دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40 سال تک تیرنے کے بعد بالآخر ختم ہوگیا

1788352341723

دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ قرار دیا جانے والا A23a تقریباً 4 دہائیوں تک سمندری پانیوں میں سفر کرنے کے بعد اب تقریباً مکمل طور پر پگھل کر ختم ہوچکا ہے، یوں کئی برس تک جاری رہنے والا اس عظیم برفانی تودے کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

A23a سنہ 1986 میں انٹارکٹیکا کے فلچنر برفانی شیلف سے الگ ہوا تھا۔ بعد ازاں 1991 میں یہ A23 نامی ایک بڑے برفانی تودے سے جدا ہوا، جس کے بعد اسے A23a کا نام دیا گیا۔

 

اپنے عروج کے زمانے میں A23a کا پھیلاؤ تقریباً 2 ہزار مربع میل تک تھا، جو رقبے کے اعتبار سے بالی کے جزیرے کے لگ بھگ برابر بنتا ہے۔ اس غیر معمولی حجم کے باعث اسے دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ قرار دیا گیا تھا۔

 

نیشنل جیوگرافک کے مطابق A23a نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ویڈل سمندر میں ایک ہی مقام پر گزارا، جہاں اس کا نچلا حصہ سمندر کی تہہ سے ٹکا ہونے کے باعث طویل عرصے تک حرکت نہیں کرسکا۔ تقریباً 3 دہائیوں تک ایک ہی علاقے میں پھنسے رہنے کے بعد یہ برفانی تودہ 2020 میں دوبارہ حرکت کرنے لگا۔

 

سمندری دھاروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے A23a نومبر 2023 میں جنوبی سمندر کے کھلے پانیوں تک پہنچ گیا۔ اس وقت اسے دنیا کا سب سے بڑا حرکت کرنے والا برفانی تودہ قرار دیا جارہا تھا، تاہم کھلے سمندر میں پہنچنے کے بعد اس نے ماہرین کو حیران کرتے ہوئے شمال کی جانب جانے کے بجائے ایک طاقتور سمندری دھارے کا رخ کرلیا۔

 

مارچ 2024 میں A23a ٹیلر کالم نامی طاقتور سمندری گردش میں پھنس گیا، جہاں یہ تقریباً 8 ماہ تک مسلسل گھومتا رہا۔ نومبر 2024 میں اس گرفت سے آزاد ہونے کے بعد برفانی تودہ نسبتاً گرم پانیوں کی جانب بڑھا، جہاں اس کے پگھلنے کا عمل تیز ہوگیا۔

 

مارچ 2025 میں A23a جنوبی جارجیا کے قریب دوبارہ پھنس گیا اور یہ مقام اس کے سفر کا ایک اور اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ اس وقت برفانی تودہ جزیرے سے تقریباً 70 میل کے فاصلے پر موجود تھا۔

 

اس دوران A23a کا حجم مسلسل کم ہوتا رہا اور جون 2025 تک اس کا رقبہ 1200 مربع میل سے بھی کم رہ گیا۔ اس کمی کے بعد وہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ رہنے کا اعزاز بھی کھو بیٹھا۔

 

جنوری 2026 میں حاصل کی گئی مصنوعی سیاروں کی تصاویر میں A23a کے گرد کلوروفل کے بادل بھی دکھائی دیے، جو سمندری ماحول میں اس کے اثرات اور اردگرد موجود حیاتیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنے۔

 

امریکی قومی برفانی مرکز نے مارچ 2026 میں A23a کی باضابطہ نگرانی بھی روک دی، کیونکہ اس کا حجم مقررہ معیار سے کم ہوچکا تھا۔ اس کے بعد مارچ اور اپریل میں حاصل ہونے والی مصنوعی سیاروں کی تصاویر میں برفانی تودے کو کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوکر جنوبی سمندر میں بکھرتے ہوئے دیکھا گیا۔

 

محققین نے بعد میں مزید چھوٹے برفانی ٹکڑوں کی نشاندہی کی اور امکان ظاہر کیا کہ یہ بھی کبھی A23a کا حصہ رہے ہوں گے۔ مئی تک ماہرین مصنوعی سیاروں کے ذریعے اس کے چھوٹے چھوٹے باقیات کا سراغ لگاتے رہے، تاہم تقریباً 40 سال تک سمندروں میں موجود رہنے کے بعد اب سائنس دانوں کا خیال ہے کہ A23a کا بیشتر حصہ پگھل کر ختم ہوچکا ہے۔

 

یوں تقریباً 4 دہائیوں تک انٹارکٹیکا سے جنوبی سمندر تک سفر کرنے والا یہ دیوہیکل برفانی تودہ اب اپنی طویل سمندری داستان کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top