زہرِ قاتل

دروازے پر لگی تختی پر لکھا ہے: “علم روشنی ہے۔” مگر اس روشنی کی دہلیز پر کہیں ایک ایسا اندھیرا بھی کھڑا ہے جو خاموشی سے نسلوں کو نگل رہا ہے۔

صبح کی پہلی گھنٹی بجتی ہے۔ یونیفارم میں ملبوس طلبہ کلاسوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ کندھوں پر بستے ہیں، ہاتھوں میں کتابیں اور آنکھوں میں مستقبل کے خواب۔ مگر انہی چہروں کے درمیان چند ایسے بھی ہیں جو جیب میں قلم کے ساتھ ایک چھوٹی سی ویپ بھی رکھتے ہیں؛ رنگین، خوشبودار اور بظاہر بے ضرر۔ اس کا دھواں چند لمحوں کے لیے فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے، مگر اس کے اثرات نوجوان ذہنوں میں برسوں تک باقی رہتے ہیں۔

یہی ہمارے عہد کا سب سے خوفناک المیہ ہے کہ منشیات اب تاریک گلیوں کا راز نہیں رہیں، بلکہ علم کے ایوانوں تک جا پہنچی ہیں۔ انہیں اب زہر کہہ کر نہیں بیچا جاتا، بلکہ “اسٹرابیری”، “بلو بیری”، “منٹ” اور “چاکلیٹ” جیسے دلکش ناموں میں پیش کیا جاتا ہے۔ ذائقہ بدل گیا، پیکنگ بدل گئی، مگر انجام آج بھی وہی ہے—برباد ہوتا ہوا انسان۔

آج کا نوجوان ایک عجیب کشمکش میں زندہ ہے۔ اس پر کامیابی کا دباؤ ہے، مقابلے کی دوڑ ہے، سوشل میڈیا کی مصنوعی چمک ہے اور تنہائی کا بوجھ ہے۔ وہ مسکراتا ضرور ہے، مگر ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خاموش جنگ بھی لڑ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں جب کوئی دوست یہ کہتا ہے، “صرف ایک بار آزما کر دیکھو، کچھ نہیں ہوتا” تو اکثر ایک لمحے کا فیصلہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

منشیات فروش نوجوانوں کی نفسیات کو خوب سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اس عمر میں تجسس زیادہ ہوتا ہے اور انکار کمزور۔ اسی لیے وہ تعلیمی اداروں کے آس پاس اپنے جال بچھاتے ہیں۔ پہلے مفت نمونہ، پھر رعایت، پھر عادت، اور آخرکار ایسی غلامی جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔

سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ زہر صرف جسم کو نہیں، خوابوں کو بھی مارتا ہے۔ ایک ہونہار طالب علم کی کتابیں بند ہونے لگتی ہیں، حاضری کم ہونے لگتی ہے، نتائج گرتے ہیں، رویے بدلتے ہیں، اور ایک دن وہی نوجوان، جس سے والدین نے ہزاروں امیدیں وابستہ کی تھیں، اپنی ہی زندگی سے بے تعلق ہو جاتا ہے۔

آخر قصوروار کون ہے؟

کیا صرف وہ نوجوان جس نے پہلی بار نشہ آزمایا؟

یا وہ منشیات فروش جس نے اسے یہ زہر دیا؟

یا وہ معاشرہ جس نے نوجوانوں کو سننے کے بجائے صرف انہیں ڈانٹنا سیکھا؟

یا وہ والدین جو بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر ان کے دل کی خبر نہیں لیتے؟

یا وہ تعلیمی ادارے جہاں کردار سازی کے مقابلے میں صرف امتحانی نتائج اہم ہو گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کے چھاپوں میں نہیں، بلکہ گھروں کے ماحول میں بھی پوشیدہ ہے۔ بچے کو موبائل دینے سے پہلے وقت دینا ہوگا، اس کی جیب خرچ سے پہلے اس کے دوستوں کو جاننا ہوگا، اس کے نمبروں سے پہلے اس کے ذہنی سکون کی فکر کرنی ہوگی۔ استاد کو صرف سبق نہیں، زندگی بھی پڑھانی ہوگی، اور حکومت کو قانون صرف بنانا نہیں بلکہ اس پر بلاامتیاز عمل بھی کرانا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں منشیات سے آگاہی مہم، نفسیاتی مشاورت، کھیل، ادبی سرگرمیوں اور ہنر مندی کے مواقع بڑھانے ہوں گے تاکہ نوجوان اپنی توانائی مثبت میدانوں میں صرف کریں۔ ایک مصروف اور بااعتماد نوجوان منشیات فروش کا آسان شکار نہیں بنتا۔

یہ جنگ صرف حکومت کی نہیں، ہر گھر، ہر استاد، ہر والدین اور ہر باشعور شہری کی ہے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے اپنے نوجوانوں کو اس زہر سے نہ بچایا تو کل شاید ہمارے پاس عمارتیں تو ہوں گی، مگر ان میں روشن مستقبل تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
کیا ہم اپنی درس گاہوں میں علم کی خوشبو باقی رکھنا چاہتے ہیں، یا خوشبو میں لپٹے اس زہر کو اپنی آنے والی نسلوں کی تقدیر بننے دیں گے؟

فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے، کیونکہ کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top