 افراد شہید ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب 5 سے زاید دھماکے ہوئے، آبنائے ہرمز کے قریب مزید 4 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی بندرگاہی شہر بندرعباس کے مشرق میں بھی دھماکے ہوئے، امریکی فورسز نے جنوب مشرقی ایران میں جیرفت ائرپورٹ پر بھی حملہ کیا۔امریکی فوج کے مطابق ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ شادی کی تقریب پر امریکی حملے کی اطلاعات سے آگاہ ہے تاہم ان کا کہنا تھاکہ وہ کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔اس مؤقف کو امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے بھی دہرایا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ان اطلاعات سے آگاہ ہیں، جن کا ماخذ ایرانی سرکاری میڈیا ہے۔ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ایرانی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والے اس حملے میں 4افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 2 بچے بھی شامل تھے اور 67 افراد زخمی ہوئے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے صرف 2ہفتے دور تھا، اسی لیے امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کردیا۔ سوشل میڈیا پر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے دیے جاتے تو وہ اسے استعمال کرچکا ہوتا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران جنگ میں ’’حیرت انگیز نتائج‘‘ حاصل کررہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سوال بھی اٹھایا کہ کیا آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کردینا چاہیے؟ ادھرایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے بحرین‘اردن‘عراق‘ امارات اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔الجزیرہ کے مطابق ایران نے یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے جواب میں کی ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی یکم ستمبر کو ایران میں مختلف اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں پرنس حسن ائر بیس اور ایک امریکی میرین بیس کو بھاری بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں جن میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکا کو خبردار کیاہے کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس واشنگٹن کے لیے ’ناقابل فراموش سبق‘ موجود ہیں۔ یہ ان کا ایسا پہلا بیان ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے سیاسی شعبے کے نائب جنرل یداللہ جوانی نے عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی دستوں کو نکال دیں، بصورت دیگر انہیں ایران کی جانب سے ’کچل دینے والے‘ فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔الجزیرہ کے مطابق جنرل یداللہ جوانی نے اپنے بیان میں عرب ممالک کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں امریکا کا ساتھ دینے سے خبردار کیا۔انہوں نے خاص طور پر کویت، بحرین اور اردن کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی تو یہ ممالک ایران کی جوابی کارروائی کے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے عرب ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے اور اہلکار ہٹا دیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔جنرل یداللہ جوانی نے خبردار کیا کہ اگر عرب ممالک نے امریکی فوجی موجودگی ختم نہ کی تو ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ان کے بیان میں اس ردعمل کو ’کچل دینے والا‘ قرار دیا گیا ہے۔ادھر ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کو جلد سرپرائز ملے گا،ایران کی نئی حکمت عملی چونکا دینے والی ہوگی، حالیہ حملوں کے بعد ایران جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاذ پر نئی حکمت عملی اختیار کرنے جا رہا ہے جس کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی سخت ہوں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی موجودہ کوششیں اسے اس جہنم سے باہر نہیں نکال سکیں گی جو اس نے خود اپنے لیے پیدا کیا ہے۔ محسن رضائی کے بقول ایران اپنے دفاع اور جوابی کارروائیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی لائے گا اور یہ نئی حکمت عملی میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے سمیت مختلف محاذوں پر امریکا کی بنیادیں ہلا دے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو جلد اس نئی حکمت عملی کے اثرات نظر آئیں گے، ایران صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سفارتی اور اقتصادی محاذوں پر بھی امریکا کا مقابلہ کرے گا۔علاوہ ازیں امریکا اور ایران کے درمیان رات بھر ہونے والے تازہ فوجی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں4ڈالر کا مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جارہی ہے۔دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز مصر کے دورے کے دوران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کی مخالفت کریں اور خطے کے سیکورٹی نظام کی تشکیل نو پر غور کریں۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ گزشتہ چار سالوں میں شی جن پنگ کا مشرق وسطیٰ کا پہلا دورہ ہے، یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امریکی اتحادی اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ مہینوں سے جاری تنازع نے خطے میں تجارت اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔مصر جو خود امریکا کا ایک بڑا دفاعی شراکت دار ہے اور واشنگٹن سے سالانہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد وصول کرتا ہے، حالیہ برسوں میں چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور فوجی تعاون میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق قاہرہ پہنچنے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے چینی صدر کا استقبال کیا جہاں شی جن پنگ نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی تقدیر کا مالک خود ہونا چاہیے اور انہیں ایک نئے علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کی تشکیل پر کام کرنا چاہیے۔صدر شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ چین بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔مزید برآںروس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور آزادی کی لڑائی لڑ رہا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ پہلے جو امن قائم ہوا تھا، وہ دیرپا نہیں ہوسکا۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ملاقات کے دوران پیوٹن نے مسعود پزشکیان سے کہا کہ ماسکو اپنے مفادات کے حصول کی جدوجہد میں ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔پیوٹن نے کہا کہ موجودہ فوجی اور سیاسی صورتحال کے باوجود روس اور ایران اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھیں گے۔اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر پیوٹن کا ایران میں جنگ اور اس کے نتیجے میں عاید ہونے والی پابندیوں کے معاملے پر ماسکو کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ روس اور ایران اسٹرٹیجک شراکت دار ہیں اور ہم امریکا کے یکطرفہ جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکا نے ہمارے طلبہ ، بے گناہ نوجوانوں اور لوگوں کو قتل کیا، جو وہ کررہے ہیں وہ غیرقانونی ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ روس اس میں ایران کو سپورٹ کررہا ہے اور اسی لیے ایران بھی روس کے ساتھ کھڑا ہے۔















