’’ہڑتال تو ہوگی!‘‘ یہ جملہ ان دنوں کچھ لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، کچھ کے لیے مذاق کا موضوع اور کچھ کے لیے اسے جماعت اسلامی کی ایک اور سیاسی سرگرمی قرار دینا آسان ہے۔ مگر ذرا ٹھیریے! 3 ستمبر کی ہڑتال کو صرف جماعت اسلامی کے جھنڈے سے مت دیکھیے۔ ذرا ان چہروں کو بھی دیکھیے جو اس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوں گے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ 3 ستمبر کو ہڑتال ہوگی یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ آخر عوام کو ہڑتال تک پہنچایا کس نے؟ یہ سوال ان سوشل میڈیا کے شہزادوں کو شاید اچھا نہ لگے جو دن رات دھرنوں اور ہڑتال کے خلاف دلائل دیتے ہیں۔ لیکن ان سے ایک سوال ضرور بنتا ہے: کبھی غریب کا بجلی کا بل بھی بھرا ہے؟ کبھی مہینے کے آخر میں دس ہزار روپے کا بل ہاتھ میں لے کر سوچا ہے کہ اب بچوں کا راشن آئے گا یا بجلی کا بل جمع ہوگا؟ اگر نہیں تو ذرا غریب کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ کیونکہ غریب جب بولتا ہے تو اس کے پیچھے اکثر بہت طویل خاموشی ہوتی ہے۔ ہماری معاشی حکمت عملی کا ایک شاہکار دیکھیے۔ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والا ایک خاص رعایت کا مستحق ہے، لیکن جیسے ہی میٹر 201 پر پہنچا، گویا گھر میں اچانک اشرافیہ پیدا ہوگئی! ایک یونٹ نے غربت ختم کردی! کمال ہے! اب آپ غریب نہیں رہے۔ ریاست کے حساب میں شاید آپ نے عیاشی شروع کردی ہے۔غریب سوچتا ہے: میں تو وہی ہوں، میری آمدنی وہی ہے، میرے بچے وہی ہیں، میری ضروریات وہی ہیں، پھر صرف ایک یونٹ نے میری معاشی حیثیت کیسے بدل دی؟ مگر نظام کو غریب کی زندگی سے کیا؟ اسے تو صرف میٹر کی ریڈنگ دیکھنی ہے۔
حال ہی میں ایک رکشہ ڈرائیور میرے پاس بجلی کا بل لے کر آیا۔ چہرے پر پریشانی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میٹر ریڈنگ میں مبینہ ہیرا پھیری کے باعث اس کے یونٹس 200 سے تجاوز کرگئے اور بل تقریباً دس ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ وہ تقریباً رو رہا تھا۔کہنے لگا: ’’میں گھر میں چلاتا ہی کیا ہوں؟ پنکھا، لائٹ اور پانی کی موٹر کے علاوہ کچھ نہیں۔ پھر اتنا بل کیسے آگیا؟‘‘ میں اسے کیا جواب دیتا؟
دو سال قبل حافظ نعیم الرحمن نے راولپنڈی میں آئی پی پیز کے خلاف چودہ روزہ دھرنا دیا تو ایک بڑا عوامی سوال سامنے آیا۔ قوم کو معلوم ہوا کہ بجلی کے شعبے میں بعض معاہدوں اور کپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ کس طرح عوام کے بلوں تک منتقل ہوتا رہا۔ اس وقت حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی معاہدے ہیں، حکومت مجبور ہے، کچھ نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی نے کہا: حل موجود ہے۔ دھرنا ہوا، مذاکرات ہوئے، معاہدوں پر نظرثانی کا عمل شروع ہوا اور کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاملات بھی طے کیے گئے۔ پھر حکومت نے خود قوم کو بتایا کہ ان اقدامات سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔ تو سوال یہ ہے: جو کام کل ناممکن تھا، وہ آج ممکن کیسے ہوگیا؟ اور اگر جماعت اسلامی کے اٹھائے گئے سوالات غلط تھے تو پھر حکومت نے مذاکرات کیوں کیے؟ جماعت اسلامی نے راستہ دکھایا، حکومت نے کچھ قدم اٹھائے، فائدہ بھی ہوا، مگر جماعت اسلامی کو کریڈٹ دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ اب پٹرولیم لیوی کا سوال کے بارے میں اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت عوام سے پٹرولیم لیوی وصول کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کا مقصد کیا ہے؟ یہ کہاں خرچ ہوتی ہے؟ اور اس کے بدلے عوام کو کیا ملتا ہے؟ اگر عوام سے برسوں رقم وصول کی جائے مگر اس کے فوائد عام آدمی تک نہ پہنچیں تو سوال تو بنتا ہے۔
حکومت اگر کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، مالی مشکلات ہیں اور ٹیکس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا تو پھر جماعت اسلامی کا سوال بالکل سیدھا ہے: ٹیکس اور لیوی کا بوجھ بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ کیوں نہیں؟ اور اگر راستہ معلوم نہیں تو حافظ نعیم الرحمن کی ٹیم کے ساتھ بیٹھیں۔ وہ صرف تنقید نہیں کریں گے، ہوم ورک کے ساتھ بیٹھیں گے، مسئلہ سمجھائیں گے، اعداد و شمار رکھیں گے اور متبادل راستہ بھی بتائیں گے۔
یہ سب سے بڑا مغالطہ ہے کہ چونکہ 3 ستمبر کی ہڑتال کی کال جماعت اسلامی نے دی ہے، اس لیے یہ صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ ہے۔ بھائی! آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے اختلاف کریں، اس کے طریقۂ احتجاج سے اختلاف کریں، اس کی پالیسیوں کو مسترد کریں، یہ آپ کا حق ہے۔ مگر غریب کے مسئلے سے اختلاف کس بات کا ہے؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بجلی سستی ہونی چاہیے، ٹیکس کا بوجھ کم ہونا چاہیے، پٹرولیم مصنوعات عوام کی پہنچ میں ہونی چاہئیں اور اشرافیہ کی مراعات ختم ہونی چاہئیں تو اس مطالبے کو صرف اس لیے مسترد کردیا جائے کہ اسے ایک سیاسی جماعت اٹھا رہی ہے؟ تو پھر مسئلہ سیاسی جماعت نہیں، ہماری سیاسی نفسیات ہے۔ احتجاج سے اتنی تکلیف کیوں؟ بعض دانشور بڑے اعتماد سے کہتے ہیں: ’’دھرنوں سے کچھ نہیں ہوتا‘‘۔ عرض ہے: اگر دھرنوں سے کچھ نہیں ہوتا تو حکومتیں دھرنوں سے پریشان کیوں ہوتی ہیں؟ اگر احتجاج بے معنی ہے تو احتجاجی آواز ایوانوں تک پہنچتے ہی مذاکرات کیوں شروع ہوتے ہیں؟ اصل سوال احتجاج نہیں، احتجاج کی وجہ ہے۔
3 ستمبر کو شاید کچھ لوگ جماعت اسلامی کے کارکن ہوں گے، کچھ ہمدرد، کچھ عام شہری اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں سیاست سے زیادہ اپنے بجلی کے بل کی فکر ہوگی۔ ان سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شاید درست نہ ہو، مگر ان کے مسئلے کو ایک نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ بجلی کا بل کسی سے سیاسی حلف نامہ نہیں پوچھتا۔ وہ صرف رقم مانگتا ہے۔ مہنگائی کسی سے پارٹی کا جھنڈا نہیں پوچھتی۔ وہ سیدھا گھر کا بجٹ کھاتی ہے۔ ٹیکس کسی سے نظریہ نہیں پوچھتا۔ وہ تنخواہ اور کاروبار سے وصول ہوتا ہے۔ اسی لیے 3 ستمبر کو صرف سیاسی عینک سے نہیں، عوامی عینک سے بھی دیکھیے۔
غریب اسے اپنی زندگی کا ایک اور دن سمجھ کر سڑک پر آئے گا۔ اس کے ہاتھ میں شاید جھنڈا نہ ہو، مگر بجلی کا بل ضرور ہوگا۔ اس کی زبان پر شاید سیاسی نعرہ نہ ہو، مگر دل میں ایک سوال ضرور ہوگا: میں کب تک قربانی دیتا رہوں؟ اور شاید اسی لیے کہنا پڑے گا: ہڑتال تو ہوگی!
3 ستمبر صرف ہڑتال کی تاریخ نہیں۔ یہ اس سوال کی تاریخ ہے کہ: اس ملک میں بجلی کا بل غریب دے گا، ٹیکس غریب دے گا، مہنگائی غریب برداشت کرے گا، قربانی بھی غریب دے گا۔ تو پھر مراعات اور عیاشی کس کے لیے ہے؟ حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے۔عوام کے مطالبات سنیں، مذاکرات کریں، غیر ضروری بوجھ کم کریں، اشرافیہ کی مراعات پر ہاتھ ڈالیں اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دیں۔ ورنہ پھر صرف ایک بات باقی رہ جائے گی: ہڑتال تو ہوگی!















