ہمارے بچوں کے مدرسے میں اگر کبھی استاد سے متعلق کسی سزا کی شکایت سامنے آتی ہے تو ہم فوری ردعمل دینے کے بجائے چند دن انتظار کرتے ہیں۔ پھر یا تو ایک مہذب پیغام کے ذریعے بات کرتے ہیں، یا والدِ محترم خود منتظمین سے ملاقات کرتے ہیں۔ جس ادارے میں استاد کو چاک ہاتھ میں پکڑ کر پڑھانے کی اجازت نہ ہو کہ کہیں غصے میں وہی چاک بچے کو نہ لگ جائے، وہاں ایسی شکایت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
ہماری شکایت پر ہمیشہ مناسب اور مثبت ردعمل آتا ہے۔ لیکن دوسری طرف، ہم اپنے بچوں کو بھی یہی سمجھاتے ہیں کہ استاد بلاوجہ ناراض نہیں ہوتے۔ اپنی اصلاح پر توجہ دو، ان کی شکایت کو سنجیدگی سے لو، اور ان کے ادب و احترام میں کوئی کمی نہ آنے دو۔ اس طرح دو طرفہ رویے اصلاح کی طرف بڑھتے ہیں اور تعلیمی ماحول میں بہتری آتی ہے۔
اس تمہید کی اصل وجہ حال ہی میں کراچی کے ایک نجی اسکول میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ہے، جہاں ایک بچی کو کھڑا کرنے کی سزا دینے پر ایک ٹیچر پر جسمانی تشدد کیا گیا۔ اس واقعے میں بچی، اس کے والدین اور ایک بااثر رشتہ دار نے نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال کیا بلکہ طاقت کے نشے میں اخلاقی حدود کو بھی پامال کیا۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد پر تشدد نہیں تھا، بلکہ اس سے باپردہ طالبات اور اساتذہ کے وقار کو مجروح کیا گیا، اور والدین کی تربیت پر بھی سنگین سوالات اٹھے۔ اس تشدد کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ اس وقت ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں ۔پستول کے زور پر تشدد کرنے والے کانسٹیبل ماموں کی ملازمت معطل کر دی گئی ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک استاد کو سب کے سامنے بےعزت کرنا اور مارنا کس طرح قابلِ تلافی ہے؟ کیا طاقت کا نشہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو جائز بنا دیتا ہے؟ اس پرتشدد واقعے نے اصل شکایت — یعنی طالبہ کو سزا دیے جانے — کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
بحیثیت سٹی کونسلر جماعت اسلامی اظہارِ یکجہتی کے طور پر اساتذہ، طالبات اور والدین کے ساتھ احتجاج میں شرکت کی اور میڈیا کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا۔یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ اسکول انتظامیہ کی بے تدبیری اور ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے الزام ان پر ہی آ گیا۔ جس تحفظ کی توقع طالبات کو انتظامیہ سے تھی، وہ اس واقعے نے چھین لی۔ اسکول کی ساکھ بچانے کے لیے انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی، مگر سوشل میڈیا مہم نے تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اساتذہ، والدین اور طالبات کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور ملزمان کو گرفتار کیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ اساتذہ اسکول کے چند ذمہ داران کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا بھی اپنا مؤقف ہے۔
اس واقعے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بچوں کی اخلاقی و معاشرتی تربیت کے خلا کو بھی محسوس کیا جانا چاہیے۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو مل کر اس بات پر کام کرنا ہوگا کہ بچوں کی تربیت ایسی ہو کہ وہ کسی بھی غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی رویے سے گریز کریں ،معاشرے میں اختیارات کا ناجائز استعمال ایک قابل نفرت عمل ہی نہ بنے بلکہ اور ایسا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ایسا فرد دس بار سوچے ۔














