اسلامو فوبیا محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی زہریلی سوچ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بلاجواز خوف، نفرت اور تعصب پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی ناسور ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلم کمیونٹی کو امتیازی سلوک، نفسیاتی دباؤ اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جب کسی مسلمان کو صرف اس کے نام، لباس یا عقیدے کی بنیاد پر ہدف بنایا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف انفرادی ظلم ہے بلکہ یہ پوری عالمی برادری کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس نفرت کی وجہ سے مغربی معاشروں میں عام مسلمانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور سماجی زندگی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس دن کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں 15 مارچ 2019 کے اس سیاہ دن کو یاد کرنا ہوگا، جب نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 51 بے گناہ نمازیوں کو محض اس لیے شہید کر دیا گیا کہ وہ مسلمان تھے۔ اس سانحے نے ثابت کیا کہ اسلام کے خلاف نفرت کس حد تک وحشیانہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے 2022 میں اس دن کو “اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن” کے طور پر تسلیم کیا، تاکہ دنیا اس بڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف متحد ہو سکے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت کا بیج جب بویا جاتا ہے تو اس کا انجام معصوم انسانوں کے خون کی صورت میں نکلتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں اسلامو فوبیا کی آگ بھڑکانے میں مغربی میڈیا اور وہاں کی سیاسی اپروچ کا کردار سب سے زیادہ منفی رہا ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ اور مستند تحقیق (Centre for Media Monitoring) کے مطابق برطانوی میڈیا میں مسلمانوں سے متعلق دکھائی جانے والی خبروں میں سے تقریباً 59 فیصد خبریں منفی رجحان رکھتی ہیں، جبکہ ہر تین میں سے ایک خبر میں مسلمانوں کے حوالے سے جان بوجھ کر غلط بیانی کی جاتی ہے۔ یہی حال مجموعی طور پر پورے مغرب کا ہے، جہاں “اظہارِ رائے کی آزادی” کے نام پر صرف مسلمانوں کی مقدسات کو نشانہ بنانا جائز سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیگر حساس موضوعات پر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ فرانس میں حجاب اور عبایا پر پابندی ہو یا کئی یورپی ممالک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغرب کی لبرل اقدار مسلمانوں کے معاملے میں آ کر دم توڑ دیتی ہیں۔
مغربی ممالک کی یہ عمومی اپروچ کہ “مسلمانوں کو زبردستی ان کے کلچر میں ضم کیا جائے”، دراصل ان کی مذہبی شناخت مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ کینیڈا سے لے کر جرمنی تک، مسلمانوں کو اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور میڈیا میں انہیں ایک “مسئلے” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ جب کوئی غیر مسلم سنگین جرم کرے تو اسے “ذہنی مریض” کہہ کر اس کا دفاع کیا جاتا ہے، لیکن وہی فعل اگر کسی مسلمان سے سرزد ہو تو میڈیا اسے فوراً “اسلامی دہشت گردی” کا لیبل دے کر پورے مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ یہی وہ “میڈیا بائیس” اور دہرا معیار ہے جو عام مغربی ذہنوں میں اسلام کا ایک خوفناک عکس پیش کر رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
ان حالات میں مسلم نوجوانوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اب وقت صرف شکایات کرنے یا دفاعی پوزیشن میں رہنے کا نہیں بلکہ میدانِ عمل میں نکل کر اپنا بیانیہ (Narrative) خود تیار کرنے کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلامو فوبیا کے اس طوفان کے سامنے سب سے مضبوط ڈھال ہمارا اپنا “کردار” ہے۔ ہمیں صرف باتوں سے نہیں بلکہ ایک باعمل مسلمان بن کر دنیا کو دکھانا ہوگا کہ اسلام امن، دیانتداری اور انسانیت کا مذہب ہے۔ جب ہمارا قول اور فعل اللہ کے احکامات کے مطابق ہوگا، تو ہمارے اخلاق کی روشنی خود بخود نفرت کے اندھیروں کو مٹا دے گی۔
اسلامو فوبیا کے خلاف یہ جنگ محض نعروں سے نہیں بلکہ علم، شعور اور کردار سے جیتی جائے گی۔ ہمارا بہترین جواب ہمارا بلند اخلاق اور تعلیمی برتری ہونا چاہیے۔ جب مسلم یوتھ دنیا بھر میں سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانیت کی خدمت میں مثال بنے گی، تو نفرت کے سوداگر خود بخود ناکام ہو جائیں گے۔ مسلم نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبوں میں مہارت حاصل کریں تاکہ دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کا جواب دلیل اور حقائق سے دیا جا سکے بلکہ عملی طور پر ایک سچا مسلمان بن کر اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کریں۔ 15 مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت کا اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا ہو، سچائی، محنت اور اتحاد کا ایک چراغ اسے ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















