روس ایران کو سپر سونک کروز میزائل کی تیاری میں مدد دے رہا ہے، فنانشل ٹائمز

ussia

لندن: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق روس مبینہ طور پر کئی سال سے ایران کو جدید کروز میزائلوں کی تیاری کے لیے ریم جیٹ ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔ اخبار نے اسے روس کی جانب سے ایران کو حساس اسٹریٹجک عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اہم ترین معلوم واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پروگرام کا کوڈ نام C430L ہے، جو 2023 میں شروع ہوا، اور اس میں روس کے تجربہ کار میزائل ماہرین شامل ہیں۔ پروگرام کا مقصد ایران کو ایسا میزائل نظام تیار کرنے میں مدد دینا ہے جو کروز میزائلوں کو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کے قابل بنا سکے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کے دوران بھی یہ پروگرام جاری رہا، ریم جیٹ ٹیکنالوجی بحری جہازوں کے خلاف اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ سپر سونک کروز میزائل انتہائی تیز رفتاری سے کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو انہیں شناخت کرکے روکنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔

اخبار کے مطابق خلیج میں یہ ٹیکنالوجی ایران کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جدید زمینی اور بحری دفاعی نظام تعینات کر رکھے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایران ریم جیٹ نظام پہلے ہی تیار کرکے اس کے تجربات کرچکا ہے، ابھی تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ روسی مدد سے تیار کیا گیا سپر سونک کروز میزائل عملی طور پر تعینات بھی کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جدید میزائل ٹیکنالوجی میں مبینہ روسی تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹجک اور فوجی تعلقات تیزی سے مضبوط ہورہے ہیں۔

ایران روس کو شاہد حملہ آور ڈرونز فراہم کرچکا ہے، جو یوکرین میں جاری جنگ میں روس کے لیے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایران نے روس کو ان ڈرونز کی مقامی سطح پر تیاری شروع کرنے میں بھی معاونت فراہم کی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق یوکرین اور مغربی حکام نے روس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جاری جنگ کے دوران تہران کو میدان جنگ سے متعلق معاونت فراہم کررہا ہے، جس میں سیٹلائٹ تصاویر، ڈرونز سے متعلق مدد اور ہتھیاروں کے پرزہ جات شامل ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top