گزشتہ سے پیوستہ
جمہوری عمل کی ناکامی کے بعد آزادی کی تحریکوں کا مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہونا ایک بڑا نازک مسئلہ ہوتا ہے۔ قوت کے ناقابلِ تصور عدم تناسب کے باوجود کسی نہ کسی درجے میں متوازی قوت کا استعمال ایک حددرجہ حساس معاملہ ہے۔ گزشتہ کم از کم دو سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغربی سامراج کے مقابلے میں ایک خاص مرحلے پر معروف جمہوری قوتیں اور تحریکات بھی جمہوری طریقوں سے ہٹ کر اپنے جائز کاز اور حصولِ آزادی کے لیے راست اقدام اْٹھانے پر مجبور ہوئیں۔ اقوام متحدہ کی ایک سو سے زیادہ رکن ریاستیں وہ ہیں جن کی آزادی میں عسکری جدوجہدکا بھی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری غلبے کے خلاف عسکری جدوجہد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’دہشت گردی‘ (Terrorism) تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن حالیہ دور میں اور خاص طور پر نائن الیون (11 ستمبر 2001ء) کی آڑ میں جنگ ِ آزادی اور دہشت گردی کے درمیان تسلیم شدہ فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ گیلانی صاحب نے تحریکِ آزادی کشمیر کی جدوجہد کے پس منظر میں اس نازک مسئلے پر بڑے اعتدال اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا، دونوں کے جوہری فرق کو دلیل کے ساتھ واضح کیا۔ جائز اور ناجائز حدود کی وضاحت اور اْن اسباب و عوامل کی نشان دہی کی جن کی وجہ سے آزادی کے متوالے دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ان حدود کو بھی نمایاں کیا ہے جن کا احترام اِس پْرخار راستے کو اختیار کرنے کے باوجود ازبس ضروری ہوتا ہے۔ سیّد علی گیلانیؒ نے یہ سب اسلام کے تصورِ جہاد اور آدابِ جہاد کے نظامِ فکر کی روشنی میں نمایاں کیا ہے، جس کا ادراک گیلانی صاحب کو نوجوانی ہی سے ہوگیا تھا اور جس کا اظہار طالب ِ علمی کے دور میں ہی گاندھی جی کے عدم تشدد کے موضوع پر سری نگر میں منعقدہ ایک مباحثے میں انہوں نے کیا تھا۔
گیلانی صاحب کو اپنی طویل تحریکی اور سیاسی جدوجہد میں مخالفت و مخاصمت، قیدوبند، تشدد اور تعذیب کے جن مراحل سے گزرنا پڑا، ان سب آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ کوہِ گراں کی طرح ثابت قدم رہے، حددرجہ ناسازگار حالات میں بھی دعوت کے لیے راستے تلاش کرتے رہے اور سیاست اور دعوت کے طالب علموں کے لیے روشنی کا مینار بنے رہے۔ قابض بھارتی فوج اور فاشسٹ بھارتی حکومت نے ان کے خلاف جسمانی تشدد سے لے کر نفسیاتی دہشت گردی تک کے تمام حربے آزما ئے لیکن ناکامی و نامرادی ہی اْن کا مقدر ٹھیری۔ سیّد علی گیلانیؒ کے خلاف بھارتی سرکار کے ظلم کے تمام حربے اور ہتھیار ناکام ہوئے تو پھر ترغیب و لالچ کے ذریعے اْن کا ضمیر خریدنے کی کوشش کی گئی اور وزارت بلکہ ایک موقع پر وزارتِ اعلیٰ تک کا لالچ بھی دیا گیا، مگر الحمدللہ، ان کے پایۂ ثبات و استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی اور وہ تحریکِ آزادی کشمیر کے بطلِ جلیل بن کر زندگی کی آخری سانس تک غاصب بھارتی حکومت اور فوج کے ظلم و ستم کے آگے ڈٹے رہے اور اِسی حالت میں اپنی جان جاں آفرین کے سپرد کرکے تحریک حریتِ کشمیر کے متوالوں کو یہ پیغام دے گئے کہ
آئینِ جواں مردی حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
سیّد علی گیلانیؒ کی زندگی نسلِ نو کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو دعوتِ حق کے مقاصد، مشن اور اس کے لائحۂ عمل اور مزاج سے روشناس کرانے کے لیے گیلانی صاحب کی حیات و خدمات کا مطالعہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ہمارے لیے زندگی گزارنے کا اصل نمونہ صرف رسولِ پاکؐ کی ذاتِ مبارک اور آپؐ کا اْسوہِ مطہرہ ہے، لیکن یہ بھی اِسی اْسوۂ حسنہ کا کمال ہے کہ جس دور میں بھی جس نے بھی دامنِ مصطفیؐ سے نسبت جوڑلی، وہ خود بھی ایک روشن چراغ بن کر اْبھرا اور اپنے ایمان و ایقان کی روشنی سے طول و عرض کو بھی جگمگاتا گیا۔ اجتماعی زندگی میں کبھی کبھی بڑے نازک موڑ ایسے بھی آتے ہیں کہ جن میں انسان سے سہو و خطا سرزد ہوجاتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی گیلانی صاحب کی پوری زندگی مکمل یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ اپنے مقصد سے لگن اور اپنے مشن سے وفاداری کے ساتھ بندھی ہوئی نظر آتی ہے، بشری تقاضوں کے تحت اگر کہیں کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو انہوں نے اسے درست کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔
پاکستان اور کشمیر کو یک جان دیکھنا سیّد علی گیلانیؒ کی زندگی کا مقصد تھا۔ اْن کا مشہور نعرہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ آج بھی کشمیری و پاکستانی عوام کے دِلوں کی دھڑکن ہے۔ گیلانی صاحب کشمیر کا مستقبل پاکستان اور صرف پاکستان سے وابستگی میں دیکھتے تھے، لیکن اس کی بنیاد علاقائیت نہیں بلکہ اسلام اور دو قومی نظریہ تھا۔ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جس شخص نے سب سے زیادہ ہمت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کیا اور پھر اس کی آواز پر کشمیر کے نوجوانوں اور عوام نے اْن کا ساتھ دیا، وہ علی گیلانی ہی تھے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں سیّد علی گیلانی سے بڑا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ سیّد علی گیلانیؒ اگرچہ اپنے خواب کی حتمی تعبیر تو نہ دیکھ سکے، لیکن اس حیثیت سے وہ ایک کامیاب انسان کی طرح آخری لمحے تک اپنے مقصد ِ زندگی کے لیے قربانیاں دیتے دیتے اِس دارِ فانی سے رْخصت ہوگئے، کبھی کمزوری نہیں دکھائی اور جاتے جاتے اس مقصد سے وابستگان کی ایک مستعد اور متحرک نسل چھوڑ کر گئے۔
(جاری ہے)















