مزدور تنظیموں کا ٹریڈ یونینز کنفیڈریشن آف پاکستان کے قیام کا اصولی فیصلہ

labour-org.

کراچی: ملک کی دس بڑی مزدور فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینز نے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان (NTUF) کے زیرِ اہتمام کراچی میں منعقدہ اہم اجلاس میں مزدوروں کو درپیش گھمبیر معاشی و سماجی مسائل، مزدور تحریک کو تقسیم کرنے کی کوششوں اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف ملک گیر سطح پر ٹریڈ یونینز کنفیڈریشن آف پاکستان (Trade Unions Confederation of Pakistan – TUCP) کے قیام کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ تمام متعلقہ تنظیموں کی حتمی منظوری کے بعد کنفیڈریشن کے قیام کا باضابطہ اعلان 29 ستمبر 2026 کو کراچی میں منعقدہ مزدور اجتماع کے موقع پر کیا جائے گا۔

اجلاس میں پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، آل پاکستان یونائیٹڈ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز ، اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز پاکستان (ا ، پاکستان ورکرز فیڈریشن (PWF)، پاکستان ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، وطن دوست مزدور فیڈریشن، ریلوے ورکرز یونین، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن کے رہنماؤں نے شرکت کی ل۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری و نجی اداروں کے مزدوروں کے ساتھ ساتھ غیر منظم شعبے، بالخصوص زرعی مزدوروں، پلیٹ فارم ورکرز اور ہوم بیسڈ ورکرز کو بھی منظم کرتے ہوئے ملک گیر طبقاتی اتحاد کو مضبوط کیا جائے گا۔

مزدور تنظیموں نے زندگی گزارنے کے قابل اجرت، سماجی تحفظ، پنشن، یونین سازی کے حق، محفوظ و صحت مند کام کی جگہ، منصفانہ ماحولیاتی پالیسی، جنسی ہراسانی کے خاتمے، صنفی عدم مساوات کے خاتمے اور دیگر بنیادی مزدور حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، سامراجی مالیاتی اداروں کے تسلط سے نجات اور سرمایہ کے جبر کے خلاف مزدوروں کو شعوری بنیادوں پر منظم کیا جائے گا۔ ایسے ملکی و بین الاقوامی اداروں کو بھی عوامی و مزدور عدالت میں جواب دہ بنایا جائے گا جو مزدور حقوق کے تحفظ کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر مزدور دشمن پالیسیوں اور اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

مزدور تنظیموں نے پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز کو مسلط کرنے کی کوششوں اور مزدور تحریک کو کمزور کرنے کے لیے حکومتی سرپرستی میں بنائی جانے والی نام نہاد اور نمائشی مزدور تنظیموں کی شدید مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزدوروں کے متعلق کوئی بھی قانون حقیقی سہ فریقی مشاورت اور مزدور نمائندگی کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Scroll to Top