پمز کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے کے باعث 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق بچوں کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری کے قریب نہ تو کوئی عملہ موجود تھا اور نہ ہی آگ بجھانے کے آلات موجود تھے۔ ورثاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب آگ لگی تو نرسنگ اسٹاف غائب تھا، جبکہ ہنگامی طور پر باہر نکلنے کے راستے بھی بند تھے۔ پمز کی نرسری میں نومولود معصوم بچے آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آکر جھلس کر جاں بحق ہوجائیں، اس سے زیادہ دل دہلا دینے والا اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ اور کیا ہوسکتا ہے! یہ محض ایک حادثہ نہیں؛ یہ انتظامی نااہلی، غفلت اور حفاظتی نظام کی ناکامی کے حوالے سے ایک بڑا سوال ہے۔ اسپتال کی ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے؟ اگر آگ اچانک لگی تو نرسری میں موجود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے متبادل راستہ کیوں موجود نہیں تھا؟ اسپتال جیسے حساس ادارے کی نرسری میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، الارم اور بچاؤ کے انتظامات کس حالت میں تھے؟ کیا ان کی باقاعدہ جانچ ہوتی تھی یا کاغذات میں سب کچھ مکمل اور عملی طور پر کچھ بھی موجود نہیں تھا؟ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے سوالات ہیں جو پمز انتظامیہ اور بے حس حکمرانوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ یہ واقعہ کچھ ایسے سوالات بھی پیدا کرتا ہے جو شکوک کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ پمز اس وقت بھی بحث کا مرکز بنا تھا جب عدالتی حکم کے تحت عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز اسپتال بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی پمز میں مطلوبہ طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کے حوالے سے سوالات اور خبریں سامنے آئی تھیں، لیکن ان خدشات کو کتنی سنجیدگی سے لیا گیا، یہ بھی اب تحقیقات کا حصہ ہونا چاہیے۔
ہمیشہ کی طرح حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں پمز کے انتظامی افسران بھی شامل ہیں۔ ایسی تحقیقاتی کمیٹیاں جو ہر سانحے کے بعد خانہ پْری کے لیے بنائی جاتی ہیں، ان کا نتیجہ ہمیشہ چند نچلے درجے کے معمولی افسران کی معطلی کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ لہٰذا تحقیقات اعلیٰ سطحی عدالتی نگرانی میں ہونی چاہیے، جس میں فائر سیفٹی ماہرین، بچوں کے امراض کے ماہرین، انجینئرز اور آزاد قانونی ماہرین بھی شامل ہوں۔
اسلام آباد کے دو بڑے اسپتال بھی اگر حکومت نہیں سنبھال سکتی تو پھر عوام کس نظام سے امید رکھیں؟ افسوس کہ پارلیمنٹ خاموش ہے، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی سب خاموش ہیں وہ اس لیے کہ سندھ میں گل پلازہ کا سانحہ گزرے زیادہ دیر نہیں ہوئی، کل کو کے پی میں بھی ایسا کوئی واقعہ ہوسکتا ہے اس لیے یہ لوگ بھلا عوام کے بچوں کا خیال کیوں کریں گے۔ عدالتی کمیشن کا مطالبہ بھی اب تک سنجیدگی سے سامنے نہیں آیا۔ وزارتِ صحت کی ذمے داری اور نااہلی تو اس سانحے کے بعد واضح ہوچکی ہے، لیکن اقتدار کی سیاست میں جواب دہی ایک بار پھر پس ِ پشت ڈال دی گئی ہے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ کا وزیراعلیٰ بھی صحت کے وزیر کے استعفے کے معاملے پر ان کی حمایت میں سامنے آگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ
اقتدار کے ساتھی ایک دوسرے کو بچانے میں اتنے مصروف ہیں کہ معصوم بچوں کی سسکیاں اور ان کی ماؤں کی آہیں بھی سنائی نہیں دیتیں۔ پمز اسپتال کی نرسری میں معصوم نومولود بچوں کی موت کا سانحہ محض ایک اسپتال میں لگنے والی آگ کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے صحت کے نظام، انتظامی بے حسی اور حکمرانوں کی جواب دہی کے فقدان کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے کسی بھی صورت دھوئیں کے پردے میں چھپایا نہیں جاسکتا۔ 14 معصوم جانیں چلی گئیں، لیکن اب تک نہ آگ لگنے کی اصل وجہ کا حتمی تعین ہوا ہے، نہ ذمے داروں کے نام سامنے آئے ہیں اور نہ ہی کسی اعلیٰ انتظامی افسر سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سانحے کی شفاف تحقیقات اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی قراردادوں کی منظوری یقینا ایک اہم قدم ہے، لیکن افسوس کہ وہاں بھی اصل مقصد سے زیادہ حکومت اور اپوزیشن کی پوائنٹ اسکورنگ نظر آئی۔ سوال یہ ہے کہ جب اسپتال میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی کے باعث معصوم بچے اپنی جانیں گنوا بیٹھیں تو کیا صرف تقریریں، مذمتی بیانات اور قراردادیں کافی ہیں؟ اس معاملے میں اب پارلیمانی کمیٹی سے زیادہ ضرورت ایک آزاد اور بااختیار عدالتی کمیشن کی ہے، جو آگ لگنے سے قبل کی انتظامی صورتحال، ایمرجنسی نظام، فائر سیفٹی، عملے کی موجودگی، باہر نکلنے کے راستوں، فائر فائٹنگ آلات اور اسپتال انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لے اور ذمے داروں کا تعین کرے۔ پمز سانحے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمے داروں کا تعین کیا جائے اور کسی بھی عہدے، جماعت یا
حکومت کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ اگر آج 14 معصوم بچوں کی موت کا حساب نہیں لیا گیا تو کل کسی دوسری نرسری سے پھر اسی ماتم کی خبر آئے گی۔ کیا اس ملک کے لوگ اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ کبھی بلدیہ فیکٹری، کبھی گل پلازہ اور کبھی پمز جیسے اسپتالوں میں جل کر مر جائیں؟ ایسے حکمران جو 11 ارب روپے کے لگژری طیاروں میں عیاشیاں کریں اور عوام ایک لیٹر پٹرول پر 135 روپے کی لیوی (بھتا ٹیکس) ادا کرکے ان کی عیاشیوں کی قیمت پوری کریں، پھر ایسے حکمرانوں سے بھلا خیر کی اُمید ہی کیا رکھی جاسکتی ہے؟ کیا حکمران طبقے اور اشرافیہ کے بچے اگر کسی ایسے اسپتال میں جل کر مر جاتے تو بھی ایسی ہی بے حسی اور ایسی ہی خاموشی ہوتی؟ پاکستانی حکمرانوں کا یہ نظریہ رہا ہے کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اگر کسی حادثے میں دو تین سو لوگ یا ایک آدھ درجن بچے مر بھی گئے تو کیا ہوگیا؟ پاکستانی مائیں ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہیں، دوبارہ ایک دن میں کئی بچے پیدا ہوجائیں گے۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی پمز سانحے پر چند دن مین اسٹریم میڈیا میں واویلا ہوگا، روایتی طور پر چند دن سوگ، کچھ بیانات، ایک کمیٹی اور پھر ہمیشہ کے لیے طویل خاموشی، یہاں تک کہ دوبارہ کوئی دوسرا سانحہ نہ ہوجائے۔ ایسے ظالم، بے حس حکمران ٹولے اور اشرافیہ کیخلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، گزشتہ کئی دنوں سے چاروں صوبوں میں عوامی حقوق، لیوی کے نام پر بھتا ٹیکس کیخلاف دھرنے جاری ہیں عوام کا درد کسی کو ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی اور اس کی دیانتدار قیادت کو ہے، اگر عوام اب بھی اپنے جائز حقوق، نااہل حکمران ٹولے کے ہاتھوں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے نہیں نکلتے تو پھر ایسے دلخراش واقعات کا رونما ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہوگی۔















